میر رضا ہلاکت کیس: تفتیش مالی معاملات اور قرض کے تنازع کی طرف موڑ دی گئی

تفتیشی ٹیم نے میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد سے پیر کو تقریباً تین گھنٹے تک تفصیلی پوچھ گچھ کی: پولیس ذرائع
شائع 17 اگست 2026 11:59am

کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کے بعد مارے جانے والے نوجوان بزنس مین میر رضا علی خان کے مالی معاملات اور قرضوں کا لین دین تفتیش کا اہم اور مرکزی رخ بن گئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد سے تفتیشی ٹیم نے پیر کو تقریباً تین گھنٹے تک تفصیلی پوچھ گچھ کی، اس کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ تین سے چار افراد نے میر رضا سے اپنے دیے گئے قرضے کی واپسی کے لیے رابطہ کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض افراد نے پچیس لاکھ جبکہ کچھ نے پچاس لاکھ روپے کی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد پولیس اور تفتیشی ٹیمیں رقم کا مطالبہ کرنے والے ان تمام افراد کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں اور کیس میں مزید اہم افراد کو شاملِ تفتیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

تفتیشی ٹیم کے رکن انسپکٹر غلام نبی آفریدی نے جائے وقوعہ کا دوبارہ دورہ بھی کیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاں سے تاحال کوئی نیا اہم ثبوت حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

دوسری جانب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے میر رضا کی اسمارٹ واچ اور موبائل فون واپس لے لیے گئے ہیں اور پولیس مقتول کے گھر سے لے کر جائے وقوعہ تک کے راستے کی مزید سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس کیس کی تمام تر تحقیقات مختلف اور تمام ممکنہ زاویوں سے جاری ہیں تاکہ قاتلوں تک پہنچا جا سکے۔

واضح رہے کہ میر رضا اٹھائیس جولائی کی صبح چار بج کر نو منٹ پر اپنے گھر سے ایک آن لائن ٹیکسی کے ذریعے نکلے تھے جس کے بعد وہ لاپتا ہو گئے تھے۔ دو دن بعد ان کی گولی لگی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے باہر سے انتہائی خراب حالت میں ملی تھی، جبکہ ان کی موت سے ٹھیک ایک دن پہلے ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی پراسرار طور پر بند کر دیے گئے تھے۔