لاہور پولیس کی حراست میں خواتین کی موت؛ 'دونوں کو ایک ساتھ ہارٹ اٹیک ہوا': پوسٹ مارٹم رپورٹ

پولیس نے نند بھابھی کو چار اگست کو چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور اسی روز پولیس تھانے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔
شائع 10 اگست 2026 02:56pm

صوب پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی پراسرار ہلاکت کے واقعے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے تحقیقات کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، حکام کو دونوں خواتین کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہو گئی ہے، جس میں ان کی موت کو طبعی قرار دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے رپورٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ساڑھے 17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں پایا گیا، اور دونوں خواتین کی موت مبینہ طور پر ہارٹ اٹیک یعنی دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی۔

یاد رہے کہ ان نند بھابھی کو چار اگست کو چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور اسی روز پولیس تھانے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔

چار اگست کو درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو خواتین، جن کی شناخت بعد میں آمنہ اور انمول کے نام سے ہوئی، گلی میں بھیک مانگتے ہوئے مدعی مقدمہ کے گھر آئیں۔

ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’دو خواتین جو کہ گلی میں بھیک مانگ رہی تھیں، ہمارے گھر میں داخل ہو گئیں اور پانی مانگا۔ میری بہن نے اُن کو پانی دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم دم بھی کرتی ہیں۔‘

پولیس کے مطابق، اِس ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 379، جو چوری پر لگائی جاتی ہے، اور 420، جو دھوکہ دہی و فراڈ کے الزامات پر لگائی جاتی ہے، شامل کی گئیں۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ ’دونوں خواتین نے دھوکہ دہی سے میری بہن کی سونے کی بالیاں اور پانچ ہزار روپے ہتھیا لیے، اور اسی دوران جب میں گھر پہنچا تو ان دونوں خواتین نے سونے کی بالیاں تو واپس کر دیں، لیکن پیسے واپس نہیں کر رہی تھیں۔ انہوں نے محلے میں واویلا شروع کر دیا اور اپنے کپڑے پھاڑ لیے۔‘

مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے بعد، ’ہم نے ریسکیو 15 پر کال کی تو پولیس پہنچ گئی۔ ہم نے دونوں خواتین کو پولیس کے حوالے کر دیا۔‘

بعد ازاں، پولیس حراست میں مبینہ طور پر دونوں خواتین کی موت واقع ہونے کی اطلاع دی گئی۔

اس واقعے نے شدید تنازع کھڑا کر دیا تھا کیونکہ متوفی خواتین کے اہلِ خانہ نے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں خواتین موت پولیس حراست میں بہیمانہ تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے۔

دوسری طرف، لاہور پولیس کے اعلیٰ حکام، بشمول ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں خواتین منشیات کی عادی تھیں اور خدشہ ہے کہ ان کی موت نشے کی زیادہ مقدار استعمال کرنے کی وجہ سے ہوئی۔

تاہم، ورثاء نے پولیس کے منشیات استعمال کرنے کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ متوفی خاتون انمول کے شوہر اور آمنہ کے بھائی ثقلین نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے میت دیکھی تو اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور چہرے اور کمر پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔

دوسری جانب، آمنہ کی والدہ اور انمول کی ساس زینب بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے جس میں لڑکیاں صحیح سلامت نظر آرہی ہیں، اور پولیس کا یہ مؤقف غلط ہے کہ انہیں محلے والوں نے مارا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”اگر وہ نشے میں ہوتیں تو پولیس اہلکار سے اُس طرح بات نہ کرتیں جیسا کہ ویڈیو میں نظر آ رہا ہے۔“

اس متضاد صورتحال اور سنگین نوعیت کے پیش نظر، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج لاہور کے احکامات پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے واقعے کی عدالتی تحقیقات (انکوائری) کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ قانون کے مطابق، پولیس تحویل میں کسی ملزم کی ہلاکت پر جوڈیشل انکوائری لازمی ہے، جس کی رپورٹ 30 روز کے اندر جاری کی جاتی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر جوڈیشل انکوائری یا فارنزک رپورٹس میں پولیس تشدد ثابت ہوجائے تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

ورثاء نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ انہیں ابھی تک پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپی باقاعدہ طور پر فراہم نہیں کی گئی ہے۔