خطے میں امن کا واحد راستہ 'اسلام آباد میمورنڈم' پر عمل درآمد ہے: اسحاق ڈار
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر عمل درآمد ہی واحد راستہ ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے جمعے کے روز اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیتالی بیکر نے ملاقات کی، جس میں پاک امریکا دوطرفہ تعاون اور خطے میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران پاک امریکا تعلقات، دوطرفہ تعاون اور خطے کی حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی ناظم الامور نیتالی بیکر نے علاقائی امن اور استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ خطے کے امن اور سلامتی کے لیے بھی پُرعزم ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل درآمد کو خطے میں امن کا واحد حل قرار دیا۔
واضح رہے کہ 18 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی مدت ختم ہونے میں چند روز باقی ہیں۔ معاہدے کے تحت ایران اور امریکا نے جنگ بندی اور تنازع کے مستقل خاتمے سمیت دیگر معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
معاہدے پر دستخط کے بعد جولائی 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور دیگر نکات پر شدید اختلافات کے باعث امریکا نے ایران پر فضائی حملے شروع کردیے تھے جس کے جواب میں ایران نے بھی خلیجی ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا شروع کر دیا تھا۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تھی، جس میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔
اس ملاقات کے بعد ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور قطر کی حالیہ سفارتی کوششوں سے خطے میں امن کی کوششوں کو پھر سے تقویت ملی ہے۔ ترک خبر رساں ادارے ’انادولو‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات میں ایرانی قیادت کے ساتھ کچھ نئی تجاویز شیئر کی ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی امریکی خبر رساں ادارے ’بلوم برگ‘ کو انٹرویو میں بھی آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جلد کسی نتیجے پر پہنچنے کا اشارہ دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالات اب امن کی طرف جا رہے ہیں، گزشتہ چند روز میں ملنے والے اشارے بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ حل ہونے کے بالکل قریب ہیں۔












