بارشوں میں دفاتر کے اندر تیزی سے پھیلنے والی 6 بیماریاں
مون سون کے دوران دفاتر میں روزانہ آنا جانا، پرہجوم لفٹ، مشترکہ میزیں، ایئرکنڈیشنڈ میٹنگ رومز، آفس کچن اور ساتھی ملازمین سے قریبی رابطہ جراثیم، وائرس اور فنگس کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق نم کپڑے، خراب ہوا کی آمدورفت، درجہ حرارت میں مسلسل تبدیلی اور مشترکہ اشیا کا استعمال دفاتر کو انفیکشنز کے لیے موزوں جگہ بنا دیتا ہے۔ لوگ عام طور پر مون سون کی بیماریوں کو صرف مچھروں یا آلودہ پانی سے جوڑتے ہیں، لیکن حقیقت میں دفاتر بھی بیماریوں کے پھیلاؤ کی اہم جگہ بن سکتے ہیں۔
مون سون میں کون سی بیماریاں زیادہ پھیلتی ہیں؟
طبی ماہرین کے مطابق اس موسم میں خاص طور پر 6 بیماریاں ایسی ہیں جو دفتر میں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔
موسمی فلو یا انفلوئنزا
موسمی فلو یا انفلوئنزا چھینکنے، کھانسنے اور ایک ہی میز یا لفٹ کے استعمال سے پھیلتی ہے۔ اس میں تیز بخار، جسم میں درد، گلے کی خرابی اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہاتھ بار بار دھونے، بخار کی صورت میں گھر پر رہنے، دفاتر میں ہوا کی بہتر آمدورفت رکھنے اور سالانہ فلو ویکسین لگوانے سے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
کووڈ 19
اگرچہ کووڈ 19 اب عالمی صحت کی ایمرجنسی نہیں رہا، لیکن اس کا وائرس اب بھی موجود ہے۔ ایسی صورت میں بخار، کھانسی یا گلے میں درد کی صورت میں دفتر آنے سے گریز کرنا چاہیے، جبکہ علامات ہونے پر ماسک پہننا اور ویکسین کو اپ ڈیٹ رکھنا بھی مفید ہے۔
آنکھوں کی بیماریاں
ماہرین نے خبردار کیا کہ وائرل آشوب چشم متاثرہ شخص کے ذریعے مشترکہ سطحوں کو چھونے کے بعد دوسروں تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں آنکھوں کی سرخی، پانی آنا، جلن، پلکوں کی سوجن اور آنکھوں سے رطوبت خارج ہونے جیسی علامات سامنے آتی ہیں۔
ہاضمہ کی خرابی
اسی طرح آفس کچن یا مشترکہ کھانے کے دوران صفائی کا خیال نہ رکھا جائے تو وائرل معدے کی بیماریاں بھی پھیل سکتی ہیں، جن سے اسہال، قے، پیٹ میں درد، بخار اور جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔
فنگس اور لیپٹو اسپائروسس کا بھی خطرہ
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نم جوتے، گیلی جرابیں اور زیادہ نمی جلد پر فنگس پیدا ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں خارش، سرخ دھبے اور جلد اترنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نے لیپٹو اسپائروسس کے حوالے سے بھی خبردار کیا کہ یہ بیماری ساتھی ملازمین سے نہیں بلکہ بارش یا سیلاب کے آلودہ پانی میں چلنے سے منتقل ہوتی ہے، جہاں چوہوں کے فضلات سے آلودہ پانی میں موجود بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کی علامات میں تیز بخار، شدید پٹھوں کا درد، سر درد، آنکھوں کی سرخی، قے اور شدید صورت میں یرقان شامل ہیں۔
کون سی عادتیں بیماری کا خطرہ بڑھاتی ہیں؟
ماہرین کے مطابق دفتر میں میز پر کھانا کھانا، پانی کی بوتل یا برتن دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا، مشترکہ کمپیوٹر یا دیگر سامان استعمال کرنے کے بعد چہرے کو ہاتھ لگانا، میٹنگ رومز میں خراب وینٹیلیشن اور بخار یا اسہال کے باوجود دفتر آنا بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے، ”بارش خود بیماری کا سبب نہیں بنتی، بلکہ بند جگہیں، خراب وینٹیلیشن، نمی اور مشترکہ سطحیں جراثیم کے پھیلاؤ کو آسان بنا دیتی ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ہاتھوں کی صفائی، بیمار ہونے پر گھر پر رہنا، دفتر میں صاف ستھرا ماحول رکھنا، تازہ کھانا کھانا، ذاتی اشیا دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کرنا اور علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا نہ صرف اپنی بلکہ پورے دفتر کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔“
نوٹ: یہ معلومات صرف عام آگاہی کے لیے ہیں اور کسی بھی بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
















