شدید گرمی نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے خطرہ ہے: نئی تحقیق میں انکشاف
جب بھی گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو ماہرین صحت عام لوگوں کو یہی مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ پانی زیادہ پئیں، دھوپ سے بچیں اور بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ لیکن ایک نئی عالمی تحقیق بالکل نیا اور فکر انگیز پہلو سامنے لائی ہے کہ شدید گرمی چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق تحقیق میں دنیا بھر سے کی جانے والی 23 مختلف طبی تحقیقوں کے نتائج کو جمع کر کے دیکھا گیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ جیسے ہی روزانہ کا درجہ حرارت صرف 1 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھتا ہے، نوعمروں میں ذہنی تناؤ اور پریشانی کے مسائل تقریباً 1 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔ جب عام گرم دن کے بجائے باقاعدہ شدید گرمی کی لہر یعنی ہیٹ ویو آتی ہے، تو بچوں اور 5 سے 18 سال کے نوجوانوں میں ذہنی مسائل کا خطرہ 25 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عام گرم دن اور مسلسل کئی دن تک جاری رہنے والی شدید گرمی میں واضح فرق ہے۔ ایک گرم دن کے مقابلے میں جب درجہ حرارت کئی دن تک معمول سے بہت زیادہ رہے اور رات کو بھی ٹھنڈک نہ ملے تو اس کے اثرات زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔
تحقیق میں شدید گرمی کے دوران بچوں اور نوجوانوں میں ذہنی دباؤ سے متعلق کئی مسائل میں اضافے کا تعلق سامنے آیا۔ ان میں بے چینی، ڈپریشن اور ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے ہسپتال کے ایمرجنسی شعبوں میں زیادہ آمد شامل ہے۔ شدید صورتوں میں خودکشی کی کوششوں میں اضافے کا تعلق بھی زیادہ درجہ حرارت سے دیکھا گیا۔
اس تحقیق سے جڑی فلنڈرز یونیورسٹی کی ماہر ڈاکٹر جیکولین اسٹیفنز نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی اس صورتحال کی ایک اہم وجہ ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آنے لگی ہیں۔
اسٹیفنز کے مطابق موسم کی یہ تبدیلی نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پوری دنیا میں زیادہ شدید اور بار بار آنے والی گرمی کی لہروں کا سبب بن رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جب سخت گرمی پڑتی ہے تو ان کا روزمرہ کا معمول بدل جاتا ہے، ان کے کھیل کود اور تعلیمی اداروں کے اوقات متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گرم راتوں میں نیند پوری نہ ہونا، چڑچڑاپن، گھبراہٹ اور بچوں کے ساتھ ساتھ گھر کے بڑوں کا بھی پریشان ہونا، پورے گھر کے ماحول کو متاثر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے ہی لڑکپن عمر کا وہ دور ہوتا ہے جب ذہن میں تبدیلی آ رہی ہوتی ہے اور اوپر سے شدید گرمی کا اثر ان کے موڈ کو مزید خراب کر دیتا ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ ہیٹ ویو کا سامنا کرنے والا ہر بچہ ذہنی صحت کے مسئلے میں مبتلا ہوجائے گا۔ تحقیق میں آبادی کی سطح پر تعلق دیکھا گیا ہے، اسے کسی ایک بچے کے بارے میں حتمی پیش گوئی نہیں سمجھا جاسکتا۔
محققین نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ موجودہ تحقیق میں کچھ حدود موجود ہیں اور مزید مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ شدید گرمی اور بچوں کی ذہنی صحت کے درمیان تعلق کو مزید بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔
موسمیاتی منصوبوں میں ذہنی صحت کو بھی شامل کرنے کی تجویز
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اب شدید گرمی سے نمٹنے کی حکمت عملی صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ذہنی صحت کے پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے منصوبوں میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات بھی شامل کی جائیں۔ اسکولوں، خاندانوں اور صحت کے اداروں کو شدید گرمی کے دوران بچوں کے رویے، نیند اور ذہنی کیفیت میں آنے والی تبدیلیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
محققین کے مطابق دنیا کے کئی حصوں میں موسم گرما کے دوران درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہورہے ہیں، اس لیے شدید گرمی کے اثرات کو سمجھنا پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔
نئی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ گرمی سے بچاؤ کی کوششوں میں جسم کے ساتھ ساتھ ذہن کی حفاظت کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔
















