سوات خودکش حملے کا مقدمہ درج، ہلاکتیں 17 ہوگئیں

حملے میں زخمی ہونے والے 13 پولیس اہلکار اسپتال میں زیر علاج
شائع 03 اگست 2026 12:38pm

ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) میں درج کر لیا گیا ہے، جبکہ اسپتال میں مزید دو زخمی پولیس اہلکاروں کے دم توڑ جانے کے بعد شہدا کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والے 13 پولیس اہلکار اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سی ٹی ڈی تھانہ سوات میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعے کے وقت کبل چوک میں پاسون تنظیم کا احتجاج جاری تھا، جو شام 4 بجے شروع ہوا تھا۔ ایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ شام 6 بج کر 4 منٹ پر تھانہ کبل کے مرکزی گیٹ پر زور دار خودکش دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار اور شہری شہید و زخمی ہوئے۔

ایف آئی آر میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ حملہ علاقے میں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر مظفر اور اس کے دیگر ساتھیوں کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔

پولیس نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

سوات پولیس کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے سپاہی مکرم خان اور سپاہی حسین خان دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے، جس کے بعد خودکش حملے میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 17 ہوگئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے 13 پولیس اہلکار مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔