Aaj News

Live
Election 2024

’پکیاں سڑکاں ، سوکھے پینڈے‘ ترجیح، بجلی بلوں میں فوری ریلیف دینا ممکن نہیں

پنجاب کی نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز نے ترقیاتی منصوبوں اور پیکجز کا اع4لان کریدا
شائع 26 فروری 2024 04:09pm

پنجاب کی نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز نے اسمبلی میں ووٹنگ کے بعد جیت کر اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ 2015 میں شہباز شریف کے جاری کردہ صحت کارڈ کو ری ڈیزائن کرکے دوبارہ اجرا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہباز شریف کے وژن کے مطابق ’پکیاں سڑکاں، سوکھے پینڈے‘ پروگرام آگے بڑھائیں گی۔ یہ بھی بتایا کہ بجلی بلوں میں فوری ریلیف دینا ممکن نہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب کے عوام کے لیے رستے آسان کرتے ہوئے ہر سڑک پر پبلک ٹرانسپورٹ یقینی بنائیں گی۔ وہ 12 کروڑ پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں اور محفوظ پنجاب ان کا خواب ہے۔ لاہور کو فری وائی فائی شہر بنایا جائے گا، ، 5 سال کے اندرانٹرسٹی اور انٹرا سٹی سڑکیں مضبوط و محفوظ بنائیں گے، تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں میٹرو بس سروس شروع کریں گے۔

مریم نواز نے اعلان کیا کہ پنجاب میں ہیلتھ کارڈ بحال کرنے کے علاوہ 12 ہفتوں میں ائرایمبولینس سروس شروع کریں گے۔ ہیلتھ کارڈ کرپشن کی نذر ہورہا تھا جسے ری ڈیزائن کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقےکو تمام تر سہولتیں فراہم کرناحکومت کی ذمہ داری ہے جو ون ونڈو آپریشن کےذریعے دیں گے، گھربیٹھے کاروبار کرنے والوں کو وسائل مہیا اور نوجوانوں کو بلا سود قرض فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کےخلاف میری زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، کرپشن روکنے کےلیے ایک ٹھوس مکینزم لےکر آئیں گے اور عوام سے رابطےکے لیے میری ہیلپ لائنز سب کےلیےکھلی رہیں گی، ہم عوام کے خادم ہیں کرسی لے کر بیٹھنے نہیں آئے۔

پہلے خطاب م،یں مریم کا کہنا تھا کہمضان المبارک کیلئے ’نگہبان‘ کے نام سے ریلیف پیکج بنایاگیا ہے جس کے تحت مستحقین کو انکی دہلیز پر احق پہنچایا جائےگا، سستے رمضان بازار لگا کر ان کی مانیٹرنگ کریں گے، ماہ مبارک میں قیمتیں کنٹرول میں رکھنے کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو موثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 60 اور 70 ہزار روپےماہانہ کمانے والےمستحقین کی صف میں آتے ہیں، ان سے متعلق مکمل ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔

سب کی وزیراعلیٰ ہوں، دل میں کسی کے لیے کوئی بدلے کاجذبہ نہیں، مریم نواز

صوبے کے ہر ضلع میں دانش اسکول بنانے کا اعلان کرنے والی مریم نے کہا کہ فیس نہ دے سکنے والے ذہین طلب کا بوجھ حکومت پنجاب اٹھائےگی، انہیں عالمی معیارکی یونیورسٹیوں میں تعلیم دلائیں گے۔ پنجاب میں کم از کم 5 آئی ٹی سینٹرقائم کریں گے۔۫ طلبا کو لیپ ٹاپ اور اسکالر شپ فراہم کریں گے۔

مریم نے کہا کہ پولیس سمیت دیگر اداروں میں انٹرن شپ پروگرام شروع کر کے طلبہ اوردیگرنوجوانون میں الیکٹرک موٹربائیکس تقسیم کریں گے۔ نئے اساتذہ کی بھرتیاں شروع کی جائیں گی، تعلیمی اداروں میں سہولتوں کا فقدان ختم کر کے اسکول ٹرانسپورٹ سسٹم دیں گے۔ تعلیمی نصاب پر نظرثانی کی جائےگی، امیر اور غریب طالبعلم کا فرق ختم کیا جائےگا۔

پہلے خطاب میں مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ 43 بنیادی خدمات کو ڈیجیٹلائزکریں گے ،فون کال پر خدمت آپکےگھرکی دہلیز پرپہنچے گی،صوبےکے 18 شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹس بنائیں گے، تھانہ کلچر بہتر بنا کر صوبے میں ماڈل پولیس اسٹیشنز بنائیں گے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ رعایتی نرخوں پر کسانوں کو جدید مشینری کی فراہمی کیلئے ون ونڈو آپریشن شرع کریں گے۔ صاف ستھرا پنجاب اسکیم کے تحت اضلاع میں مسابقتی رجحان پیدا کیا جائے گا۔ ، اوورسیزپاکستانیون کے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ آلودگی سے نجات کے لیے بھی ٹیمیں بٹھا دی ہیں۔

گو کہ ن لیگ کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران مفت بجلی کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم آج مریم کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں اس لیے بلوں میں فوری ریلیف دینا ممکن نہیں، اس مقصد کے لیے ٹیمیں بٹھا دی ہیں، کوشش کریں گے کہ عوام کو جلد بجلی کے بلوں میں ریلیف دیا جاسکے۔

این اے 15 مانسہرہ کیس: الیکشن کمیشن کا تمام فریقین کو دستاویزات دینے کا حکم

کبھی آپ تاخیر سے آتے ہیں، کبھی کہتے ہیں ریکارڈ نہیں ملا اسٹے کو ملتوی نہیں کیا جاسکتا، چیف الیکشن کمشنر
اپ ڈیٹ 26 فروری 2024 03:41pm

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے این اے 15 مانسہرہ سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کی عذرداری پر تمام فریقین سے دلائل طلب کرتے ہوئے تمام فریقین کو دستاویزات دینے کا حکم دے دیا، چیف الیکشن کمشنر نے نوازشریف کے وکیل جہانگیر جدون کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کبھی آپ تاخیرسے آتے ہیں، کبھی کہتے ہیں ریکارڈ نہیں ملا اسٹے کوغیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں کیا جاسکتا، آج اسٹے ختم کرنے کی درخواست پرعبوری آرڈرجاری کریں گے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 2 رکنی کمیشن ںے سابق وزیراعظم نواز شریف کی این اے 15 مانسہرہ کی انتخابی عذرداری پر سماعت کی۔

نواز شریف کے وکیل بیرسٹرجہانگیر جدون الیکشن کمیشن پیش ہوئے جبکہ گشتاسب خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں نواز شریف کے وکیل بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کی رپورٹ تاحال نہیں دی گئی، ریٹرننگ افسر کی رپورٹ پڑھے بغیر دلائل نہیں دے سکتے۔

کامیاب امیدوار گشتاسپ خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ آر او کی رپورٹ سب کو مل گئی، گشتاسپ خان 25 ہزار کی لیڈ سے جیتے، قانون کے مطابق 25 ہزار کا فرق ہو تو دوبارہ گنتی نہیں کی جا سکتی، الیکشن کمیشن کے حکم کی وجہ سے گشتاسب خان کا نوٹیفکیشن رکا ہوا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم اسٹے ختم کر دیتے ہیں، دلائل کے لیے مزید وقت دے دیتے ہیں، صرف دلائل کے لیے اسٹے کو مزید نہیں بڑھا سکتے، الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے اسٹے کو جلد از جلد ختم ہونا چاہیئے۔

چیف الیکشن کمشنر نے جہانگیرجدون سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس جتنا مرضی طویل کریں، ہم اسٹے پر فیصلہ کردیتے ہیں، کبھی آپ تاخیر سے آتے ہیں، کبھی کہتے ہیں ریکارڈ نہیں ملا۔

الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو دستاویزات دینے کا حکم دے دیا۔

وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمیں حتمی دلائل دینے کا آخری موقع دے، 125 پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ فارم 47 میں شامل نہیں کیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے رپورٹ میں 125 پولنگ اسٹیشنز کے ووٹ شامل نہ ہونے کا دعویٰ مسترد کیا ہے۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ فارم 47 مرتب کرتے وقت نوازشریف کی جانب سے کوئی آر او کے آفس نہیں گیا۔

الیکشن کمیشن نے تمام فریقین کو کل دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے این اے 15 مانسہرہ عذرداری سے متعلق سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار شہزادہ گشتاسپ خان کامیاب ہوئے تھے۔

این اے 106 سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

دوسری جانب قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 106 ٹوبہ ٹیک سنگھ کی انتخابی عذداری کیس کی سماعت کے دوران ریٹرنگ افسر نے اپنی رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرا دی۔

بیرسٹر ظفراللہ نے مؤقف اپنایا کہ پورے حلقے میں پرامن طریقے سے پولنگ ہوئی، پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی مگر یہ خود نہیں آئے۔

وکیل درخوست گزار نے کہا کہ فارم 45 کے مطابق ہم 7 ہزار کی لیڈ سے جیت چکے ہیں، فارم 47 کے مطابق مجھے 600 سے ہروادیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ پی کے 29 کی انتخابی عذر داری پر بھی فیصلہ محٖفوظ کر لیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے پی بی 23 سے سابق وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو کی انتخابی عذرداری کیس الیکشن ٹربیونل کے سپرد کردیا۔

وزیر اعلیٰ کی تضحیک کی گئی تو جواب دیں گے، عظمیٰ بخاری

ہم نے ہمیشہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی ہے، ن لیگ رہنما
شائع 26 فروری 2024 10:34am

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی ہے، مریم نواز ایک مختلف وزیراعلیٰ ہوں گی، ان کی تضحیک کی گئی تو جواب دیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 26 فروری پاکستان اور پنجاب کے لیے اہم دن ہے، ایوان سے منتخب ہونے کے بعد مریم نواز روڈ میپ عوام کو دیں گی، عوام کی خدمت کے لیے مریم نواز کی قیادت میں کام کریں گے اور عام آدمی کو ریلیف پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ایک انقلابی پروگرام عوام کے سامنے پیش کریں گی، ان کے حلف اٹھانے کے 5 منٹ کے بعد چیزوں پر عمل درآمد ہوتا نظر آئے گا، مریم نواز کا خطاب خواہ مخواہ نہیں بلکہ کئی ماہ کی محنت موجود ہے۔

ن لیگ کی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے لوگوں کی مشکلات ختم کرنے کی پوری کوشش کریں گے، ہم نے تو ہمیشہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی ہے، ہم نے کبھی رولز کو پار نہیں کیا، ہم نے کبھی ڈپٹی اسپیکر کے بال نہیں نوچے، نہ دھینگا مشتی کی، ہم پر جو تنقید کرے گا تو اپنی اصلاح کریں گے لیکن اگر وزیراعلیٰ کی تضحیک کی جائے گی تو جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی وزیر اعلیٰ نے وقت ہاؤس کو نہیں دیا، وہ پہلا ووٹ ڈالنے سے پہلے اور آخری ووٹ تک ہاؤس میں موجود رہیں، ہماری وزیر اعلیٰ ہر فورم پر نظر آئیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حمزہ شہباز قومی اسمبلی جا رہے ہیں وہاں وہ حلف لیں گے، اسلم اقبال اگر نفری سے ڈرتے تو فرعون نہ بنتے، ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں جس پر پچھتانا پڑے، بہت ساری قانون سازی رکی ہوئی ہے، مریم نواز ایک مختلف وزیر اعلی ہوں گی، کام کرنے کا اسٹائل مختلف ہوگا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہمارے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہوگا، جن لوگوں نے 9 مئی کا واقعہ کیا وہ سیاسی قیدی نہیں، مال غنیمت سمیٹنے، کور کمانڈر ہاؤس جلانے والوں کو معاف کرنے کی قانون میں گنجائش نہیں، 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو کوئی بھی معاف نہیں کرے گا۔

ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی اسمبلی میں اقدار کی پامالی نہیں کی، ہمیں اپنا تحفظ اور جواب دینا اچھے طریقے سے آتا ہے، وزیر اعلیٰ کی تضحیک کی جائے گی تو جواب دیں گے، مریم نواز کی قیادت میں بچیوں پر تیزاب گردی کے واقعات ختم کریں گے۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ مریم نواز روایتی وزیراعلیٰ نہیں ہوں گی، ان کی سوچ مختلف ہے، آپ کو کام ہوتا نظر آئے گا، مریم نواز عام آدمی کی زندگی میں بہتری لائیں گی، مہنگائی کم اور روزگار فراہم کرنا ہمارا منشور ہے۔

پیپلز پارٹی کے اویس قادر شاہ اسپیکر اور انتھونی نوید پہلے مسیحی ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب

پی ٹی آئی کے آزاد اراکین نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ووٹ کاسٹ نہیں کیے
اپ ڈیٹ 25 فروری 2024 07:32pm

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نامزد امیدوار اویس قادر شاہ اسپیکر اور انتھونی نوید ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب ہوگئے ہیں، پولنگ کے نتائج آنے کے بعد دونوں نے عہدے کا حلف اٹھا لیا، جبکہ اجلاس کل دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ پی ٹی آئی کے آزاد اراکین نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ اسپیکر کے لیے پیپلز پارٹی کے اویس قادر شاہ اور ایم کیو ایم کی صوفیہ سعید شاہ کے درمیان مقابلہ تھا۔

انتھونی نوید پاکستان کی تاریخ کے پہلےغیرمسلم ڈپٹی اسپیکر بن گئے ہیں، ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 147 ووٹ کاسٹ کیے گئے، جس میں سے انتھونی نوید کو 111 ووٹ ملے جبکہ ایم کیو ایم کے راشد خان نے 36 ووٹ حاصل کیے۔

اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس 19 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے تمام اراکین کو انتخاب کا طریقہ کار بتایا، جس کے بعد اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے کیا گیا، ارکان کو حروف تہجی کی بنیاد پر پکارا گیا اور ارکان سندھ اسمبلی نے اسی ترتیب سے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے 9 آزاد اراکین اور ایک جماعت اسلامی کے رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور انتخاب کا بائیکاٹ کردیا، آزاد ارکان نے نام پکارنے پر ووٹ کاسٹ نہیں کیے۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر کے انتخاب کے لیے آخری ووٹ آغا سراج درانی نے کاسٹ کیا جس کے بعد گنتی کا عمل شروع کیا گیا جبکہ اسپیکر کے انتخاب میں 147 مجموعی ووٹ کاسٹ ہوئے۔

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد گنتی کی گئی اور اسپیکر آغا سراج درانی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پیپلزپارٹی کے سید اویس قادر شاہ سندھ اسمبلی کے 12ویں اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اویس قادر شاہ نے 111 اور ان کی مخالف امیدوار ایم کیو ایم کی صوفیہ سعید شاہ نے 36 ووٹ حاصل کیے۔

اویس قادر شاہ حلف اٹھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو ایوان میں ’بھٹو زندہ باد‘ کے نعرے گونجنے لگے، اس کے بعد اویس قادر شاہ نے سندھی زبان میں اسپیکر سندھ اسمبلی کا حلف اٹھا لیا، آغا سراج درانی نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔

اویس قادر شاہ تیسری مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ حلف اٹھانے کے بعد اویس قادر شاہ نے اسپیکر سندھ اسمبلی کی کرسی سنبھال لی۔

ایم کیو ایم کی صوفیہ سعید شاہ نے نو منتخب اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ کو مبارکباد دی۔

اویس قادر شاہ کا خطاب

اویس قادر شاہ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ بلاول بھٹو، آصف زرداری اور فریال تالپور کا شکر گزار ہوں، پیپلزپارٹی کو کامیاب کروانے کے لیے سندھ کی عوام کا شکر گزار ہوں، اس عہدے کو غیر جانبدار رہ کر فرائض انجام دوں گا۔

اویس قادر شاہ نے کہا کہ سکھر سے پہلی بار سندھ اسمبلی کا اسپیکر بنا ہے، یہ میرے خاندان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، سندھ اسمبلی نے قرارداد پاکستان پاس کی، پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمدعلی جناح بیٹھے، قیام پاکستان کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس بھی اسی اسمبلی میں ہوا، لیاقت علی خان نے بھی قومی پرچم اسی اسمبلی میں لہرایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے لیے اس اسمبلی کا اسپیکر بننا بہت بڑا اعزاز ہے، تمام ممبران کو ساتھ لے کر چلوں گا، ماضی میں جو کچھ ہوا اسے بھول کر نئی شروعات کریں۔

ڈپٹی اسپیکر کے لیے پیپلز پارٹی کے نوید انتھونی امیدوار ہیں جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے راشد خان میدان میں ہیں۔

مراد علی شاہ کی مبارکباد

ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد سندھ اسمبلی اظہار خیال کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے نومنتخ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو مبارکباد دی اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنان کو مشکل میں جو فرض دیا جاتا ہے نبھاتے ہیں، آغا سراج درانی کے والد بھی اسپیکر تھے، امید ہے خورشید شاہ نے جس طرح پیپلز پارٹی کی خدمت کی آپ بھی کریں گے ، آپ کو بھی اسپیکر کی کرسی ملی آپ کی بھی سیاسی جدوجہد ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی پاکستان بنانے والی اسمبلی ہے، سندھ نے ہمیشہ پاکستان کو بچایا اور بچائے گا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک میں جمہوریت کیلئے جان قربان کی، تمام اراکین سے درخواست کروں گا کہ اسپیکر کے ساتھ تعاون کریں۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر

پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کی جانب سے اویس قادر شاہ کو اسپیکر اور نوید انتھونی کو ڈپٹی اسپیکر کے لیے نامزد کیا گیا جن کے کاغذات بھی درست قرار دیے گئے ۔

متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کی طرف سے صوفیہ سعید شاہ اسپیکر اور راشد خان ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار تھے اور ان کے بھی کاغذات نامزدگی درست قرار دیے گئے ۔

امید ہے مراد علی شاہ مخصوص لوگوں کے لیے کام نہیں کریں گے، عبدالوسیم

ایم کیو ایم کے رہنما عبدالوسیم نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان میں جب قانون سازی ہوگی تو آگے دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔

عبدالوسیم نے کہا کہ مراد علی شاہ کو آج ہی مبارکباد دیتا ہوں، ان سے امید ہے وہ مخصوص لوگوں کے لیے کام نہیں کریں گے، وہ سب کے لیے کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام نفرتیں جو نظر آرہی ہیں، امید ہے وہ چیزیں نظر نہ آئیں، مہنگائی لوڈ شیڈنگ سمیت ہم کئی مسائل سے لڑ رہے ہیں۔

نومنتخب اراکین سندھ اسمبلی نے حلف اٹھا لیا

قبل ازیں سنی اتحاد کونسل کے 9 اور جماعت اسلامی کے ایک رکن سندھ اسمبلی نے حلف اٹھا لیا۔

اجلاس کے آغاز پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے 9 آزاد اراکین اور جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق سمیت 10 ارکان نے سندھ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا، جس کے نتیجے میں حلف اٹھانے والے ارکان کی مجموعی تعداد 157 ہوگئی۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے نومنتخب اراکین سے حلف لیا جبکہ جی ڈی اے کے 3 اراکین آج بھی غیر حاضر ہیں۔

پینل آف چیئر کا اعلان

جانے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے پینل آف چیئر کا اعلان کر دیا۔

اعلان کردہ پینل آف چیئر میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما شرجیل انعام میمن، سعید غنی، ندا کھوڑو اور علی خورشیدی شامل ہیں۔

اعلان کردہ پینل آف چیئر سپیکر اور ڈپٹی کی اسپیکر کی غیر موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلائے گا۔

مراد علی شاہ

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے نامزد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی بہتری کےلیے ہم سب بہترکردار ادا کریں گے، انتخابی مہم کے دوران ہمارے 12 کارکنان شہید ہوئے، آج اسمبلی کا حلف اٹھانے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں مشکل وقت گزرا ہے، دہشت گردی نے دوبارہ جنم لیا، آنے والی حکومت کے لیے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چیلنج ہوگا، بہادر افواج نے دہشت گردی کا مقابلے کرتے ہوئے شہادتیں پیش کیں۔

اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ووٹ کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا، سجاد سومرو

سنی اتحاد کونسل کے رکن سندھ اسمبلی سجاد علی سومرو نے کہا ہے کہ آج ہمارے 9 ارکان حلف لیں گے، ہم پی ٹی آئی کے منتخب ایم پی ایز ہیں، سنی اتحاد کونسل سے الحاق کیا ہے۔

سجاد سومرو کا کہنا ہے کہ ہم پورے کراچی میں جیت چکے ہیں، نتائج تبدیل کیے گئے، لیاری مسائل کا گڑھ ہے، گٹر کے مسائل سے نکل نہیں سکے، ہم پورے کراچی کے حقوق کی بات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ووٹ کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا۔

ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انتھونی نوید کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے مجھ پر اعتماد کیا، پہلی بار کوئی غیرمسلم سندھ اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ سنبھالنے جا رہا ہے، پیپلز پارٹی کا یہ اقدام غیر مسلم کمیونٹی کے لیے اعتماد کا باعث ہے، قیادت نے عام کارکن کو بڑی ذمہ داری دی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کی طرف سے صوفیہ سعید شاہ سپیکر اور راشد خان ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار تھے اور ان کے بھی کاغذات نامزدگی درست قرار دیے گئے ۔

پی ٹی آئی ارکان

پی ٹی آئی کے اراکین بھی نعرے لگاتے ہوئے سندھ اسمبلی پہنچے۔

تحریک انصاف کے ارکان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اسمبلی پہنچے ہیں، ہمارے ارکان نے بڑی محنت سے کامیابی حاصل کی، ہم نے گزشتہ روز اس لیے حلف نہیں اٹھایا کیونکہ جو بھی حلف اٹھا رہے تھے وہ جھوٹ پر حلف اٹھا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج اسمبلی میں ہمارے حلف کی آواز گونجے گی، ہم عوامی حمایت سے انتخاب لڑ کر آئے ہیں۔

سیکیورٹی انتظامات

اسمبلی کے اطراف کی سڑکیں کنٹینرز لگا کر بند کردی گئی تھیں جبکہ پریس کلب سے فوراہ چوک جانے والی سڑک بھی کنٹینر لگا کر بند کی گئی تھی۔

آئی آئی چندریگر روڈ سے شاہین کمپیلیکس جانے والی سڑک کے اطراف بھی کنٹینرز لگائے گئے تھے۔

کل کتنے ارکان نے حلف نہیں اٹھایا؟

یاد رہے کہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے 168 نومنتخب ارکان میں سے 148 نے حلف اٹھایا تھا، سندھ اسمبلی میں حلف لینے والوں میں 112 ارکان کا پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ 36 کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے تھا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے سندھی، اردو اور انگریزی زبان میں ارکان سے حلف لیا جبکہ 13 ارکان سندھ اسمبلی نے حلف نہیں اٹھایا۔

حلف نہ اٹھانے والوں میں سنی اتحاد کونسل، جی ڈی اے اور جماعت اسلامی کے ارکان شامل تھے۔

دادو سے منتخب رکن سندھ اسمبلی عزیز جونجیو کے انتقال پر ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، پی ایس 139 سے حافظ نعیم کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے 3 مخصوص نشستوں پر بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔

مزید پڑھیں

سندھ میں اپوزیشن جماعتوں کا اسمبلی اجلاس میں حلف نہ اٹھانے اور ہفتے کو احتجاج کا اعلان

سندھ اسمبلی پر احتجاجی مظاہروں پر پابندی ہے، سختی سے نمٹیں گے،صوبائی وزیر داخلہ

پنجاب کابینہ کی تشکیل کیلئے ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کی ناموں پر مشاورت

ن سے 20، پیپلز پارٹی اور ق لیگ سے 2،2 جبکہ آئی پی پی سے ایک وزیر بنائے جانے کا امکان
اپ ڈیٹ 25 فروری 2024 02:37pm

پنجاب اسمبلی کی 25 رکنی کابینہ کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کی ناموں پر مشاورت جاری ہے۔

مسلم لیگ (ن) سے 20، پیپلز پارٹی سے 2، مسلم لیگ (ق) سے 2 اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) سے ایک وزیر بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کا مریم اورنگزیب، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، بلال یسین، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان سمیت رانا محمد اقبال، منشاء اللہ بٹ، عظمی بخاری کو صوبائی کابینہ میں شامل کرنے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ سردار شیرعلی گورچانی، کاظم علی پیرزادہ، کرنل ریٹائرڈ محمد ایوب خان گادھی، ملک آصف بھاء اختر بوسال، راحیلہ خادم حسین، میاں یاور زمان، ملک اسد کھوکھر، فرخ علی جاوید اور شیخ سلمان نعیم کو بھی صوبائی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے سید علی حیدر گیلانی، استحکام پاکستان پارٹی کے ملک غضنفرعباس چھینہ اور ق لیگ کے چوہدری شافع حسین کو صوبائی کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوتے ہی پہلے مرحلے کی صوبائی کابینہ کوحتمی شکل دی جائے گی۔

مزید پڑھیں

ن لیگ کے ملک احمد خان اسپیکر اور ملک ظہیر اقبال ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

مریم نواز نے پنجاب اسمبلی کے ارکان کو ظہرانے پر بلالیا

نگراں وزیراعلی پنجاب کو کس کام کے بدلے کتنی رشوت کی پیشکش ہوئی

قومی اسمبلی سے سندھ کی خواتین کی 2 مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری

الیکشن کمیشن نے سندھ کی خواتین کی 2 نشستیں پیپلزپارٹی کو الاٹ کردیں
شائع 25 فروری 2024 01:07pm

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اسمبلی سے سندھ کی خواتین کی 2 مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی سے سندھ کی خواتین کی 2 نشستیں پیپلزپارٹی کو الاٹ کردی گئی ہیں، الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کی شرمیلا فاروقی اور مدثر سحر کامران کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

شازیہ مری اور نفیسہ شاہ نے جنرل نشستوں پر کامیابی کے باعث مخصوص فہرست سے نام ہٹایا تھا۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پی پی 297 راجن پور سے آزاد امیدوار خضر حیات مزاری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔

خضر حیات مزاری نے39 ہزار 532 ووٹ حاصل کئے جبکہ مسلم لیگ ن کے سردار دوست محمد خان نے 31 ہزار 731 ووٹ حاصل کیے تھے۔

قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن: سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں آئینی ترمیم کیلئے ترپ کا پتہ

سنی اتحاد کونسل کو 23 نشستیں ملنی ہیں، حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا
اپ ڈیٹ 25 فروری 2024 12:54pm

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کا فیصلہ تقریباً کر دیا ہے۔ صرف سنی اتحاد کونسل کی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا فیصلہ نہیں کیا گیا تاہم سنی اتحاد کونسل کے حصے میں آنے والی 23 نشستیں کسی دوسری جماعت کو الاٹ بھی نہیں کی گئیں۔

ان 23 نشستوں پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ ترپ کا پتہ ثابت ہونے والا ہے۔ موجودہ پارٹی پوزیشن کے لحاظ سے چھ جماعتی حکمران اتحاد کے پاس آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت نہیں لیکن اگر الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کے حصے میں آنے والی نشستیں دیگر جماعتوں میں تقسیم کردیں تو حکمران اتحاد کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی۔

قومی اسمبلی میں اس وقت مسلم لیگ (ن) 84 جنرل نشستوں اور 24 مخصوص نشستوں کے ساتھ 108 کے عدد پر بیٹھی ہے اور سب سے بڑی جماعت ہے۔

پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد اراکین میں سے 81 سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوگئے تھے جب کہ بیرسٹر گوہر سمیت 8 پی ٹی آئی حمایت یافتہ اراکین نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ سنی اتحاد کونسل 81 جنرل نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تاحال سنی اتحاد کونسل کیلئے مخصوص نشستوں کا نوٹی فکیشن نہیں کیا تاہم یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو الاٹ بھی نہیں کی گئیں اور الیکشن کمیشن اس معاملے پر سماعت کے بعد فیصلہ کرے گا۔

مخصوص نشستوں کی تقسیم کے دوران الیکشن کمیشن نے پنجاب سے خواتین کی 12 نشستیں اور خیبرپختونخواہ سے خواتین کی 8 نشستیں کسی کو الاٹ نہیں کیں۔ اسی طرح اقلیتوں کی نشستوں میں سے بھی تین کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

نیچے دیئے گئے جدول میں ہم نے ان نشستوں کو سنی اتحاد کونسل کے سامنے خانوں میں ظاہر کیا ہے تاہم ان کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

سنی اتحاد کونسل کی جنرل نشستوں کی تعداد کے حساب سے یہ 23 نشستیں اس کے حصے میں آرہی ہیں۔ اگر یہ نشستیں اسے مل گئیں تو وہ 104 سیٹوں کے ساتھ ن لیگ کے قریب تر آجائے گی۔

قومی اسمبلی میں اس وقت 13 جماعتیں ہیں۔ جن میں سے چھ جماعتیں حکمران اتحاد میں شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی 108، پیپلز پارٹی کی 68، ایم کیو ایم پاکستان 22، مسلم لیگ(ق) 5، استحکام پاکستان پارٹی 4 اور بی اے پی کی ایک نشست ملا کر ان کی مجموعی تعداد 208بنتی ہے جو دوتہائی اکثریت کے عدد 224سے کم ہے۔

یہ جماعتیں مل کر حکومت تو بآسانی بنا سکتی ہیں جس کے لیے سادہ اکثریت درکار ہے جو 169 ہے۔ لیکن آئینی ترمیم کے لیے انہیں دو تہائی ووٹ درکار ہوں گے جو حکمران اتحاد کے پاس نہیں۔

تاہم اگر الیکشن کمیشن اف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کے حصے میں آنے والی 23 نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کا فیصلہ کیا تو یہ صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کی خوش قسمتی کہ ایسا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل میں آزاد امیدواروں کی شمولیت کو تسلیم کیا ہے۔ اب اگلہ مرحلہ صرف نشستوں کی تقسیم کا ہے۔

چونکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پہلے سے مخصوص نشستوں کی فہرستیں جمع نہیں کرائی تھیں اور جنرل نشستیں جتنے والی تمام کے تمام امیدوار بشمول سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا کے الیکشن کے بعد پارٹی میں شامل ہوئے اس لیے یہ معاملہ زیر التوا ہے۔

الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشنز کے مطابق ن لیگ کے حصے میں سب سے زیادہ 24 مخصوص نشستیں آئی ہیں جن میں خواتین کی 20 اور اقلیتوں کی 4 نشستیں شامل ہیں۔

سنی اتحاد کونسل کو خواتین کی 20 اور اقلیتوں کی 3 نشستیں ملیں گی۔

پیپلزپارٹی کو خواتین کی 12 اور اقلیتوں کی 2 نشستیں ملی ہیں اور اس کی مجموعی تعداد 68 ہے۔

ایم کیو ایم کو خواتین کی چار اور اقلیتوں کی ایک نشست ملی ہے اور اس کی مجموعی تعداد 22 ہے۔

جے یو آئی کو اپنی 6 جنرل نشستوں پر خواتین کی دو نشستیں مل گئیں اور اس کی مجموعی تعداد 8 ہوگئی ہے۔

پنجاب پر کس کی حکمرانی ہوگی؟ فیصلہ ہونے میں ایک روز باقی

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کردیا گیا
اپ ڈیٹ 25 فروری 2024 05:11pm

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب پیر کو ہوگا جس کے لیے انتخابی شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، ن لیگ کی جانب سے مریم نواز اور سنی اتحاد کے رانا آفتاب مدمقابل ہوں گے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب گزشتہ روز ہوا اور یہ دونوں عہدے مسلم لیگ ن نے بھاری اکثریت سے حاصل کیے۔

پنجاب پر کس کی حکمرانی ہوگی اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کا انتخاب پیر کے روز صبح 11 بجے ہوگا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کر دیا گیا۔

اسمبلی سیکریٹریٹ کے جاری اعلامیے کے مطابق وزارت اعلیٰ کے لیے امیدوار کاغذات نامزدگی آج شام 5 بجے تک جمع کرا سکتے ہیں۔

کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال شام 5 بج کر 10 منٹ تک کی جائے گی جس کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہوگی۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب کی امیدوار ہوں گی جبکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے رانا آفتاب وزیر اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔

یاد رہے کہ سنی اتحاد کونسل نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا امیدوار تبدیل کیا ہے، میاں اسلم اقبال کی جگہ اب رانا آفتاب احمد خان کو وزیراعلیٰ کا امیدوار بنایا گیا ہے، موجودہ سیاسی صورتحال میں میاں اسلم اقبال کی مشاورت سے پارٹی قیادت نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے رانا آفتاب احمد خان کو نامزد کیا ہے۔

ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ پہلی بار پنجاب سے کسی خاتون وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا اور مریم نواز منتخب ہونے کے بعد صوبے کی ترقی کے لیے اپنے ویژن کا اعلان کریں گی۔

مزید پڑھیں

مشکوک افراد کی پنجاب اسمبلی میں داخلے کی کوشش، 5 زیر حراست

مریم نواز، مریم اورنگزیب سمیت پنجاب اسمبلی کے 313 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھالیا

مریم نواز نے قومی اسمبلی کی نسشت سے استعفیٰ دے دیا

ن لیگ کے ملک احمد خان اسپیکر اور ملک ظہیر اقبال ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب

ملک احمد خان 225 ووٹ لے کر اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔
شائع 25 فروری 2024 12:21am
Sibtain Khan administers oath to PML-N’s Malik Ahmed Khan as new Punjab Assembly speaker - Aaj News

پنجاب اسمبلی کے دوسرے اجلاس میں ہفتے کے روز نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کیلئے پولنگ ہوئی اور مسلم لیگ (ن) کے ملک محمد احمد خان اسپیکر اور ن لیگ کے ملک ظہیراقبال ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے۔ اس موقع پر نامزد وزیرعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی ایوان میں موجود تھیں جنہوں نے ووٹ بھی کاسٹ کیا۔

اسپیکر اسمبلی سبطین خان کی زیر صدارت 33 منٹ کی تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوا، جس میں 327 ممبران اسمبلی نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا جبکہ 16 ارکان نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا۔

پولنگ کے بعد مسلم لیگ ن کے ملک احمد خان 225 ووٹ لے کر اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے، جبکہ سنی اتحاد کونسل کے احمد خان بھچر اسپیکر کا انتخاب ہار گئے۔

سنی اتحاد کونسل کے احمد خان بھچر 96 ووٹ حاصل کرسکے، مجموعی طور پر 320 ووٹ درست اور دو ووٹ مسترد ہوئے۔

نومنتخب اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے حلف بھی اٹھالیا۔

ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے بھی ووٹنگ ہوئی اور ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔

ن لیگ کے ظہیر اقبال چنڑ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے، ان کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے معین ریاض سے تھا۔

ملک ظہیر اقبال کو 220 ووٹ پڑے جب کہ ان کے مقابلے میں سنی اتحاد کونسل کے معین ریاض قریشی نے 103 ووٹ حاصل کیے۔

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ظہیر اقبال نے کامیابی کے بعد حلف اٹھایا۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے ملک محمد احمد خان کو اسیپکر پنجاب اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ احمد خان پنجاب اسمبلی کے ایوان کو آئینی اور بہتر انداز سے چلائیں گے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی جمعہ کی شام 5 بجے سے قبل جمع کروائے گئے تھے اور اسی وقت جانچ پڑتال بھی کرلی گئی تھی۔

اسپیکر کے لیے ملک احمد کا سنی اتحاد کونسل کے احمد خان بھچر سے مقابلہ ہوا، ڈپٹی اسپیکر کے لئے ظہیراقبال چنڑ اور معین ریاض قریشی میں مقابلہ ہوا۔

لیبل نہیں لگوانا چاہتا کہ اسپیکر اجلاس ملتوی کرتے گئے، سبطین خان

اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اپوزیشن بنچوں پر 27 ریزرو سیٹیں ہیں، تین اقلیتی ممبران کو ملا کر 27 ممبران بنتے ہیں، الیکشن کمیشن کو کہہ نہیں سکتا کہ انہیں بلوائیں۔

سبطین خان نے کہا کہ آپ نے پانچ سال اکٹھا چلنا ہے، لیبل نہیں لگوانا چاہتا کہ اسپیکر اجلاس ملتوی کرتے گئے، اگر چھ ماہ تک الیکشن کمیشن فیصلہ نہیں کرتا تو ایک فریق ہائی کورٹ تو دوسرے فریق نے سپریم کورٹ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے لوگوں کا نوٹیفکیشن نہیں ہوا ہے، میں باعزت طریقے اس کرسی کو چھوڑ رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے اسپیکر اور پھر ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن ہوگا۔

اس کے بعد سیکرٹری اسمبلی عامر حبیب نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کےانتخاب کا طریقہ کار ایوان میں بتایا، جس کے مطابق ایوان میں دائیں جانب تین بوتھ بنائے گئے ہیں جس میں پی پی ون سے 125 تک ممبران ووٹ ڈالیں گے، ممبران ووٹ ڈائس کے بیلٹ باکس میں ڈال دیں گے، اس کے بعد پولنگ بوتھ دو اور تین کے لیے نام پکارا جائے گا تو بیلٹ پیپر لے کر بوتھ میں جائیں گے۔

پولنگ ختم

پنجاب اسمبلی اجلاس اسپیکر کے انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہوا تو اس کیلئے تین پولنگ بوتھ قائم کئے گئے، پی پی 9 سے نومنتخب شوکت بھٹی نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔

اس دوران 327 ممبران اسمبلی نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا جبکہ 16 ارکان نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا۔

پنجاب کی مخصوص نشستوں پر موجود 27 اراکین کا فیصلہ تاحال نہ ہوسکا، 16 اراکین اسمبلی نے ایوان میں آکر حلف نہیں اٹھایا اور غیر حاض رہے، اس ی وجہ سے انہوں نے ووٹنگ کےعمل میں حصہ بھی نہیں لیا۔

مریم نواز کی آمد پر ہنگامہ آرائی

مسلم لیگ (ن) کی نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ایوان میں آمد پر شور شرابا شروع ہوگیا، سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی جانب نواز شریف کے خلاف نعرے بازی کی گئی، جواب میں مسلم لیگ ن کے ارکان سیٹوں پر کھڑے ہوئے اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف شدید نعرے لگائے۔

مریم اورنگزیب ایوان میں خلیل طاہر سندھو کو نعرے لگانے کا اشارہ کرتی رہیں۔

اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا، بعد ازاں، مزید چار نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی نے حلف اٹھایا، گزشتہ روز 313 نومنتخب اراکین نے حلف اٹھایا تھا، جس کے بعد حلف اٹھانے والے نومنتخب اراکین کی تعداد 317 ہوگئی۔

ن لیگ کے 216 اور سنی اتحاد کونسل کے 98 ارکان اسمبلی میں موجود تھے۔

یہ جو بھی کریں گے عدالت میں چیلنج ہوگا، رانا آفتاب

سنی اتحاد کونسل کے رکن رانا آفتاب نے اسمبلی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ایوان مکمل نہیں ہے، ابھی 27 ریزرو نشستوں کا فیصلہ نہیں ہوا۔

رانا آفتاب نے کہا کہ میاں اسلم اقبال ایوان میں نہیں آرہے، انہوں نے ہماری طرف سے الیکشن لڑنا ہے، آج حافظ فرحت ضمانت پر پنجاب اسمبلی آئے ہیں، اگر اتنی جلدی ہے تو ناموں کا اعلان کرکے ختم کردیں، جو بھی یہ کریں گے عدالت میں چیلنج ہوجائے گا۔

ملک احمد خان نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 108 کے تحت صاف کہا گیا ہے کہ کوئی اور بزنس نہیں ہوسکتا سوائے الیکشن کے، اگر نشستیں پوری نہیں تو کہوں گا، الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہائی کورٹ کے برابر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد نے ایک جماعت کو جوائن کیا، اگر استعفے آتے ہیں تو سیٹوں پر الیکشن کا اعلان ہوگا، آئین کہتا ہے کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا الیکشن کروائیں۔

وزیر اعلیٰ کا انتخاب اتوار کو

پنجاب اسمبلی میں وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب کل اتوار کو ہوگا، مسلم لیگ ن کی طرف سے مریم نواز انتخاب لڑیں گی جبکہ سنی اتحاد کی طرف سے میاں اسلم اقبال کو نامزد کیا گیا ہے، میاں اسلم اقبال نے ابھی تک اسمبلی رکنیت پر حلف نہیں لیا۔

اسمبلی کے احاطہ سے کسی کو گرفتار نہیں ہونے دوں گا، اسپیکر

قبل ازیں، سبطین خان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے احاطہ سے کسی کو گرفتار نہیں ہونے دوں گا، یہ مال روڈ اور چئیرنگ کراس کی نہیں پنجاب اسمبلی کی اتھارٹی ہے، کسی نے اب تک پروڈکشن آرڈر کی درخواست نہیں کی۔

سبطین خان نے کہا کہ میاں اسلم اقبال نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا، پشاور ہائی کورٹ کی ہدایت پر وہ آئیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے امیدوارسنی اتحاد کونسل میں آئ،ے انہیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں ملا۔

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں 313 نومنتخب ارکان نےحلف اٹھایا تھا۔نامزد وزیراعلی پنجاب مریم نواز اور دیگر ارکان نے گولڈن بک پر دستخط کیے تھے۔

حلف اٹھانے والوں میں ن لیگ اور حکمراں اتحاد کے 215 اور سنی اتحاد کونسل کے98 ارکان شامل تھے۔

مریم نواز نے قومی اسمبلی کی نسشت سے استعفیٰ دے دیا

اجلاس کے دوران سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے پینل آف چیئرپرسنز کا اعلان کیا جس میں ملک احمد خان،صائمہ کنول،راحیلہ نعیم،علی حیدر گیلانی شامل ہیں۔

اسمبلی میں ہرقدم آئین اور قانون کے مطابق اٹھایا جائے گا، ملک احمد خان

پنجاب اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کچھ دیر میں
شائع 24 فروری 2024 02:41pm
فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسپیکر پنجاب اسمبلی کے لیے مُسلم لیگ ن کے اُمیدوار ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ میاں اسلم اقبال سے اچھے تعلقات ہیں، لیکن قانون کے مطابق کام ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں ہر قدم آئیں اور قانون کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو میں ملک احمد خان نے کہا کہ اسپیکر کا کردار گھر کے بڑے یا کسٹوڈین کا ہوتا ہے اور اسمبلی اسپیکر کا وہی کردارہونا چاہییے کہ وہ سب کو ساتھ لیکر چلے۔

گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے نو مُنتخب اراکین نے حلف اُٹھائے تھے جبکہ آج صوبائی اسمبلی کے لیے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لیے خفیہ رائے شماری ہوگی۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے تحت ہوگا۔

واضح رہے کہ اسپیکرپنجاب اسمبلی کیلئے ن لیگ کی جانب سے ملک احمد خان نے اورسنی اتحاد کونسل کی طرف سے احمد خان بھچر نے کاغذات نامزدگی جمع کروا ئے ہیں۔ڈپٹی اسپیکر کے لیے ظہیراقبال چنڑ اور معین ریاض قریشی کا جوڑ پڑے گا۔

ایوان میں پولنگ بوتھ بھی قائم کردیے گئے ہیں، اسمبلی سیکریٹریٹ نے انتظامات کو حتمی شکل دے دی۔

مسلم لیگ ن نے اسمبلی اجلاس سے قبل مریم نواز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں اراکین کو خفیہ رائے شماری سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔

عبدالعلیم خان نے لاہور کی صوبائی نشست چھوڑ دی

صدر استحکام پاکستان پارٹی نے فیصلے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا۔
شائع 24 فروری 2024 01:27pm
فائل فوٹو
فائل فوٹو

صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے لاہور کی صوبائی نشست پی پی 149 چھوڑدی۔

علیم خان عام انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست سے کامیاب قرار پائے تھے۔

وہ لاہور کی صوبائی نشست چھوڑ کر این اے 117 سے قومی اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھیں گے۔

عبدالعلیم خان نے اس حوالے سےالیکشن کمیشن کو آگاہ کر دیا ہے۔

عبدالعلیم خان نے اہم عہدے کی پیشکش قبول کرنے سے معذرت کرلی

وہ باہراحتجاج کرتے رہیں، ہم اندر حلف اٹھائیں گے، مُراد علی شاہ

ہم نے سوچ سے بڑھ کر نشستیں حاصل کیں، سندھ اسمبلی کے باہر میڈیاسے گفتگو
شائع 24 فروری 2024 11:24am

نامزد وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ وہ باہر احتجاج کرتے رہیں اورہم اندرحلف اٹھائیں گے۔جو ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ان کا بھی بتاؤں گا۔

نو منتخب ارکان کی حلف برداری کے لیے سندھ اسمبلی اجلاس کے لیے پہینچنے والے مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کٌمیں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کتنی نشستیں ں ملیں گی، ہم نے سوچ سے بڑھ کر سیٹیں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ارکان حلف اٹھائیں گے اور کل اسپیکرکا الیکشن ہوگا جبکہ پرسوں وزیراعلیٰ کاالیکشن ہوگا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت کافی مشکلات کاسامناہے، االلہ کی رضاسےخیریت سے یہ مراحل گرزجائیں۔ وفاق اورصوبائی حکومتوں کیلئےبہت بڑاچیلنج ہے اور سب کوساتھ ملکر مشکلات کو حل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسائل بہت ہیں مل کر حل کریں گے۔

انتخابی دھاندلی سے متعلق سوال ہپر ان کا کہنا تھا کہ میں ایک ایک فارم کا حساب دوں گا، احتجاج سب کاحق ہے،پُرامن احتجاج کریں۔ جو ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ان کا بھی بتاؤں گا۔ وہ باہراحتجاج کریں گےاورہم اندرحلف اٹھائیں گے۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں آج نومنتخب ارکان عہدوں کا حلف اٹھائیں گے، اس موقع پر سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے بھرپور احتجاج کا اعلان کررکھا ہے۔

مبینہ انتخابی دھاندلی: امریکی سینیٹر نے پاکستانی سفیر کو خط لکھ ڈالا

'پاکستانی عوام کی مرضی کا احترام کیا جانا چاہئیے' ، طارق مسعود کو خط
شائع 24 فروری 2024 11:14am
فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی سینیٹر کرس وان ہولینز نے پاکستان کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی اطلاعات پر پاکستانی سفیر کو خط لکھ دیا۔

امریکی سینیٹر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ، ’پاکستانی عوام کی مرضی کا احترام کیا جانا چاہئیے۔‘

خط میں پاکستان میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور مداخلت کی خبروں پر کرس وان ہولینز کی جانب سے شویش کا اظہارکیا گیا ہے۔

انہوں نے اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ ، ’میں ان لاکھوں پاکستانیوں کو سراہتا ہوں جنہوں نے بڑی تعداد میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ یہ جمہوری عمل کی مضبوطی کی جانب ایک قدم ہے۔‘

امریکی سینیٹر نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان میں امریکی سفیر مسعود خان کو اخط لکھ ک عام انتخابات میں مبینہ ’دھوکہ دہی اور مداخلت کی مصدقہ اطلاعات‘ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا میں پاکستانی سفارتخانے کو لکھے جانے والے اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ، ’پاکستان کے عوام کی مرضی کا احترام کیا جانا چاہیئے۔‘

قومی اسمبلی میں کس کے پاس کتنی نشستیں ، پارٹی پوزیشن جاری

مسلم لیگ ن کے پاس قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں ہیں
شائع 24 فروری 2024 09:11am
تصویر: اے ایف پی
تصویر: اے ایف پی

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشستوں کو مدنظررکھتے ہوئے اب تک کی پارٹی پوزیشن جاری کردی گئی ہے۔

قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں پر پارٹی پوزیشن کے مطابق سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ ن 75 جنرل نشستوں پر کامیابی کے ساتھ سب سے آگے رہی، ن لیگ میں کامیاب 9 آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد نشستوں کی تعداد 84 ہو گئی۔

مسلم لیگ ن کو 4 اقلیتی اورخواتین کی 20 مخصوص نشستیں ملنے کے بعد اب تک قومی اسمبلی میں ان کی نشستوں کی تعداد 108ہوچکی ہے۔

قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے 54 امیدوار کامیاب ہوئے، تاہم کسی بھی آزاد امیدوار نے پی پی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

2 اقلیتی نشستوں اور خواتین کی 12 نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کی کُل نشستوں کی تعداد 68 ہو چکی ہے۔

قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں پر ایم کیو ایم کے17 امیدوار امیاب ہوئے، پارٹی میں کوئی شامل نہیں ہوا اور ایک اقلیتی نشست اور خواتین کی 4 نشست ملنے کے بعد ایم کیو ایم کے پاس قومی اسمبلی میں کُل 22 نشستیں ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے 6 ارکان قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہوئے، کسی نے شمولیت اختیار نہیں کی اور خواتین کی 2 مخصوص نشستیں ملنے کے بعد مجموعی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

سنی اتحاد کونسل میں 81 ازاد ممبران شامل ہوئے، تاہم پارٹی کی مخصوص نشستوں کا معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہے۔

الیکشن کمیشن اف پاکستان نے تاحال مخصوص نشستوں کے دروازہ سنی اتحاد کونسل یا پی ٹی ائی کے لیے بند نہیں کیا۔پنجاب کے حصے میں انے والی خواتین کی 32 نشستوں میں سے صرف 20 مختلف جماعتوں کو الاٹ کی گئی ہیں جبکہ 12 نشستوں کا فیصلہ زیر التوا چھوڑا گیا ہے اور سنی اتحاد کونسل کے سامنے کالم میں لکھا گیا ہے کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے زیالتوا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ق کے 3 ممبران جنرل نشستوں پرکامیاب ہوئے جبکہ ایک ازاد امیدوار کی شمولیت کے بعد یہ تعداد 4 ہو گئی۔، ق لیگ کو خواتین کی ایک مخصوص نشست ملنے پران کے پاس قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 5 ہوچکی ہے۔

استحکام پاکستان پارٹی کے 3 امیدوار جنرل نشستوں پر کامیاب ہوئے، خواتین کی ایک مخصوص نشست ملنے سے یہ تعداد 4 ہوچکی ہے۔

دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین،مسلم لیگ ضیاء،بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن جنرل نشستوں پر کامیاب ہوا ہے،کسی بھی آزاد امیدوار نے اب جماعتوں میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

جنرل نشستوں پر قومی اسمبلی میں 99 آزاد ارکان کامیاب ہوئے۔ 8 آزاد امیدواروں نے تاحال کسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی جبکہ قومی اسمبلی کی 3 نشستوں کا معاملہ زیر التوا ہے۔

قومی اسمبلی سے خواتین کی 20 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری

سندھ سے خواتین کی 10 مخصوص نشستیں پیپلزپارٹی اور 4 ایم کیوایم الاٹ
اپ ڈیٹ 24 فروری 2024 03:37pm

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی سے خواتین کی 20 مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کردیے جبکہ قومی اسمبلی سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی خواتین کی نشستوں کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے گئے۔

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کر دیے، مجموعی طور پر 20 مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔

قومی اسمبلی کے مزید 4 حلقوں سے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکشن بھی جاری کردیے جبکہ انتخابی عذر داریوں پر بھی سماعت جاری رہی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ سے قومی اسمبلی کی خواتین کی 10 مخصوص نشستیں پیپلزپارٹی اور 4 ایم کیوایم کو دی گئیں۔

فہرست میں شازیہ مری، نفیسہ شاہ، شگفتہ جمانی، شاہدہ رحمانی، شہلا رضا،ناز بلوچ اور مہرین رزاق بھٹو مخصوص نشستوں پر کامیاب قرار دینے والوں میں شامل ہیں جبکہ ایم کیو ایم کی جانب سے آسیہ اسحاق صدیقی، سبین غوری، نگہت شکیل خان بھی مخصوص منتخب ہوئیں۔

بلوچستان سے خواتین کی قومی اسمبلی کی 2 مخصوص نشستیں ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی اور ایک جے یو آئی کو دی گئی جبکہ بلوچستان اسمبلی سے خواتین کی 11 مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے گئے۔

اس کے علاوہ قومی اسمبلی سے پنجاب کی خواتین کی نشستوں کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے گئے۔

خیبرپختوںخوا سے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق جمیعت علماء اسلام اور مسلم لیگ (ن) کو ایک ایک نشست حاصل ہوئی ہے۔

نوٹفکشین کے مطابق جے یو آئی کی شاہدہ بیگم کو نشست دی گئی ہے جن تعلق لکی مروت ہے، جبکہ ن لیگ کی شائستہ خان کا تعلق ہری پور سے ہے۔ خیبرپختونخوا کی 8 سیٹوں پر تاحال فیصلہ نہ ہو سکا۔

الیکشن کمیشن نے این اے 27 سے آزاد امیدوار اقبال خان، این اے 38 سے آزاد امیدوار شاہد احمد، این اے 40 سے جے یو آئی کے مولانا مصباح الدین، این اے 43 سے داور خان کنڈی کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے بلوچستان اسمبلی کے 6 مزید کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیے جبکہ پی پی 289 ڈی جی خان سے آزاد امیدوار محمود قادر خان کامیاب قرار پائے ہیں۔

مزید پڑھیں

بلوچستان اسمبلی میں مخصوص نشستوں کیلئے صرف مرکزی صدر ن لیگ کی فراہم کردہ فہرستیں تسلیم کی جائیں گی، الیکشن کمیشن

مریم نواز، مریم اورنگزیب سمیت پنجاب اسمبلی کے 313 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھالیا

الیکشن کمیشن نے پی پی 68 گجرانوالہ سے کامیاب امیدوار ارقم خان کا نوٹیفکیشن معطل کردیا، ارقم خان پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار تھے۔

الیکشن کمیشن نے این اے 23، این اے 116، پی کے 57، پی پی 285 تونسہ سے متعلق انتخابی عذرداری پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

این اے 75 نارووال کے آر او سے رپورٹ طلب کرتے ہئوے کامیاب ن لیگ کے امیدوار کو نوٹس جاری کر دیا جبکہ پی پی 169 سے میاں محمودالرشید کی درخواست پر سماعت4 مارچ تک ملتوی کر دی۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب اور بلوچستان سے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفیکیشنز جاری کردیے

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پنجاب سے قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں اور بلوچستان اسمبلی کی اقلیتی نشستوں پر کامیاب قرار دیے گئے امیدواروں کے نوٹیفیکیشنز جاری کردیے۔

پنجاب سے قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن کی 17 خواتین امیدوارکامیاب قراردی گئیں۔

کامیاب امیدواروں میں طاہرہ اورنگزیب، مریم اورنگزیب، شائشہ پرویز، نزہت صادق، وجیہہ قمر، زیب جعفر، انوشہ رحمان، رومینہ خورشید عالم شامل ہیں۔

کرن عمران ڈار، زہرہ ودود فاطمی، شزہ فاطمہ خواجہ، مسرت آصف خواجہ کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

پیپلز پارٹی کی حنا ربانی کھر، آئی پی پی کی منزہ حسن اور ق لیگ فرخ خان کا بھی نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا۔

بلوچستان اسمبلی کی 3 اقلیتی نشستوں کے نوٹی فیکشنز بھی جاری کردیے گئے، پیپلزپارٹی کے سنجے کمار، مسلم لیگ ن کے پیٹرک مسیح ، جے یو ائی کے روی پہوجا کامیاب قرار دے دیے گئے۔

میاں اسلم کو گرفتار کرلیا گیا، بازیابی کے بعد حلف لیں گے، عامر ڈوگر

احمد خان بچھرا سپیکر اور معین ریاض قریشی ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار ہوںگے، رہنما سنی اتحاد کونسل
شائع 23 فروری 2024 05:29pm

پی ٹی آئی سے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے رہنما عامر ڈوگر نے دعویٰ کیا ہےکہ ان کے وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار میاں اسلم کو گرفتار کرلیا گیا ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میاں اسلم سے کوئی رابطہ نہیں۔

جمعہ کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عامر ڈوگر نے کہاکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے احمد خان بچھرا سپیکر اور معین ریاض قریشی ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے لیے امیدوار میاں اسلم سے ان کا کوئی دعویٰ نہیں، ان کے پروڈکشن آرڈر اس وقت ہی جاری ہوں گے جب وہ حلف اٹھائیں گے، ابھی تک ان سے کوئی رابطہ نہیں، بازیابی کے بعد ہی حلف لیں گے۔

عامر ڈوگر کا دعویٰ تھا کہ میاں اسلم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ میاں اسلم نے پشاور ہائیکورٹ سے راہداری ضمانت حاصل کی تھی اور عدالت نے انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

میاں اسلم نے پشاور ہائیکورٹ میں پولیس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے آئی جی سے جواب طلب کرلیا ہے۔

آصفہ بھٹو کو بینظیر بھٹو کی نشست سے منتخب کرانے کا فیصلہ

بلاول بھٹو نے این اے 196 قمبر شہداد کوٹ کی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا
اپ ڈیٹ 23 فروری 2024 06:02pm

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 196 قمبر شہداد کوٹ کی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔

سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے این اے 196 قمبر شہداد کوٹ والی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 194 لاڑکانہ کی نشست اپنے پاس رکھیں گے۔

یاد رہے کہ بلاول بھٹو زرداری 2 نشستوں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری این اے 196کی نشست چھوڑیں گے جس کے بعد ضمنی انتخاب میں آصفہ بھٹو اس نشست پر پیپلزپارٹی کی امیدوار ہوں گی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 196 قمبر شہداد کوٹ پر ماضی میں بے نظیر بھٹو بھی الیکشن لڑ چکی ہیں۔

دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے خود پر دھاندلی کا الزام لگانے والوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے انتخابی حلقے کے تمام فارم 45 عوام کے سامنے رکھ دیے اور کہا کہ فارم 47 کے مطابق میں نے ایک لاکھ 35 ہزار 112 ووٹ لیے ہیں جو میری حریف پر ایک لاکھ سے زیادہ کی برتری ہے۔

انہوں نے کہا کہ این اے 194 سے ایک فراڈیے نے لاڑکانہ میں میری کامیابی کو دھاندلی سے تعبیر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے ن لیگی امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن بحال

تینوں کامیاب رہنماؤں نے کیمروں کے سامنے اپنے فارم 45 دکھائے
شائع 23 فروری 2024 02:41pm

اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں سے کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشنزبحال کردیے گئے۔ تینوں کامیاب رہنماؤں نے کیمروں کے سامنے اپنے فارم 45 دکھائے جبکہ تحریک انصاف کوسیاسی میدان میں لڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ ہم پانچ سال حکومت کریں گے اور یہ روتے رہیں گے۔

الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر 11 جنوری کو کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشنز معطل کیے تھے تاہم جمعے کے روز معطل کیے گئے نوٹیفکیشز کو بحال کر دیا گیا۔

ای سی پی کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 98 ون کے تحت کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشنز بحال کیے گئے۔

الیکشن کمیشن نے این اے 46 سے ن لیگ کے انجم عقیل، این اے47 سے طارق فضل چوہدری جبکہ این اے 48 سے راجہ خرم نواز کی کامیابی برقرار رکھی۔

میڈیا سے گفتگو میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تینوں حلقوں کے حوالے پروپیگنڈا کیا جاتا رہا، فراڈ اور پروپیگنڈا سے پی ٹی آئی نے نوٹیفیکیشنز رکوائے، ہم آج اپنے فارم 45 لائے ہیں، اب عدالتوں نے ثابت کرنا ہے کہ کس کے فارم 45 اصلی ہیں؟۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے کہتے تھے سازش میں ملوث آج مدد مانگ رہے ہیں، آپ نے نوجوانوں کو گمراہ کیا آج ان کا ٹرائل ہورہا ہے۔

راجہ خرم نواز نے مخالفین کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آر او آفس نے کسی کو نہیں روکا، ان کا راستہ ہم سب نے روکنا ہے۔

انجم عقیل نے کہا کہ سازش کے ذریعے ایک سیاسی پارٹی بنائی گئی، کبھی کہتے ہیں امریکا نے ہمیں پارلیمنٹ سے نکالا کبھی آئی ایم ایف کو کہتے ہیں کہ قرضہ نہ دو، ہم پانچ سال حکومت کریں گے۔

رہنماوں نے آئی ایم ایف کے حوالے سے تحریک انصاف کے بیان کی مذمت بھی کی۔

واضح رہے کہ عام انتخابات 2024 میں اسلام آباد کے حلقے این اے 47، این اے 46 اور این اے 48 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے، این اے 47 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، این اے 46 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار انجم عقیل کامیاب ہوئے تھے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار راجا خرم نوار کامیاب ہوئے تھے۔

تحریک انصاف کے امیدواروں نے لیگی امیدواروں کی کامیابی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلینج کیا تھا، عدالت نے تینوں لیگی امیدواروں کی کامیابی کے نوٹیفکیشن معطل کردیے تھے جو اب الیکشن کمیشن نے بحال کردیے ہیں۔

مزید پڑھیں

اسلام آباد کی تینوں قومی نشستوں پر پی ٹی آئی مخالف امیدواروں کے نوٹی فکیشن معطل

این اے 46، 47 اور 48 میں مبینہ دھاندلی کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواستیں نمٹا دیں

وزیرخزانہ کون ہوگا اس کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی، اسحاق ڈار

'عمران خان نے آئی ایم ایف کو ملکی مفاد کے خلاف کچھ لکھا ہوتو قابلِ مذمت ہے۔'
شائع 23 فروری 2024 02:28pm

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئررہنما اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کوخط لکھ کرملک دشمنی کی، انشاء اللّٰہ بانی پی ٹی آئی کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔

پنجاب اسمبلی کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ ذاتی فائدے کیلئے کچھ بھی لکھنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، عمران خان نے ملکی مفاد کے خلاف کچھ لکھا ہوتو قابلِ مذمت ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ آپ دیکھیں گے آئندہ چند دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔وزیرخزانہ کون ہوگا اس کا فیصلہ پارٹی لیڈرشپ فیصلہ کرےگی۔

اسحاق ڈار نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں تاخیر اور پھر وقفے سے متعلق کہا کہ اسپیکرتلاوت کےبعدفوری ارکان اسمبلی سےحلف لیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ میاں صاحب کہیں غائب نہیں ہوئے، وہ موجود ہیں اور پارٹی کو لیڈ کررہےہیں۔

کوئٹہ میں انتخابی نتائج کیخلاف 4 جماعتی اتحاد کا 15 ویں روز بھی احتجاج

نئے احتجاجی شیڈول کے مطابق کوئٹہ اور مستونگ میں احتجاجی جلسے بھی ہوں گے
شائع 23 فروری 2024 01:31pm

بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں الیکشن میں انتخابی نتائج کے خلاف 4 جماعتی اتحاد کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔

ڈپٹی کمشنر آفس میں قائم ڈی آر او آفس کے سامنے سیاسی جماعتوں کے دھرنے کا آج 15واں روز ہے۔

پشتونخواہ میپ ، بی این پی ، نیشنل پارٹی اور ایچ ڈی پی کی جانب سے ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیا جا رہا ہے۔

نئے احتجاجی شیڈول کے مطابق کوئٹہ اور مستونگ میں احتجاجی جلسے بھی ہوں گے۔

پشین میں حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 4 اتحادی جماعتوں کے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں عدالت ، انصاف اور قانون نہیں ہے ، تمام مسائل کا حل گول میز کانفرنس میں ہے ، عالمی سطح پر پاکستان اپنی حیثیت کھو چکا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین پشتون اور بلوچوں کی ہے، کسی نے خیرات میں نہیں دی، ججز ، جرنیلوں اور بعض سیاسی قائدین نے ملک کا بیڑا غرق کیا، پاکستان کو بنے 75 سال ہوئے ہیں ، ہم یہاں ہزاروں سال سے آباد ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پارلیمنٹ طاقت کا سر چشمہ ہونا چاہیئے، اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے۔

ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا کہ پیسوں کے زور پر اسمبلیاں بھری جارہی ہیں، ہم نے ووٹ کو عزت دی لیکن میاں صاحب نے خراب کیا، رقبے کے لحاظ سے بلوچستان آدھا پاکستان ہے انکے وسائل اختیار پشتون بلوچوں کا ہے۔

رہنما ایچ ڈی پی داود ہزارہ نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں دھاندلی کس کی ایماء پر کی گئی ، چیف آف آرمی نوٹس لیں، دھاندلی کے ذریعے سلیکٹیڈ نمائندیں کسی کو منظور نہیں۔

عبدالریم زیارتوال نے کہا کہ دشمن چاہتے ہیں پشتون بلوچ اور ہزارہ دست و گریبان ہو، جعلی ووٹوں اور پیسوں سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کو شرم آنی چاہیئے، بلوچستان کے تمام وسائل پر پشتون بلوچ کا دسترس ہونا چاہیئے۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ 4 اتحادی جماعتوں کے قائدین کے کردار کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا، ملک کے مسائل اداروں کو نہیں بلکہ سیاسی قائدین کو کرنی چاہیئے۔