'ورلڈ کپ برائے فروخت'؛ فیفا کا 20 ارب ڈالر کا متنازع منصوبہ کیا ہے؟
فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے نئے ذیلی ادارے ’فیفا فارورڈ انٹرپرائز‘ کے 20 فیصد شیئرز نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس ادارے کی ممکنہ مالیت تقریباً 20 ارب ڈالر لگائی گئی ہے جب کہ فیفا اسکے ذریعے 4.2 ارب ڈالر تک آمدن جمع کرنے کا خواہاں ہے۔ مختلف فٹبال ایسوسی ایشنز نے اس منصوبے کو فٹ بال کی روح کا سرمایہ کاروں کے ساتھ سودا قرار دیا ہے۔
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے منگل کے روز ایک منصوبے کی تجویز دنیا کے سامنے رکھی ہے، جس کے مطابق وہ ’فیفا فارورڈ انٹرپرائز‘ کے نام سے 20 ارب ڈالر مالیت کا ایک ذیلی ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
فیفا کے مطابق یہ ادارہ مینز اور ویمن ورلڈ کپ سمیت مختلف خطوں میں ہونے والے بڑے ٹورنامنٹس کے تمام تجارتی اور ایونٹ آپریشنز کا انتظام سنبھالے گا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے حالیہ ورلڈ کپ کے بعد فیفا کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سرمایہ کار کمپنی ’تھرائیو کیپیٹل‘ اس منصوبے کے لیے سرمایہ کاروں کی تلاش میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ’تھرائیو کیپیٹل‘ جوشوا کشنر کی ملکیت ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بھائی ہیں۔
جیانی انفانٹینو اپنے 11 برس کے دورِ صدارت کے دوران پہلے بھی فیفا پیس پرائز کے قیام اور چار کے بجائے ہر دو سال بعد ورلڈ کپ کرانے جیسے منصوبے پیش کر چکے ہیں۔
اس منصوبے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی ’یوئیفا‘ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فیفا کا یہ اقدام اپنی حدود سے تجاوز ہے۔ ’یوئیفا‘ نے الزام عائد کیا ہے کہ فیفا تاجروں کے ہاتھوں فٹ بال کی روح کا سودا کرنے کی کوشش کر رہا ہے‘۔
یوئیفا نے مزید کہا کہ فٹبال کسی ایک ادارے کی ملکیت نہیں اور نہ ہی ورلڈ کپ ایسی چیز ہے جسے فروخت کیا جا سکے۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق یوئیفا کے 55 رکن ممالک اس معاملے پر ہنگامی آن لائن اجلاس طلب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں ممکنہ طور پر ورلڈ کپ کے بائیکاٹ جیسے آپشنز بھی زیرِ بحث آنے کی اطلاعات ہیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال سرمایہ کاروں کا نہیں بلکہ ان لوگوں کا کھیل ہے جو میدانوں میں آ کر اسے زندہ رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ورلڈ کپ کے شیئرز فروخت کرنے کا مطلب دراصل اس کی روح فروخت کرنے کے مترادف ہے۔ فٹبال ہمیشہ شائقین کا کھیل تھا، ہے اور رہے گا۔‘
فیفا کے قوانین کے مطابق ’فیفا فارورڈ انٹرپرائز‘ کے قیام کے لیے فیفا کو اسکی 211 رکن ایسوسی ایشنز کی اکثریت اور 37 رکنی فیفا کونسل کی حمایت درکار ہوگی۔
دی ٹائمز کے مطابق فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے رکن ممالک کو خط میں کہا ہے کہ اگر وہ 19 ستمبر تک اس تجویز کی حمایت کریں تو ہر رکن ایسوسی ایشن کو 4 کروڑ ڈالر ملیں گے۔
فیفا کی 2022 سے 2026 کی آمدنی تقریباً 15 ارب ڈالر متوقع ہے، جو اوسطاً سالانہ 3.75 ارب ڈالر بنتی ہے، لیکن اس آمدنی کا بڑا حصہ ہر چار سال بعد ہونے والے مینز ورلڈ کپ سے حاصل ہوتا ہے۔
فیفا کا کہنا ہے کہ نئے ادارے کے ذریعے رکن ایسوسی ایشنز کو دی جانے والی سالانہ فنڈنگ 80 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 2 کروڑ ڈالر تک کی جا سکتی ہے، جو خاص طور پر چھوٹی فٹبال تنظیموں کے لیے اہم رقم ہوگی۔ اس کے علاوہ ہر ایسوسی ایشن کو مزید 2 کروڑ ڈالر تک اضافی فنڈنگ ملنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
فیفا نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس منصوبے سے کھیل کے قوانین، گورننس اور بین الاقوامی میچ کیلنڈر پر اس کا اختیار برقرار رہے گا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ نجی سرمایہ کاری شامل ہونے سے سرمایہ کاروں کو کھیل کے بڑے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق جیانی انفانٹینو اگلے سال دوبارہ فیفا کا صدر منتخب ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم تین مدتیں پوری ہونے کی وجہ سے انہیں 2031 کے بعد فیفا کے قوانین کے مطابق یہ عہدہ چھوڑنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق جیانی انفانٹینو نئے تجارتی ادارے کے سربراہ بننے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں، جس سے انہیں مستقبل میں لاکھوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صدر جیانی انفینٹینو نے رکن ممالک کو اس منصوبے کے حق میں ووٹ دینے پر راضی کرنے کے لیے ایک بڑی مالی ترغیب دی ہے۔ فیفا نے واضح کیا ہے کہ اگر یورپی ممالک کی مخالفت یا کسی بھی وجہ سے یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوا تو یکم جنوری سے اس کا بجٹ 10 ارب ڈالر کے بجائے 2.7 ارب ڈالر پر ہی برقرار رہے گا۔
















