دوسرا ٹیسٹ: پاکستانی بولرز کا شاندار کم بیک، ویسٹ انڈیز کی ٹیم 344 رنز پر ڈھیر
پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 344 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ میزبان ٹیم کی جانب سے جسٹن گریوز اور روسٹن چیز نے نصف سنچریاں اسکور کیں جب کہ پاکستان کی جانب سے آف اسپنر ساجد خان 4 وکٹیں حاصل کرکے سب سے کامیاب بولر رہے۔
پورٹ آف اسپین میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور پہلی اننگز میں 344 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی، جو اس سیریز میں کسی بھی ٹیم کا اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔
کھیل کے دوسرے روز ویسٹ انڈیز نے اپنی نامکمل اننگز 239 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی تو جسٹن گریوز اور روسٹن چیز کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت ٹیم کے مجموعی اسکور میں مزید 105 رنز کا اضافہ کیا۔
جسٹن گریوز 73 رنز بنا کر نمایاں رہے جب کہ روسٹن چیز نے 70 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ اس کے علاوہ برینڈن کنگ نے 46، شائی ہوپ نے 29، عامر جنگو 26، تیگ نارائن چندرپال 15 اور کیوم ہوج 10 رنز بنا سکے۔
پاکستانی بولرز نے دن کے آغاز میں جلد وکٹ لینے کی کوشش کی تاہم روسٹن چیز نے محمد علی کو دو خوبصورت چوکے لگا کر دباؤ کم کیا۔
اس موقع پر کپتان بابر اعظم نے نئی گیند بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان کو تھمائی، جنہوں نے اپنی پہلی ہی گیند پر جسٹن گریوز کو آؤٹ کر دیا۔ گریوز کا کیچ شارٹ تھرڈ پر موجود اویس ظفر نے لیا۔
روسٹن چیز نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور کیمار روچ کے ساتھ ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا تاہم نئی گیند سے دن کا پہلا اوور کرانے والے عبید شاہ نے اپنی پہلی ہی گیند پر شاندار کراس سیم ڈلیوری کے ذریعے روسٹن چیز کو بولڈ کر دیا۔
شمار جوزف زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکے اور ساجد خان نے انہیں آؤٹ کر دیا جب کہ کیمار روچ اور جیڈن سیلز نے لنچ سے قبل مزید 18 رنز جوڑ کر پاکستان کو کچھ دیر مزید انتظار پر مجبور رکھا۔
آخرکار ساجد خان نے اضافی باؤنس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جیڈن سیلز کی وکٹ بھی حاصل کر لی اور ویسٹ انڈیز کی اننگز 344 رنز پر اختتام پذیر ہوئی۔
پاکستان کی جانب سے آف اسپنر ساجد خان نے سب سے کامیاب بولر ثابت ہوتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں جب کہ محمد علی، عبید شاہ اور علی عثمان نے 2، 2 وکٹیں اپنے نام کیں۔
میچ کے دوران پاکستان کو ایک تشویش کا سامنا بھی کرنا پڑا، جب شارٹ لیگ پر فیلڈنگ کرنے والے اذان اویس کندھے پر گیند لگنے کے باعث زخمی ہو گئے اور انہیں میدان چھوڑنا پڑا۔
ویسٹ انڈیز کے 344 رنز کے جواب میں اب پاکستان کی بیٹنگ لائن کو مضبوط آغاز کرتے ہوئے پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کپتان بابراعظم کا کہنا تھا کہ ٹاس جیتتے تو ہم بھی پہلے بیٹنگ ہی کرتے، پلان سادہ ہےخود پر بھروسہ ہے اور مثبت کرکٹ کھیلیں گے۔
میزبان کپتان روسٹن چیز کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں ہوم گراؤنڈ کو اپنا قلعہ بنائیں، ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ یاد رہے کہ ویسٹ انڈیز کو دو میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل ہے۔
















