روزانہ ایک گلاس جوس ڈپریشن کو کیسے کم کر سکتا ہے؟

روزانہ کی بنیاد پر ڈھیر سارے پھل یا سبزیاں کاٹ کر کھانا مشکل کام لگتا ہے۔
شائع 12 اگست 2026 11:55am

اگر آپ اکثر بے دلی، ذہنی تناؤ یا مایوسی کا شکار رہتے ہیں تو اب اپنے موڈ کو خوشگوار بنانے کے لیے آپ کو کسی پیچیدہ علاج کی ضرورت نہیں ہوگی۔ برطانوی طبی ماہرین کی ایک نئی اور دلچسپ دریافت کے مطابق روزمرہ کی غذا کے ساتھ صرف ایک گلاس خالص پھلوں کا رس یا اسموتھی پینے سے ڈپریشن کی شدت میں حیران کن حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

نیوکاسل یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی اس سائنسی ریسرچ میں 42 ایسے افراد کی غذائی عادتوں کا جائزہ لیا گیا جو پہلے پھلوں اور سبزیوں سے کافی دور رہتے تھے۔ محققین نے ان لوگوں کو مختلف گروہوں میں بانٹ کر چار ہفتوں تک ان کی خوراک اور موڈ میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھی۔

پہلے گروپ کو اپنی معمول کی خوراک جاری رکھنے کو کہا گیا۔ دوسرے گروپ کو روزانہ پانچ حصے پھل اور سبزیاں کھانے کی ترغیب دی گئی، جبکہ تیسرے گروپ کو بھی پانچ حصے پھل اور سبزیاں کھانے کے ساتھ روزانہ ایک گلاس پھلوں کا جوس یا اسموتھی استعمال کرنے کو کہا گیا۔

اس تجربے کے حیرت انگیز نتائج سے پتہ چلا کہ جن لوگوں نے اپنی روزمرہ خوراک میں روزانہ ایک گلاس قدرتی جوس شامل کیا، ان کے رویے اور موڈ میں مثبت تبدیلی آئی اور ان کا ذہنی تناؤ واضح طور پر کم ہو گیا۔

کچھ لوگوں کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ پھلوں کے رس میں موجود میٹھا صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، مگر ماہرین نے تسلی دی ہے کہ اس قلیل مدتی تجربے کے دوران کسی بھی شخص کی جسمانی صحت پر کوئی برے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

اس تحقیق سے وابستہ ماہر کورتنی نیل کا کہنا تھا کہ عام طور پر لوگوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ڈھیر سارے پھل یا سبزیاں کاٹ کر کھانا مشکل لگتا ہے، لیکن روزانہ ایک چھوٹا گلاس خالص جوس پی لینا ایک انتہائی آسان اور سستا طریقہ ہے جس سے انسان اپنے جسمانی غذائی ہدف کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی حاصل کر سکتا ہے۔

تتحقیق کے مرکزی محققین میں شامل نیوکاسل یونیورسٹی کے لیکچرار اولیور شینون نے بھی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ایک گلاس پھلوں کا جوس یا اسموتھی مسئلے کے حل کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوس استعمال کرنے والے افراد میں ڈپریشن کی سطح کم ہونا حوصلہ افزا ہے، تاہم خاص طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد میں اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص زیادہ مقدار میں جوس پینا شروع کردے۔ تحقیق میں خاص طور پر 100 فیصد خالص پھلوں کے جوس یا اسموتھی کو غذا کا حصہ بنانے کی بات کی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر پھل اور سبزیاں کھانا بھی اہم ہے۔

محققین کے مطابق ڈپریشن ایک پیچیدہ ذہنی بیماری ہے اور صرف خوراک کو اس کا علاج قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر کسی شخص کو مسلسل اداسی، بے دلی یا ذہنی دباؤ کا سامنا ہو تو اسے ماہر ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔