سپریم کورٹ کاپاناما کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

شائع 04 جنوری 2017 10:50am
فائل فوٹو فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سپریم کورٹ کے نئے 5رکنی بنچ نے جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں بدھ کے روز پاناما کیس کی از سر نو سماعت کی، مقدمہ کے ایک فریق وکیل طارق اسد نے کمیشن بنانےکی درخواست کی۔

عدالت نے کہاکہ اب اس کیس میں التواء نہیں ملے گا اور سماعت روزانہ ہوگی۔ عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کو مقدمے سے متعلق میڈیا پربیان بازی سے گریزکرنے کی ہدایت بھی کی۔

نعیم بخاری نے وزیراعظم کونااہل قراردینے اور لندن میں 33 ملین ڈالر کی ادائیگی ہونے پروزیراعلی شہبازشریف کو طلب کرنے کی درخواست بھی کی۔

 جس پرجسٹس کھوسہ نے کہاکہ مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں ،جائیداد میاں شریف کی تھی اور ان کی کوئی وصیت تھی تواس کوبھی سامنے آنا چاہیے، یہ بھی دیکھنا ہوگاکہ قطر کے خاندان اورشریف فیملی کے معاملات کس فورم پر طے ہوئے۔

 دبئی فیکٹری کا ذکر آیا تو جسٹس عظمت نے کہا کہ اس کے حسابات سے متعلق شریف خاندان کوجواب دینا ہوگا ۔

ججز نے ریمارکس میں پوچھاکہ بیرون ملک قانون کی خلاف وزری پر سزا کیا پاکستان میں دی جاسکتی ہے،12 ملین درہم رقم دو دہائیوں تک کہاں رہی۔

  جسٹس کھوسہ نے کہا کہ نوازشریف نے 1997میں کہاکہ بزنس سے الگ رہیں گے ، انہوں نے سیاست کے ساتھ بزنس بھی کیا ، دیکھنا ہوگا کہ کیا سرکاری عہدے کا غلط استعمال تو نہیں ہوا۔

عدالت نے محمد نوازشریف کے وزیر، وزیراعلی اوروزیراعظم کے  عہدے پرفائزہونے کی تفصیلات بھی طلب کرلیں، مقدمے کی مزید سماعت اب کل ہوگی ۔