کمپنیوں کی ملکیت تسلیم کرنے والی دستاویز بھی ان کی ذمہ داری ہے،سپریم کورٹ
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے کہاکہ کمپنیوں کی ملکیت تسلیم کرنے والی دستاویزبھی ان کی ذمہ داری ہے ، بے نامی کہنا نہیں ثابت بھی کرنا ہے ،ٹرسٹ ڈیڈ کا قانونی ہونا بھی ایک سوال ہے ۔
سپریم کورٹ میں پاناما پیپرزکیس کی تیسرے روزبھی سماعت جسٹس سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نے کی۔
نعیم بخاری نے دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہ لندن فلیٹس کے اصل مالک نوازشریف ہیں ، 1993 سے 1996 کے درمیان خریدے گئےفلیٹس کے وقت مریم نوازکم عمرتھی ، دنیا کودکھانے بینیفشری ظاہرکیا گیا ، فلیٹس کی اصل مالک مریم نوازہی ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات سے مریم کے زیرکفالت ہونے کا معاملہ واضح نہیں ہوتا۔ لندن فلیٹس مریم نوازکو کب اور کیسے منتقل ہوئے ۔
نعیم بخاری نے دلائل دیئے کہ تحقیقاتی ادارے کی معلومات کے تحت لندن فلیٹس کرائے پرنہیں دیئے گئےمریم اوران کی فیملی نے فلیٹس میں رہائش اختیارکی۔
جسٹس اعجازافضل نے نعیم بخاری سے استفسارکیا کہ التوفیق کیس میں مریم نوازکا نام نہیں تھا کیا مریم نوازکی جائیداد منتقلی کا کوئی دستاویزی ثبوت ہے۔
جسٹس کھوسہ نے کہاکہ ایک دستاویزمریم نواز، سامبا بنک اورمنروا کمپنی سے تعلق ظاہرکرتی ہے یہ تعلق 2005 کا لگتا ہے۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا کوئی ایسی دستاویزہے جس سے ثابت ہوکہ 2006 کی ٹرسٹ ڈیڈ غلط ہے ،جس پرنعیم بخاری نے معذرت کرتے ہوے کہاکہ مریم نوازکی زمہ داری ہے کہ وہ اپنی فراہم کردہ دستاویزسے ثابت کریں۔
جسٹس کھوسہ نے کہاکہ بظاہرلگتا ہے فلیٹس خاندانی سرمایہ سے خریدے گئے ۔
جسٹس عظمت نے کہاکہ تنازعہ صرف ٹرسٹی اوربینیفیشل مالک کا ہے اور کیا ٹرسٹ ڈیڈ قانون کے مطابق ہے ،فلیٹس کی آمدن نہیں تھی توٹرسٹ ڈیڈ کی کیا ضرورت تھی ۔
جسٹس عظمت نے کہاکہ بے نامی صرف کہہ دینا کافی نہیں ہوگا بے نامی کا قانون موجود ہے گپ شپ سے نہیں ہوگا ،ٹرسٹ ڈیڈ کا قانونی ہونا بھی ایک سوال ہے۔
جسٹس کھوسہ نے کہاکہ وہ کمپنیوں ملکیت تسلیم کرتے ہیں تودستاویزدینا بھی ان کی ذمہ داری ہے دوسرے فریق کی ذمہ داری ہے کہ کمپنیاں کب بنیں کس نے بنائیں اور پیسہ کہاں سے آیا۔
جسٹس کھوسہ نےکہاکہ اصل سوال ریکارڈ کا ہے ، کمپنیاں شریف خاندان کی ہیں اس لئے ریکارڈ پیش کرنا ہوگا منی ٹریل پیش کرنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔
جسٹس عظمت سعید نے نعیم بخاری سے کہاکہ شواہد ریکارڈ کرنے کی بات پر بائیکاٹ کا کہتےہیں شریف خاندان نے صرف شیئرزسر ٹیفکیٹ پیش کئے ہیں ،اگرشریف فیملی نے دستاویزات جمع کرائیں توماننی پڑیں گی ، تفصیل نہیں دیں گے تودستاویزات ادھوری ہوں گی۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ دستاویزات سے متعلق عدالت کومطمئن کریں، آپ نے ای میل کی فوٹو کاپی پیش کی ہے جو شکایت کنندہ کو نہیں بھیجی گئی ۔
جسٹس کھوسہ نے کہاکہ دوسرے فریق کا مؤقف سن کردستاویزپیش کرنے کا حکم دے سکتے ہیں ، کیس کی سماعت پیرتک ملتوی کردی گئی۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔