ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ: انگلینڈ دنیا کا پہلا ملک بننے کے قریب
انگلینڈ جگر کے خطرناک مرض ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہونے کے قریب ہے جہاں اس بیماری کو ختم کرنے کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ نے ہیپاٹائٹس سی کے معلوم مریضوں میں سے 80 فیصد کے علاج کا اہم ہدف حاصل کرلیا ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس بیماری سے ہونے والی اموات میں بھی 36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ہیپاٹائٹس سی ایک وائرس ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
تاہم جدید علاج کی بدولت اب اس بیماری سے صحت یابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بی بی سی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین کے مطابق عام طور پر 8 سے 12 ہفتے تک اینٹی وائرل گولیاں لینے سے 95 فیصد سے زیادہ مریضوں میں وائرس ختم کیا جاسکتا ہے۔
اس بیماری کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اکثر متاثرہ افراد کو طویل عرصے تک اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیماری کے ابتدائی مرحلے میں اکثر کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ مریض بظاہر بالکل صحت مند محسوس کرسکتا ہے، لیکن وائرس اندر ہی اندر جگر کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے اور انگلینڈ اس مقصد کی جانب نمایاں پیش رفت کرچکا ہے۔ این ایچ ایس انگلینڈ کے مطابق 2015 سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد میں ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص کرکے ان کا علاج کیا جاچکا ہے۔ اس طرح ملک معلوم کیسز میں سے 80 فیصد افراد کے علاج کا مقررہ ہدف حاصل کرچکا ہے۔
تاہم بیماری کے مکمل خاتمے کی منزل ابھی باقی ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں تقریباً 50 ہزار 200 بالغ افراد ہیپاٹائٹس سی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ ان میں سے تقریباً 84.6 فیصد افراد کی بیماری کی تشخیص ہوچکی تھی، جبکہ مقررہ ہدف 90 فیصد تک پہنچنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب بھی ایسے ہزاروں افراد موجود ہوسکتے ہیں جو وائرس کا شکار ہیں لیکن انہیں اپنے مرض کا علم نہیں۔
ان افراد تک پہنچنے کے لیے این ایچ ایس نے ٹیسٹنگ کے مختلف طریقے متعارف کرائے ہیں۔ ہسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں میں خون کے ٹیسٹ، جی پی کے پاس رجسٹریشن کے دوران ٹیسٹنگ اور گھر بیٹھے مفت ٹیسٹ کی سہولت نے ایسے لوگوں کی شناخت میں مدد کی ہے جنہیں پہلے اپنے انفیکشن کا علم نہیں تھا۔
اب لوگ ڈاکٹر کے پاس جائے بغیر گھر پر بھی مفت اور خفیہ طریقے سے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کر سکتے ہیں۔ این ایچ ایس کی جانب سے فراہم کی جانے والی اس سہولت کا مقصد خاص طور پر ان افراد تک پہنچنا ہے جو کسی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے یا انہیں ماضی میں وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام نے یوکرین، رومانیہ، ایسٹونیا، لٹویا، پولینڈ، البانیہ، لتھوانیا، بلغاریہ، چیکیا اور سلوواکیہ میں پیدا ہونے والے بالغ افراد کو بھی ٹیسٹ کروانے پر خاص توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بعض افراد 1991 سے پہلے طبی یا دانتوں کے علاج کے دوران اس وائرس کا شکار ہوئے ہوسکتے ہیں۔
ہیپاٹائٹس سی متاثرہ خون کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی متاثرہ شخص کے ساتھ سوئی یا انجیکشن شیئر کرنے سے وائرس منتقل ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ تاہم خون کے عطیات کو ہیپاٹائٹس سی سمیت مختلف انفیکشنز کے لیے پہلے ہی اسکرین کیا جاتا ہے، جس سے خون کی منتقلی کے ذریعے وائرس پھیلنے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔
این ایچ ایس انگلینڈ کے قومی میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر فرینکی سورڈز نے کہا، ’’انگلینڈ اب اس بیماری کے خاتمے کی کوشش میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے 2030 کے ہدف کو حاصل کرنے کی راہ پر ہے، لیکن ہم رفتار برقرار رکھنے اور اس کام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ہر اس شخص کو تلاش کرکے علاج فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں جسے مدد کی ضرورت ہے اور زیادہ خطرے والے افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مفت اور خفیہ ہوم ٹیسٹنگ کٹ منگوا کر ٹیسٹ کروائیں۔‘‘
ہیپاٹائٹس سی ٹرسٹ نے بھی انگلینڈ کی اس پیش رفت کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ٹرسٹ کے مطابق انگلینڈ ’’ملک کی تاریخ کی صحت عامہ کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک کے دہانے پر‘‘ کھڑا ہے۔
ہیپاٹائٹس سی کے علاج میں پیش رفت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بلیک برن، لنکاشائر سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ پال ایٹ ویل بھی ان ایک لاکھ سے زیادہ افراد میں شامل ہیں جن کا انگلینڈ میں علاج کیا جاچکا ہے۔ انہیں ایک معمول کے خون کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں۔
پال ایٹ ویل نے اپنی تشخیص کے بارے میں بتایا، ’’میرا پہلا ردعمل بے یقینی تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے کہا تھا، ’کیا آپ کو یقین ہے؟ یقیناً کوئی غلطی ہوئی ہوگی۔‘‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے کوئی بیماری محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ میں سوچتا رہا کہ آخر میں اس وائرس کا شکار کیسے ہوسکتا ہوں۔‘‘ پال کے مطابق انہیں علاج کے دوران ملنے والی طبی مدد نے بہت بڑا فرق پیدا کیا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ وائرس سے کب متاثر ہوئے، تاہم امکان ظاہر کیا گیا کہ کئی دہائیاں قبل جنوبی افریقہ میں ہونے والی ایک سرجری اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔
ہیپاٹائٹس سی کا تعلق برطانیہ کی ایک انتہائی افسوسناک طبی تاریخ سے بھی ہے۔ 1970 سے 1991 کے درمیان آلودہ خون کی مصنوعات اور خون کی منتقلی کے ذریعے برطانیہ میں 30 ہزار سے زیادہ افراد ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہوئے تھے۔ اس واقعے کو ’’انفیکٹڈ بلڈ اسکینڈل‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے این ایچ ایس کی تاریخ کی بدترین طبی تباہ کاریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس اسکینڈل کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ مزید اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک عوامی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ حکام نے متاثرہ افراد کو ایسے خطرات سے دوچار کیا جنہیں قبول نہیں کیا جاسکتا تھا۔
اگرچہ انگلینڈ نے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی جانب اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن ابھی کچھ بڑے اہداف حاصل کرنا باقی ہیں۔ 2015 کے مقابلے میں ہیپاٹائٹس سی سے ہونے والی اموات میں 65 فیصد کمی کا ہدف ابھی مکمل نہیں ہوا۔ موجودہ پیش رفت کو دیکھتے ہوئے حکام کو امید ہے کہ 2030 کی مقررہ مدت سے پہلے اس ہدف کے بھی قریب پہنچا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بیماری کے خاتمے کے لیے صرف علاج کی سہولت کافی نہیں بلکہ ان لوگوں کو تلاش کرنا بھی ضروری ہے جو وائرس کا شکار ہونے کے باوجود اب تک تشخیص سے محروم ہیں۔ بروقت ٹیسٹ، فوری تشخیص اور مؤثر علاج کے ذریعے انگلینڈ نہ صرف ہیپاٹائٹس سی سے ہونے والی اموات کو مزید کم کرسکتا ہے بلکہ اس بیماری کے مکمل خاتمے کا ہدف بھی حاصل کرسکتا ہے۔
















