اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے گفتگو، ’معاہدۂ مکہ‘ کے اہم نکات پر تبادلہ خیال
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے گفتگو ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ’معاہدۂ مکہ‘، عالمی صورت حال سمیت خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر گفتگو کی۔
اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے ’معاہدۂ مکہ‘ کے اہم نکات اور خدوخال سے آگاہ کیا۔
بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے عباس عراقچی کو بتایا کہ اس دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں امن و سلامتی اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معاہدے کی اہم تفصیلات سے آگاہ کرنے پر اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو ایران سے جوڑا جارہا تھا تاہم معاہدہ ہوجانے کے بعد تینوں ممالک کی جانب سے ان دعوؤں کو مسترد جب کہ خود ایران کی جانب سے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا جاچکا ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مختلف سرکاری حکام کی جانب سے جاری بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک یا گروہ کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پیر کے روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں ’معاہدۂ مکہ‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک اب اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکا کی سیکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جسے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ نام دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق تینوں ملکوں میں کسی ایک پر حملے کو تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔












