ترکیہ نیٹو اجلاس میں 'ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ': مبینہ اسرائیلی سازش بے نقاب

نیتو اجلاس کے بعد ٹرمپ کو خفیہ طور پر انقرہ سے کیسے اور کس کے کہنے پر نکالا گیا؟
شائع 12 اگست 2026 09:32am

ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ماہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایرانی سازش سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ دراصل ایک دھوکہ اور ڈرامہ تھی، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو ناکام بنانا تھا۔

مشرقِ وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’مڈل ایسٹ آئی‘ کے مطابق، گزشتہ ماہ آٹھ جولائی کو انقرہ کے ایئرپورٹ پر اچانک سیکیورٹی کی غیر معمولی تعیناتی نے سب کو حیران کر دیا تھا جہاں صدر ٹرمپ کا طیارہ ائیر فورس ون کھڑا تھا۔

سیکیورٹی کے ان سخت ترین انتظامات کے دوران امریکی حکام نے ترک حکام کو بتایا کہ انہیں اسرائیل سے ایک خفیہ رپورٹ ملی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ایرانی خفیہ یونٹ کندھے پر رکھ کر مارے جانے والے میزائلوں کی مدد سے ایئرپورٹ کے قریب ٹرمپ کے نئے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس رپورٹ کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی ’سیکریٹ سروس‘ نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات تبدیل کیے۔ ٹرمپ کی روانگی کو ایک دور دراز سویلین ایئرپورٹ پر منتقل کیا گیا اور نئے طیارے کے بجائے پرانے ائیر فورس ون کو لایا گیا کیونکہ اس میں فضائی دفاعی نظام موجود تھا۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق، سیکریٹ سروس نے ٹرمپ کو خفیہ طور پر پرانے ائیر فورس ون سے نکال کر کھانے پینے کا سامان سپلائی کرنے والی گاڑی میں منتقل کیا اور وہاں سے دوسرے امریکی طیارے سی-32 میں پہنچایا۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق، ایک ترک عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی حکام نے آخری منٹ پر پروازوں کی اجازت مانگی جس سے انقرہ کو اندازہ ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

اس سے قبل جولائی اور نومبر 2024 میں بھی پاکستانی شہری آصف مرچنٹ اور افغان شہری فرہاد شاکری پر ایران کے لیے ٹرمپ پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات لگ چکے تھے، تاہم ایران نے ہمیشہ ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ترک حکام کا اب ماننا ہے کہ اسرائیل کی یہ رپورٹ ایک سوچی سمجھی چال تھی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم امن معاہدے پر بات چیت کر رہے تھے۔

اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات میں ٹرمپ نے بار بار کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے اور وہ مذاکرات کے حوالے سے پرامید ہیں، جو کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایجنڈے کے بالکل خلاف تھا کیونکہ وہ ایران کی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں اور ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی مہم چلانا چاہتے تھے۔

اس کے علاوہ ٹرمپ نے ترکیہ پر لگی پابندیاں ہٹانے اور ایف-35 طیارے بیچنے کا اشارہ بھی دیا تھا، جس کی اسرائیل ہمیشہ سے مخالفت کرتا رہا ہے۔

ایک ترک عہدیدار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ یقیناً ہم نے رپورٹ کو بہت سنجیدگی سے لیا اور اپنے امریکی شراکت داروں کی پوری مدد کی، لیکن ہمارے لیے یہ بالکل واضح تھا کہ یہ رپورٹ کسی صورت سچی نہیں ہو سکتی۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ انقرہ جیسے سخت سیکیورٹی والے دارالحکومت میں اتنے بڑے میزائل پہنچانا اور ایسا حملہ کرنا ممکن ہی نہیں تھا، اور ایران کبھی بھی ترکیہ کے ساتھ اپنے پرامن تعلقات خراب کرنے کا خطرہ نہیں مول لے سکتا۔

انقرہ کے ایک اندرونی ذرائع نے طنز کرتے ہوئے مڈل ایسٹ آئی کو کہا کہ حیرت کی بات ہے ایک ماہ بعد اس آپریشن کی تفصیلات میڈیا پر لیک کی جا رہی ہیں، میرا خیال ہے کہ انہیں ایک ایسے حملے کے لیے ہیرو چاہیے جو کبھی ہوا ہی نہیں اور جس کی غالباً کبھی منصوبہ بندی بھی نہیں کی گئی تھی۔