محسن انسانیت عبدالستار ایدھی کی زندگی پر ایک نظر
فائل فوٹوعبدالستار ایدھی کی خدمات نے تاریخ انسانی پرانمٹ نقوش ثبت کئے،بے لوث خدمت اور دکھی انسانیت کوسکھ پہنچانے کا مشن ذندگی بھرنبھانے والے ایدھی کی زندگی پرڈالتے ہیں ایک نظر۔
فقیر منش ، انسان دوست اور انسانیت کے خدمت گارعبدالستار ایدھی وہ نام ہے جسے سن کرعقیدت اورمحبت کے جذبات دلوں میں امڈآتے ہیں۔
عبدالستارایدھی یکم جنوری 1928 میں ہندوستان کی ریاست گجرات کےبانٹوامیمن گھرانے میں پیدا ہوئے،11 سال کی کم عمری میں ہی والدہ کے پیرالائزہونے پرتیمارداری اورخدمت گزاری میں بیشتروقت گزرا۔
تقسیم ہند کے وقت 19 سال کی عمرمیں آبائی گھرچھوڑااورہجرت کی صعوبت اٹھائی،عبدالستارایدھی اپنے خاندان کے ساتھ کراچی میں آباد ہوئے۔
تقسیم ہندکےبعد نفسا نفسی کے ابتردورمیں فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کرلوگوں کی مدد کرنا شروع کی ،بعدازاں اپنے بل بوتے پرفلاحی سرگرمیوں کوجاری رکھا اور1951 میں 5000روپے سےایک کلینک قائم کیا۔
عبدالستار ایدھی نےاپنی فلاحی سرگرمیوں کا دائرہ کاربڑھانے کے لئے' ایدھی فاؤنڈیشن' کی بنیاد رکھی،ایدھی صاحب کی شریک حیات بلقیس ایدھی بھی ان کی فلاحی خدمات میں ان کی معاون ورفیق بنیں۔
جبکہ صاحبزادے فیصل ایدھی بھی انسانیت کے خدمت کے مشن کوآگے بڑھانے میں عبدالستارایدھی کا دست بازوبنے۔ طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد انسانیت کا محسن چل بسا،عبدالستار ایدھی کی رحلت پر پورا پاکستان سوگوار ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔