کتوں کو ہمارے خوف، غصے اور خوشی کا علم کیسے ہوتا ہے؟

اگر آپ کا کتا آپ کے چہرے کو غور سے دیکھتا ہے، تو کیا وہ واقعی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ آپ خوش ہیں یا اداس؟
شائع 15 اگست 2026 10:45am

کتے صرف اپنے مالک کی آواز ہی نہیں سمجھتے بلکہ انسان کے چہرے کے تاثرات سے بھی اس کے جذبات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایک نئی سائنسی تحقیق میں پہلی بار کتوں کے دماغ کا جائزہ لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ انسان کے مختلف جذبات کو کس طرح محسوس کرتے ہیں۔

سائنسی جریدے ’آئی سائنس‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق آسٹریا کی یونیورسٹی آف ویانا سے وابستہ محققین نے کتوں کے دماغ کے اسکین کیے اور انہیں انسانوں کے مختلف چہروں کی تصاویر دکھائیں۔ محققین کے مطابق کتوں کے دماغ میں اس وقت نمایاں سرگرمی دیکھی گئی جب انہیں خوش انسانوں کے چہرے دکھائے گئے۔

تحقیق کے دوران پہلے آٹھ کتوں کے دماغ کا ایم آر آئی اسکین کیا گیا۔ ان میں چھ بارڈر کولی، ایک لیبراڈور اور ایک گولڈن ریٹریور شامل تھا۔ کتوں کو اجنبی لوگوں کے خوش اور غیر جانب دار چہروں کی تصاویر دکھائی گئیں۔

یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔ جب کتوں نے خوش چہرے دیکھے تو ان کے دماغ کے ان حصوں میں سرگرمی بڑھ گئی جو سوچنے، انعام اور مثبت تجربات سے متعلق ہیں۔ خاص طور پر ٹمپورل کارٹیکس اور کیوڈیٹ نیوکلیئس میں نمایاں سرگرمی دیکھی گئی۔

تحقیق کی سینئر مصنفہ لورا کوایا کے مطابق اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خوش انسان کا چہرہ کتوں کے لیے محض ایک تصویر نہیں ہوتا بلکہ اس کی کوئی جذباتی اہمیت بھی ہو سکتی ہے۔

اس کے بعد سائنس دانوں نے سوال کو مزید آگے بڑھایا۔ اگر کتے خوشی کو پہچان سکتے ہیں تو کیا وہ غصہ، خوف اور اداسی میں بھی فرق کر سکتے ہیں؟

اس مقصد کے لیے 12 کتوں کو خوش، غصے، خوف اور اداسی کا اظہار کرنے والے انسانوں کے چہرے دکھائے گئے۔ اس دوران ان کے دماغ کی سرگرمی ریکارڈ کی گئی اور مشین لرننگ کے ذریعے اس کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج نے بتایا کہ غصے، خوف اور اداسی والے چہروں پر کتوں کے دماغ نے خوش چہروں جیسا ردعمل نہیں دیا۔ لیکن جب سائنس دانوں نے پورے دماغ کی سرگرمی کا جائزہ لیا تو ہر منفی جذبے کے لیے الگ طرح کے نمونے نظر آئے۔ یعنی کتے ان مختلف جذبات کو ایک دوسرے سے الگ محسوس کر سکتے ہیں، اگرچہ ان کے دماغ میں ان جذبات کا ردعمل خوشی سے مختلف انداز میں سامنے آتا ہے۔

یونیورسٹی آف ویانا کے محقق اور تحقیق کے پہلے مصنف راؤل ہرنانڈیز پیریز کے مطابق انسان چہرے کی بہت معمولی تبدیلیوں سے بھی کسی کے جذبات کا اندازہ لگا لیتے ہیں اور کتے بھی ایسی باریک تبدیلیوں پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کتوں کے دماغ کا مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ رہتے رہتے ان میں اتنی مضبوط سماجی اور جذباتی سمجھ کیسے پیدا ہوئی۔

یہ صلاحیت اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ انسان اور کتے ایک ہی ارتقائی راستے سے نہیں گزرے۔ انسانوں اور بندروں کے درمیان بعض صلاحیتیں مشترکہ ارتقائی تاریخ سے جڑی ہو سکتی ہیں، لیکن کتوں کے معاملے میں صورتحال مختلف ہے۔ انہوں نے انسانوں کے ساتھ ہزاروں سال کے تعلق اور گھریلو زندگی کے دوران ایسی سماجی صلاحیتیں پیدا کیں جنہوں نے انہیں ہمارے اشارے سمجھنے میں مدد دی۔

تحقیق میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ لورا کوایا اور راؤل ہرنانڈیز پیریز پیشہ ورانہ طور پر تو اس تحقیق کا حصہ ہیں ہی، ذاتی زندگی میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ ان کے اپنے دو کتے، اوڈن اور کُن کُن، بھی اس تحقیق میں شامل تھے۔

راؤل ہرنانڈیز پیریز کے مطابق کتوں کے دماغ میں کیوڈیٹ نیوکلیئس کی سرگرمی دیکھنا خاص طور پر دلچسپ تھا۔ دماغ کا یہ حصہ مختلف جانوروں میں انعام سے متعلق عمل کے ساتھ منسلک سمجھا جاتا ہے۔ کتوں میں اس کا تعلق صرف کھانے جیسے انعامات سے نہیں بلکہ سماجی انعامات سے بھی دیکھا گیا ہے، مثلاً تعریف کے الفاظ سننا یا کسی مانوس شخص کی خوشبو محسوس کرنا۔

تاہم محققین یہاں ایک اہم احتیاط بھی بتاتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کتا انسان کے چہرے کو دیکھ کر بالکل اسی طرح خوشی، غم یا خوف محسوس کرتا ہے جیسے انسان کرتا ہے۔ کیونکہ ہم کتے کے ذہن میں براہ راست نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی اس کے ذاتی تجربے کو لفظوں میں بیان کرسکتے ہیں۔

البتہ دماغی سرگرمی کے یہ نتائج ضرور بتاتے ہیں کہ خوش انسان کا چہرہ کتوں کے لیے ایک مثبت جذباتی اشارہ ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر سامنے والا شخص ان کے لیے اجنبی ہی کیوں نہ ہو۔

اور حقیقی زندگی میں تو کتے صرف چہرہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے۔ ہماری آواز کا اتار چڑھاؤ، جسمانی حرکات، انداز گفتگو اور خوشبو بھی ان کے لیے اہم اشارے ہوتے ہیں۔ اس لیے جب کوئی کتا اپنے مالک کے موڈ میں تبدیلی محسوس کرتا ہے تو ممکن ہے وہ صرف چہرے کو نہیں بلکہ ان تمام چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو ایک ساتھ محسوس کر رہا ہو۔

اس تحقیق میں شامل کتوں کا انتخاب بھی عام طریقے سے نہیں کیا گیا تھا۔ انہیں ایم آر آئی مشین میں پرسکون رہنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی۔ ابتدا میں انہیں صرف ایک یا دو سیکنڈ تک ساکت رہنے کی مشق کرائی گئی اور پھر یہ وقت آہستہ آہستہ بڑھایا گیا۔ اس کے بعد انہیں مشین کی جگہ، آلات اور اسکینر کی آوازوں سے مانوس کیا گیا۔

محققین کے مطابق کتوں کو یہ سمجھانا کہ ’کچھ نہ کرنا ہی کام ہے‘ تربیت کا مشکل حصہ تھا۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ کتوں نے اس تحقیق میں اپنی مرضی سے حصہ لیا اور وہ کسی بھی وقت وہاں سے جا سکتے تھے۔

اس تحقیق کی کچھ حدود بھی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں کتوں کی تعداد بہت کم تھی اور ان میں زیادہ تر بارڈر کولی نسل کے تھے۔ بارڈر کولی اپنی ذہانت اور انسانوں کے سماجی اشاروں کو سمجھنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ دوسری نسلوں کے کتے انسانی چہروں کے تاثرات کو مختلف انداز سے سمجھتے ہوں۔

سائنس دان اب مزید تحقیق کے ذریعے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مختلف نسلوں کے کتوں میں انسانی جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت کس حد تک مختلف ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ کتے ان جذباتی اشاروں کو اپنی روزمرہ زندگی میں کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

شاید اس تحقیق کی سب سے دلچسپ بات یہی ہے کہ کتے ہمارے جذبات کو صرف دیکھتے نہیں بلکہ انہیں سمجھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اگر سائنس دان یہ جاننے میں مزید کامیاب ہوتے ہیں کہ کتے ہماری خوشی، اداسی، پریشانی یا خوف کو کیسے محسوس کرتے ہیں تو شاید ہم بھی ان کے اشاروں اور جذبات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

انسان اور کتے کا تعلق صرف الفاظ تک محدود نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے چہرے، آواز اور رویے سے بہت کچھ سمجھ لیتے ہیں، اور شاید یہی چیز اس رشتے کو اتنا خاص بناتی ہے۔