اکیسویں ترمیم کے خاتمے کے ساتھ ہی فوجی عدالتیں تحلیل
فائل فوٹواسلام آباد:اکیسویں ترمیم کے خاتمے کے ساتھ ہی نیشنل ایکشن پلان کے تحت دو برس قبل قائم ہونے والی فوجی عدالتیں تحلیل ہوگئیں۔
تفصیلات کے مطابق اکیسویں آئینی ترمیم کی مدت دوسال بعد 6جنوری کی رات بارہ بجے ختم ہوگئی،لہٰذا اب فوجی عدالتوں کے کیسز انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو منتقل ہوں گے۔اور تمام کیسزانسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت سنے جائیں گے۔
واضح رہے کہ آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد کل جماعتی کانفرنس میں نیپ کو حتمی شکل دی گئی۔
پارلیمنٹ نے چھ جنوری 2015کو اکیسویں آئینی ترمیم منظور کی اور دو سال کےلئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔
ترمیم کے تحت آرمی، نیوی، فضائیہ اور تحفظ پاکستان ایکٹ کے چند حصوں، عدالتوں کے دائرہ اختیار اور قیام کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 175میں معمولی ردوبدل کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام کو آئینی قراردیا اور ملک بھر میں 11 فوجی عدالتیں قائم ہوئیں۔
فوجی عدالتوں نے 2 برس کے دوران 274 کیسز نمٹائے،161 دہشت گردوں کو سزائے موت اور113 کوعمر قید کی سزا سنائی گئی، اب تک صرف 12 دہشت گردوں کی سزائے موت پرعملدرآمد ہو سکا ہے۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔