آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر ایک دو روز میں معاہدے کا امکان ہے: امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے پر ایران کے ساتھ ایک دو روز میں معاہدے کا امکان ہے، ایرانی حکام سے بات چیت کررہے ہیں، آج یا کل کوئی معاہدہ طے پاسکتا ہے، معاہدے کے بعد تیل اور انرجی کی قیمتوں میں کمی بھی متوقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جائے گا، جس سے عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام اور تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی کے پروگرام ”اسکواک باکس“ میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ آج یا کل، یعنی منگل یا بدھ تک ایسا معاہدہ طے پا جائے جس کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو جائے گی اور موجودہ کشیدگی معمول کی صورت حال کی جانب بڑھ سکے گی۔
اسکاٹ بیسنٹ سے سوال کیا گیا کہ آیا ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی، جس پر انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدہ آزادانہ آمدورفت پر مبنی ہوگا اور تجارتی بحری جہازوں کو بلا رکاوٹ گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند روز کے دوران آبنائے ہرمز کی صورت حال غیر یقینی رہی تاہم اب بھی متعدد بحری جہاز وہاں سے گزر رہے ہیں اور کئی جہازوں نے روانگی کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سیکڑوں، بلکہ ممکنہ طور پر ایک ہزار کے قریب بحری جہاز آبنائے ہرمز میں روانگی کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق معاملہ صرف خام تیل تک محدود نہیں بلکہ کھاد، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات اور مختلف صنعتی گیسوں کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے جب کہ آبنائے کھلنے سے عالمی سپلائی چین میں بہتری اور قیمتوں میں نمایاں ریلیف آ سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ کے بیان کے بعد عالمی توانائی کی منڈی میں بھی فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی اور قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی۔ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ جب خلیج فارس میں پھنسے سیکڑوں بحری جہاز روانہ ہونا شروع ہوں گے تو توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی متوقع ہے، جو پوری دنیا کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی۔
آج ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران معاہدے کا باضابطہ اعلان سامنے آسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی حملے کا منصوبہ مؤخر کیا تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔ تاہم صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کئی بار معاہدہ قریب ہونے کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن بعد ازاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی رہی ہے۔ حالیہ مذاکراتی پیش رفت کو اسی سفارتی عمل کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران نے 17 جون کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط بھی کیے تھے، جس کے بعد مختصر مدت کے لیے بحری آمدورفت میں بہتری آئی تاہم بعد ازاں یہ معاہدہ اس اختلاف کے باعث ناکام ہوگیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز کس بحری راستے کو استعمال کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ان آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا جو امریکی فوجی تحفظ میں عمان کے ساحلی راستے سے آبنائے ہرمز عبور کر رہے تھے، جبکہ تہران کا مؤقف تھا کہ جہازوں کو آبنائے استعمال کرتے وقت ایرانی علاقائی پانیوں سے گزرنا چاہیے۔
اس کے جواب میں امریکا نے ایران کے خلاف ایک درجن سے زائد فضائی حملوں کی کارروائیاں کیں اور ایران پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔















