عمانی ساحل کے قریب روسی جہاز سے تیل کا اخراج، 150 مربع میل رقبے پر پھیل گیا
عمان کے ساحل کے قریب پھنسے روسی جہاز سے تیل کا اخراج تیز ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں سمندر میں تیل 150 مربع میل رقبے پر پھیل گیا ہے۔ عمانی حکومت کے مطابق کیرولین بیزنگی نامی جہاز سے تیل کے اخراج پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عمان کی حکومت نے سمندر میں تیل کے اخراج سے پیدا ہونے والی صورت حال پر پہلی مرتبہ تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی صوبے ظفار کے ساحل سے دور حلانیات جزائر کے قریب موجود روسی خام تیل سے لدے تیل بردار جہاز کیرولین بیزنگی سے رسنے والا خام تیل تقریباً 390 مربع کلومیٹر یعنی 150 مربع میل کے سمندری علاقے میں پھیل چکا ہے۔
عمانی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق تیل کا پھیلاؤ جزائر کے شمال مشرقی حصے میں ہے اور عمان کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے جب کہ ساحل سے اس کا فاصلہ تقریباً 7 کلومیٹر رہ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاز سے تیل کے اخراج پر قابو پانے اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کیرولین بیزنگی جہاز میں تقریباً 10 لاکھ بیرل روسی خام تیل موجود ہے، جو ایشیا منتقل کیا جا رہا تھا۔
رائٹرز کے مطابق جہاز کو 8 جون کو یمن کے قریب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ سمندری سیکیورٹی سے وابستہ دو ذرائع نے ابتدائی جائزے میں بتایا تھا کہ بحری جہاز میں دھماکا ہوا تھا، جہاز کی جانب سے آخری سگنل 11 جون کو موصول ہوا تھا۔ اب تک کسی فریق نے بحری جہاز پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ جہاز عمان کے حلانیات جزائر کے قریب پھنس گیا تھا، جو قدرتی حیات کے حوالے سے اہم علاقہ ہے۔ عمان کے سلطان ہیثم بن طارق نے گزشتہ سال ان جزائر کے گرد قدرتی حیات کے تحفظ کے لیے نیچر ریزرو قائم کرنے کا شاہی فرمان جاری کیا تھا۔ یہ علاقہ عرب سمندر کی ہَمپ بیک وہیلز اور سوکوترا کارمورینٹس سمیت مختلف جنگلی حیات کا مسکن ہے۔
رائٹرز کی سیٹلائٹ تصاویر اور بحری جہازوں سے متعلق ماہرین کے تجزیے کے مطابق 274 میٹر یعنی تقریباً 900 فٹ لمبے جہاز سے پھیلنے والا تیل گزشتہ ماہ کے اختتام تک بھی مزید پھیل رہا تھا، جس کے باعث سمندری ماحول کو ممکنہ نقصان کے خدشات پیدا ہوئے۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق کیرولین بیزنگی نے رواں سال اپریل میں روس کی بحیرہ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک سے خام تیل لادا تھا اور مئی کے اختتام پر نہر سوئز سے گزرا تھا۔
2001 میں تعمیر ہونے والا یہ جہاز ایسے پرانے تیل بردار جہازوں کے بیڑے کا حصہ ہے جسے عام طور پر شیڈو فلیٹ کہا جاتا ہے۔ یہ بیڑا روس کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں ایسے پرانے آئل ٹینکرز شامل ہیں، جنہیں مغربی انشورنس کوریج حاصل نہیں ہوتی۔ یہ جہاز مختلف ممالک کے پرچم تلے سفر کرتے ہیں، جس سے ان کی اصل ملکیت چھپانے میں مدد ملتی ہے۔
عوامی شپنگ ڈیٹا بیسز میں کیرولین بیزنگی کو کیمرون کے پرچم تلے سفر کرنے والا جہاز درج کیا گیا تھا تاہم جون میں کیمرون کی شپ رجسٹری سے ڈی لسٹ کیے گئے 39 جہازوں میں اس کا نام بھی شامل تھا۔ یہ جہاز یورپی یونین، یوکرین، برطانیہ، کینیڈا اور سوئٹزرلینڈ کی جانب سے عائد پابندیوں کی زد میں بھی ہے۔
ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق رینٹور شپ مینیجمنٹ لمیٹڈ (Rentoor Shipmanagement Ltd) جہاز کی رجسٹرڈ مالک کمپنی جب کہ ولر شپ مینیجمنٹ لمیٹڈ (Villar Shipmanagement Ltd) اس کی مینیجر کمپنی ہے۔ رائٹرز کے مطابق دونوں کمپنیاں بظاہر چین میں قائم ہیں تاہم رائٹرز فوری طور پر ان کمپنیوں سے رابطہ نہیں کرسکا۔
عمانی حکام کے مطابق تیل کے اخراج سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں جب کہ سمندری علاقے اور قریبی قدرتی حیات پر اس کے ممکنہ اثرات کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔














