Live
turkiye

ایران کو امریکا سے مذاکرات ترکیہ میں ہونے اور دیگر ممالک کی شرکت پر اعتراض

مذاکرات کے مقام پر امریکا سے مشاورت جاری ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
اپ ڈیٹ 04 فروری 2026 09:46am

ایران اور امریکا کے درمیان جمعہ کو متوقع جوہری مذاکرات کے حوالے سے سفارتی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور ایران کی جانب سے ان مذاکرات کا مقام استنبول سے عمان منتقل کرنے کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے۔ علاقائی سفارت کاروں کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ بات چیت ایسے ماحول میں ہو جہاں توجہ صرف جوہری معاملات تک محدود رہے اور دیگر علاقائی یا سیاسی امور اس عمل پر اثر انداز نہ ہوں۔

امریکی میڈیا نے سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران مذاکرات کے دوران صرف جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت پر زور دے رہا ہے اور وہ علاقائی ممالک کی براہ راست شرکت کا بھی خواہش مند نہیں ہے۔

اس کے برعکس وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے ہونے والی بات چیت اپنے طے شدہ وقت کے مطابق ہی ہوگی اور امریکا اس حوالے سے کسی غیر یقینی صورتحال کو اہمیت نہیں دے رہا۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا مقام اور وقت کوئی پیچیدہ یا حساس مسئلہ نہیں ہے۔

ان کے مطابق امریکا کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور دونوں فریق اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا مقام منتخب کیا جائے جو مذاکرات کے لیے موزوں اور قابل قبول ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ترکیہ، عمان اور خطے کے دیگر کئی ممالک نے بھی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

اسی دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ترکیہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں، جس کے بعد دونوں ممالک مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ممکن ہوئے ہیں اور شدید تناؤ کے ماحول میں پاکستان اور ترکیہ نے ایران کو امریکا سے بات چیت پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا کی جانب سے خصوصی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف جبکہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے۔

ان مذاکرات کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے تاکہ خطہ کسی نئی جنگ یا بڑے تصادم سے بچ سکے۔

ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی بنیادی ترجیح کسی ممکنہ تنازع سے بچاؤ اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

ان مذاکرات میں خطے کی چند اہم طاقتوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاکہ بات چیت کو وسیع تر سفارتی حمایت حاصل ہو سکے۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دعوت دی گئی ہے۔

ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اسرائیل امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے، ترکیہ

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے، ہاکان فیدان
اپ ڈیٹ 31 جنوری 2026 08:09pm

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کردار خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہے اور اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کرتا ہے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور اس کے منفی اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

ترک وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ امریکا ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور تمام فریق دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن راستہ اختیار کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اِسی مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات اور جنگ  دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہے اور اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ کشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔


ترکیہ: ایران کے لیے جاسوسی کے الزام پر ایرانی شہری سمیت 6 افراد گرفتار

گرفتار افراد نے فوجی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات ایرانی انٹیلی جنس حکام تک پہنچائیں: ترک حکام
شائع 29 جنوری 2026 04:54pm

ترک حکام نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ترکیہ کے سرکاری میڈیا نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

ترکیہ کے سرکاری میڈیا ٹی آر ٹی کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک ایرانی شہری اور پانچ ترک شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترک حکام کے مطابق یہ کارروائیاں استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کی ہدایت پر کی گئیں۔ استنبول پولیس کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی اور قومی خفیہ ادارے (ایم آئی ٹی) نے پانچ صوبوں میں کارروائیں کرکے ان افراد کو گرفتار کیا۔

ترک حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزمان ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کے انٹیلی جنس افسران سے براہِ راست رابطے میں تھے۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد نے ترکیہ کی اہم فوجی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات جمع کیں، جن میں جنوبی صوبے آدانا میں واقع انجرلیک ایئر بیس بھی شامل ہے جہاں نیٹو کی افواج بھی موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس گروہ نے انجرلیک ایئر بیس کے گرد نگرانی اور ریکی کی اور دوسرے ممالک میں جاسوسی کے لیے لاجسٹک معاونت بھی فراہم کی۔

زیرحراست افراد پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ترکیہ اور دیگر ممالک میں موجود دیگر اہم مقامات سے متعلق بھی معلومات اکٹھی کیں۔ گرفتار افراد نے دیگر ممالک میں جاسوسی کے لیے ترکیہ کے راستے ڈرونز کی اسمگلنگ میں بھی کردار ادا کیا اور تمام خفیہ معلومات براہِ راست ایرانی انٹیلی جنس حکام تک پہنچائیں۔

حکام نے بتایا کہ استنبول، وان، سامسون، یالووا اور انقرہ میں بیک وقت کی گئی کارروائی کے نتیجے میں تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق قانونی کارروائی کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں سیاسی اور عسکری جاسوسی کے الزامات کے تحت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

واضح رہے کہ ترکیہ نیٹو کا ایک اہم رکن ملک ہے جس کے کئی اہم فوجی اڈے امریکی فوج بھی استعمال کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب ایران یہ کہہ چکا ہے کہ وہ امریکا کے ممکنہ حملوں کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ کا دورۂ ترکیہ

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعے کے روز ترکیہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ اپنے ترک ہم منصب حاکان فیدان سے ملاقات کریں گے۔

ترک میڈیا نے وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ ترکیہ میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات، ایران کی حالیہ صورتحال، علاقائی سلامتی سے متعلق امور، غزہ جنگ بندی اور شام سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور آئیں گے۔

ترکیہ نے غزہ میں فوجی تعیناتی پر آمادگی ظاہر کردی

ترکیہ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے، ہاکان فیدان
شائع 23 جنوری 2026 09:14am

ترکیہ نے غزہ میں امن و استحکام کے لیے اپنی افواج بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہات کہ ترکیہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے لیے تیار ہے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ غزہ امن معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ترکی ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔

ہاکان فیدان نے بتایا کہ غزہ کے لیے قائم کیے گئے امن بورڈ میں شمولیت کے بعد ترکیہ اس کی ایگزیکٹو کمیٹی سے متعلق امور پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ زمینی سطح پر امن معاہدے پر عمل درآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کے لیے ترکیہ کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں گی اور ترکیہ مشکل کی اس گھڑی میں فلسطینی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ’بورڈ آف پیس‘ کے مسودے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ جس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

’غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ فلسطین میں قیام امن اور تعمیر نو کے لیے کیا‘: پاکستان کا مؤقف

سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر بھی غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔
اپ ڈیٹ 22 جنوری 2026 08:56am

پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام اور تعمیر نو کی عالمی کوششوں میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطین میں امن کے قیام، انسانی امداد میں اضافے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت کے لیے اس عالمی بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے ذریعے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں بہتری آئے گی اور غزہ کی بحالی کے لیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر بھی غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مشترکہ امن کوششوں کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

ترکیہ نے بھی عالمی بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور ترک وزیر خارجہ حاقان فدان اس بورڈ کے اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ترکیہ عالمی امن کے فروغ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔

ڈیووس فورم کے موقع پر بھی امن اور علاقائی استحکام سے متعلق اہم مشاورت متوقع ہے، جس میں مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق آج ڈیووس میں کئی ممالک غزہ امن بورڈ کے مشترکہ معاہدے پر دستخط کریں گے، جبکہ مجموعی طور پر 59 ممالک اس معاہدے میں شامل ہونے کے خواہش مند ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ سے باہر کے ممالک بھی شامل ہیں۔

روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے بھی امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ روس اپنے منجمد اثاثوں میں سے ایک کروڑ ڈالرز بورڈ آف پیس کے لیے دینے کو تیار ہے، جبکہ باقی فنڈز یوکرین جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ترکیہ: نئے سال پر دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، داعش کے 357 ارکان گرفتار

کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو ملک کے اندر منظم ہونے یا سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2025 09:11am

ترکیہ میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے ایک ہی دن میں داعش سے تعلق رکھنے والے 357 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ یہ ملک گیر آپریشن بیک وقت 21 صوبوں میں کیا گیا، جس میں صوبائی پولیس، انسدادِ دہشت گردی اور انٹیلی جنس اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔

وزیر داخلہ نے کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کر رہا ہے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو ملک کے اندر منظم ہونے یا سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کے مطابق شہر میں 110 ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو نئے سال کے موقع پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی سرگرمیوں پر خفیہ نگرانی جاری تھی، جس کے بعد بروقت کارروائی عمل میں لائی گئی۔

دوسری جانب انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس نے داعش سے وابستہ 17 مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی تصدیق کی ہے، جن میں 11 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

ترک سکیورٹی اداروں نے اس سے قبل بھی استنبول میں کارروائیاں کرتے ہوئے 100 سے زائد مشتبہ داعش ارکان کو گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق ان چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور دیگر مشتبہ مواد بھی برآمد ہوا تھا، جس سے نئے سال کے موقع پر ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کو ناکام بنایا گیا۔

ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

انبیاء کا شہر، جہاں تین مذاہب ایک نقطے پر ملتے ہیں

ایک ایسا شہر جہاں اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی روایات ایک ہی جغرافیے میں آ کر ملتی ہیں۔
اپ ڈیٹ 27 دسمبر 2025 03:49pm

ترکی کے جنوب مشرق میں واقع ”شانلی اُورفا“ وہ شہر ہے جہاں تاریخ محض ماضی کی کہانی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن کر سانس لیتی ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں عبادت گاہیں صرف مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے نہیں بلکہ ذہنی سکون اور سماجی میل جول کی جگہ بھی ہیں، اور جہاں ہزاروں برس پرانے پتھر انسان کے اولین روحانی سوالات کی گواہی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے شانلی اُورفا کو صدیوں سے ”انبیاء کا شہر“ کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا شہر جہاں اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی روایات ایک ہی جغرافیے میں آ کر ملتی ہیں۔

یہ شہروہ خطہ جسے تہذیبِ انسانی کی جنم بھومی کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ اس شہر نے کئی نام اور کئی تہذیبیں دیکھی ہیں۔ کبھی یہ آرامی قبائل کا مسکن رہا، کبھی یونانی اور رومی دور میں ایڈیسا کہلایا، پھر اسلامی فتوحات کے بعد روہا اور عثمانی دور میں اُورفا بنا۔ 1984 میں ”شانلی“ کا لقب پایا۔ جدید ترکی میں شہر کے نام کے ساتھ ”شانلی“ کا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ شہر اپنی تاریخ میں دکھائی گئی مزاحمت اور عوامی جدوجہد کو آج بھی یاد رکھتا ہے، یوں اس شہر کا نام ہی اس کے ماضی، شناخت اور وقار کا خلاصہ بن جاتا ہے۔

یہ شہر شانلہ اورفا جو ”انبیاء کا شہر“ کے لقب سے مشہورہے، تینوں ابراہیمی مذاہب میں محترم سمجھے جانے والے انبیاء سے منسوب ہے، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

مقامی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے خلاف آواز بلند کی، جس پر وقت کے بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈالنے کا حکم دیا، لیکن یہی آگ پانی میں بدل گئی اور لکڑیاں مچھلیوں کی صورت اختیار کر گئیں۔ آج بالیکلی گول کے شفاف پانیوں میں تیرتی مچھلیاں اسی روایت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ زائرین یہاں دعا کرتے ہیں، خاموشی سے بیٹھتے ہیں اور اس جگہ کو محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ روحانی تجربہ مانتے ہیں۔

 شانلی اُورفا میں واقع بالیکلی گول یا ”مچھلیوں کی جھیل“ کارپ مچھلیوں سے بھری ہوئی ہے۔ (تصویر: بشکریہ سی این این)
شانلی اُورفا میں واقع بالیکلی گول یا ”مچھلیوں کی جھیل“ کارپ مچھلیوں سے بھری ہوئی ہے۔ (تصویر: بشکریہ سی این این)

اسی احاطے میں واقع حضرت ابراہیم علیہ االسلام کی جائے پیدائش سمجھا جانے والا غار بھی عقیدت کا مرکز ہے۔ یہاں آنے والے افراد، خاص طور پر خواتین، دعا، امید اور شفا کی نیت سے ٹھہرتے ہیں۔ غار کی خاموش فضا، مدھم روشنی اور دعاؤں کی سرگوشیاں اس احساس کو مضبوط کرتی ہیں کہ یہ شہر محض دیکھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے۔

 زائرین اس غار کی زیارت کرتے ہیں، جسے روایات کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے (تصویر: بشکریہ سی این این)
زائرین اس غار کی زیارت کرتے ہیں، جسے روایات کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے (تصویر: بشکریہ سی این این)

شانلی اُورفا کی اہمیت صرف مذہبی روایت تک محدود نہیں۔ شہر کے قریب واقع گوبیکلی تَپے نے دنیا بھر کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو حیران کر دیا ہے۔ یہ مقام گیارہ ہزار سال پرانا ہے، ایک ایسا دور جب انسان نے ابھی کھیتی باڑی اور مٹی کے برتن تک ایجاد نہیں کیے تھے، مگر اس کے باوجود یہاں عظیم مذہبی و رسوماتی ڈھانچے تعمیر کیے گئے۔

 آثار قدیمہ گوبیکلی تپے (تصویر: بشکریہ سی این این)
آثار قدیمہ گوبیکلی تپے (تصویر: بشکریہ سی این این)

اس دریافت نے یہ سوچ جنم دی کہ شاید انسان نے سب سے پہلے عبادت گاہ بنائی، گھر اور کھیت بعد میں آئے۔ گوبیکلی تَپے نے شانلی اُورفا کو صرف مذہبی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی عالمی نقشے پر نمایاں کر دیا ہے۔

شہر کا آثارِ قدیمہ کا عجائب گھر اس طویل انسانی سفر کی جھلک دکھاتا ہے۔ قدیم مجسمے، موزائیکس، مقدس متون اور روزمرہ اشیاء ایک ساتھ رکھ کر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہاں تہذیبیں آئیں، پھلیں پھولیں اور گزر گئیں، مگر انسانی جستجو باقی رہی۔ رومی دور کے موزائیک فرش، چٹانوں میں تراشی گئی قبریں اور قدیم بستیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ شانلی اُورفا ہر دور میں انسانی سرگرمی کا مرکز رہا ہے۔

تاہم یہ شہر صرف تاریخ کا بوجھ اٹھائے خاموش نہیں بیٹھا۔ اس کے بازار آج بھی زندگی سے بھرپور ہیں۔ ڈھکے ہوئے بازار میں عرب، کرد اور ترک ثقافتوں کا امتزاج صاف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں تسبیحیں ہیں، کہیں تانبے کے برتن، کہیں مصالحوں کی خوشبو اور کہیں چائے کے گلاسوں کی بھاپ۔ لوگ یہاں صرف خرید و فروخت نہیں کرتے بلکہ وقت بانٹتے ہیں، باتیں کرتے ہیں اور تعلق نبھاتے ہیں۔

 شانلی اُورفا کا ڈھکا ہوا بازار (تصویر: بشکریہ سی این این)
شانلی اُورفا کا ڈھکا ہوا بازار (تصویر: بشکریہ سی این این)

کھانا شانلی اُورفا کی سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اُورفا سیخ کباب، کوفتے اور مقامی مٹھائیاں صرف ذائقہ نہیں بلکہ روایت ہیں۔ یہاں کھانا مل بیٹھنے کا رواج ہے، اور مہمان نوازی کو اخلاقی فرض سمجھا جاتا ہے۔ شام ڈھلتے ہی محفلیں سجتی ہیں، جن میں موسیقی، شاعری اور گفتگو نسلوں کے درمیان ایک پُل بن جاتی ہے۔

سِرا گجسی جس کا مطلب ہے ”محفلِ شب” یا “نائٹ آف گیدرنگ“ دراصل وہ شامیں ہیں جب شانلی اُورفا کے بزرگ اور نوجوان اکٹھے ہوتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، شاعری سناتے اور موسیقی سنتے ہیں۔ یہ محافل روایتوں کو نسل در نسل منتقل کرنے، آداب سکھانے اور کمیونٹی کے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے منعقد کی جاتی ہیں، چاہے یہ خوشی کے مواقع جیسے شادی کی تقریبات ہوں یا کسی کے انتقال پر مشترکہ غم منانے کی راتیں ہوں۔

 سِرا گجسی میں موسیقار محفل میں موسیقی پیش کرتے ہوئے(تصویر: بشکریہ سی این این)
سِرا گجسی میں موسیقار محفل میں موسیقی پیش کرتے ہوئے(تصویر: بشکریہ سی این این)

شانلی اُورفا کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی ہے کہ یہ ایک عجائب گھر بن کر منجمد نہیں ہوا۔ یہاں مسجدیں عبادت کے ساتھ ساتھ آرام اور گفتگو کی جگہ ہیں، بازار تجارت کے ساتھ سماجی مرکز بھی، اور تاریخی مقامات روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ایک ایسا شہر جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں۔

ترکیہ: نئے سال پر دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 115 مشتبہ داعش ارکان گرفتار

داعش کے حمایت یافتہ نیٹ ورک کا ہدف غیر مسلم افراد تھے: ترک حکام
شائع 25 دسمبر 2025 11:56pm

ترکیہ نے کرسمس اور نئے سال کے موقع پر ممکنہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق داعش سے تعلق رکھنے والے 115 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

ترک حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کرسمس اور نئے سال کی تقریبات کو نشانہ بنانے کے ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر بھر میں 124 مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ جس کے نتیجے میں اسلحہ، گولہ بارود اور اہم تنظیمی دستاویزات برآمد کرلی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے حمایت یافتہ عناصر نے ترکیہ کے مختلف شہروں میں حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور ان کا ہدف بالخصوص غیر مسلم آبادی تھی۔

ان کارروائیوں کے دوران مطلوب 137 میں سے 115 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جبکہ مزید 22 افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ پراسیکیوٹر آفس کے مطابق گرفتار افراد بیرونِ ملک موجود داعش کے کارندوں سے رابطے میں تھے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے ترکیہ میں داعش کے نیٹ ورکس کے خلاف جاری انسدادِ دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ ترکیہ کی شام کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جہاں داعش اب بھی بعض علاقوں میں سرگرم سمجھی جاتی ہے۔

ترک سیکیورٹی ادارے ماضی میں بھی داعش سے مبینہ تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف متعدد کارروائیاں کر چکے ہیں۔

13 دسمبر کو ترکیہ کی وزارت خارجہ نے شام میں داعش کی جانب سے امریکی اور شامی افواج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکیہ خطے میں استحکام اور سیکیورٹی مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب شام کے صدر احمد الشرع، جو ترک حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ امریکا اور یورپ کے ساتھ مل کر داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔

ترکیہ طیارہ حادثہ: لیبیا کے فوجی سربراہ سمیت اعلیٰ عسکری حکام جاں بحق

اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد اس میں اچانک طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔
اپ ڈیٹ 24 دسمبر 2025 11:42am

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آنے والے طیارہ حادثے میں لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف محمد علی احمد الحداد سمیت طیارے میں سوار تمام افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ حادثہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب ایک نجی جیٹ طیارہ انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے لیبیا کے شہر طرابلس کے لیے روانہ ہوا تھا۔

طیارہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 10 منٹ پر روانہ ہوا، تاہم پرواز کے تقریباً 40 منٹ بعد اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے دورانِ پرواز تکنیکی خرابی کی اطلاع دیتے ہوئے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی اور اسے واپس ایسن بوغا ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا تھا، لیکن لینڈنگ سے قبل ہی طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا اور بعد ازاں انقرہ کے ضلع حایمانہ کے علاقے کیسک کاواک کے قریب اس کا ملبہ ملا۔

حادثے میں محمد الحداد کے علاوہ لیبیا کے چار دیگر اعلیٰ فوجی افسران بھی جاں بحق ہوئے، جن میں بری فوج کے سربراہ جنرل الفیتوری غریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمود القطاوی، چیف آف اسٹاف کے مشیر محمد الاساوی دیاب اور چیف آف اسٹاف کے دفتر سے وابستہ فوجی فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب شامل ہیں۔

اس کے علاوہ طیارے کے تین عملے کے ارکان بھی حادثے میں جان سے گئے۔

لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے فیس بک پر جاری بیان میں محمد الحداد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب وفد ترکیہ سے وطن واپس جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ پوری قوم، فوجی ادارے اور عوام کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، اور ملک نے ایسے افراد کو کھو دیا ہے جنہوں نے دیانت داری، نظم و ضبط اور قومی ذمہ داری کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت کی۔

ترکیہ کے حکام نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکانات کو مسترد کر دیا گیا ہے اور حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی معلوم ہوتی ہے۔

ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلی کایا کے مطابق طیارے نے حایمانہ کے اوپر ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی، جبکہ صدارتی دفتر کے سربراہ برہانتین دوران نے بتایا کہ طیارے نے بجلی کے نظام میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔

مقامی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی سیکیورٹی فوٹیج میں حادثے کے وقت آسمان پر ایک تیز روشنی دیکھی گئی، جو ممکنہ طور پر دھماکے کا منظر تھی۔

ترکیہ کے وزیر انصاف یلماز تُنچ نے بتایا کہ انقرہ کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لیبیا کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایک لیبیائی ٹیم تحقیقات میں حصہ لینے کے لیے انقرہ جائے گی۔

لیبیا میں اس واقعے پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور تمام سرکاری تقریبات اور تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کے مطابق حادثے کی مکمل رپورٹ آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار طیارہ مالٹا میں رجسٹرڈ ایک لیز پر لیا گیا طیارہ تھا، جس کی تکنیکی تاریخ سے متعلق معلومات محدود ہیں۔

ادھر لیبیا بھر میں محمد الحداد کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مشرقی لیبیا کے کمانڈر خلیفہ حفتر اور بن غازی میں قائم ایوانِ نمائندگان نے بھی تعزیتی بیانات جاری کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق محمد الحداد کو ملک کے مختلف حصوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور وہ لیبیا کو متحد کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

محمد الحداد اگست 2020 سے لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز تھے۔

وہ حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطحی دفاعی مذاکرات کے لیے انقرہ میں موجود تھے، جن کا مقصد ترکیہ اور لیبیا کے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ترکیہ کی پارلیمان نے لیبیا میں ترک فوجی دستوں کی تعیناتی میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری دی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاع، معیشت اور توانائی کے شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔

دو ریاستی حل ہی اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کا واحد حل ہے، پوپ لیو

اس وقت اسرائیل اس حل کو قبول نہیں کرتا، لیکن ہم اسے ہی واحد حل سمجھتے ہیں، پوپ لیو
شائع 01 دسمبر 2025 10:29am

عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کا واحد حل ہے۔

ترکیہ سے لبنان جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت اسرائیل اس حل کو قبول نہیں کرتا، لیکن ہم اسے ہی واحد حل سمجھتے ہیں۔

پوپ لیو نے مزید کہا کہ ویٹیکن کی اسرائیل کے ساتھ دوستی بھی ہے اور وہ دونوں فریقوں کے درمیان مُصالحانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایسا حل تلاش کیا جاسکے جس میں ہر ایک کے لیے انصاف شامل ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے ملاقات میں اسرائیل-فلسطین اور یوکرین-روس تنازعات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شروعات سے ہی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کا حمایتی ملک امریکا بھی فلسطینی ریاست کی حمایت کا عندیہ دے چکا ہے۔

پوپ لیو نے یہ مختصر آٹھ منٹ کی پریس کانفرنس ترکیہ کے تین روزہ دورے کی تکمیل پر دی تھی، جو مئی میں روحانی پیشوا منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے دورے پر تھے۔

اسرائیلی ڈرون حملے میں لکڑیاں اکٹھی کرتے2 ننھے فلسطینی بھائی شہید

دوسری جانب اسرائیل کی فلسطین میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تین فلسطینیی شہید جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر اسرائیلی ملٹری نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حماس کے چالیس جنگجوؤں کو شہید کردیا ہے۔

خبرایجنسی کے مطابق جنوبی غزہ کی سرنگوں میں درجنوں حماس جنگجو موجود ہیں، سرنگوں کے اوپر کے علاقے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں، جنوبی غزہ کے ٹنل نیٹ ورک میں موجود جنگجوؤں سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔

حماس نے جنگجوؤں کے محفوظ راستے کے لیے ثالث ممالک سے  اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی: اسکول کے پرنسپل نے طالب علم کو سیڑھیوں سے دھکیل دیا

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
شائع 13 نومبر 2025 03:59pm

ترکی کے شہر منیسا میں ایک اسکول پرنسپل کو 13 سالہ طالب علم کو بے رحمی سے سیڑھیوں سے دھکیلنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اسکول کی سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پورے ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق منیسا کے ضلع تورگتلو کے ایک سرکاری مڈل اسکول میں پیش آنے والے اس واقعے میں اسکول کے پرنسپل نے طالب علم کو زبردستی سیڑھیوں سے دھکیل دیا بتایا گیا ہے کہ وہ طالبِ عمل آٹزم کا شکار بھی ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ پرنسپل نے بچے کو سیڑھیوں سے دھکیل کر نیچے گرایا، جس کے نتیجے میں بچہ زخمی ہو گیا۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بچے کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اپنے بیٹے کو واپس اسکول سے لینے آئیں تو کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے تھے اور اُس کی حالت خراب تھی۔

AAJ News Whatsapp

ترکی کی حکومت نے فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیا اور اسکول کے پرنسپل کو عہدے سے ہٹا دیا۔ وزیرِ عدلیہ بیکیر بوزداغ نے اس واقعے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ”کسی بھی کمزور فرد کے ساتھ بدسلوکی ناقابلِ برداشت ہے اور ایسا عمل کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اسکول میں تعلیم کے ماحول میں تشویش یا خوف کا عنصر نہ ہو۔

دہلی دھماکا: بھارت کی الزام تراشی پر ترکیہ کا سخت ردعمل

عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور گمراہ کن خبروں پر یقین نہ کریں: ترک سفارت خانہ
شائع 13 نومبر 2025 09:33am

بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیر کے روز ہونے والے لال قلعہ دھماکے کے بعد بھارت کے کئی میڈیا اداروں نے اپنی رپورٹوں میں ترکیہ کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے میں ملوث ملزمان کو ترکیہ سے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی، اور ان کے غیرملکی روابط انقرہ تک پہنچتے ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے ”انڈیا ٹوڈے“ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ تحقیقاتی اداروں نے گرفتار ملزمان اور ایک غیرملکی ”ہینڈلر“ کے درمیان تعلقات کا سراغ لگایا ہے، جو مبینہ طور پر ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ سے کارروائیوں کی نگرانی کرتا تھا۔

انڈیا ٹوڈے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ہینڈلر کا کوڈ نیم ”عکاسہ“ تھا، جس کے عربی میں معنی ”مکڑی“ ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ عکاسہ ممکنہ طور پر ایک فرضی نام ہے، جو اصل شناخت چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کا مسلمانوں اور کشمیری رہنماؤں کے خلاف نفرت انگیز بیان

بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ عکاسہ براہِ راست مبینہ مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر ان نبی اور اس کے ساتھیوں سے رابطے میں تھا۔ یہ رابطہ ”سیشن“ نامی خفیہ میسجنگ ایپ کے ذریعے کیا گیا، جو نگرانی سے بچنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

مزید دعویٰ کیا گیا کہ تحقیقات کے مطابق، عکاسہ نے نہ صرف گروہ کی نقل و حرکت بلکہ مالی معاملات اور نظریاتی رہنمائی میں بھی کردار ادا کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، فریدآباد کے ایک مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک کے چند افراد مارچ 2022 میں انقرہ گئے تھے، جہاں ان کی ملاقات اس ہینڈلر سے ہوئی۔ بعد ازاں، وہی افراد بھارت واپس آکر ”ڈاکٹر ماڈیول“ کا حصہ بن گئے، جو تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل گروہ تھا۔

بھارتی ایجنسیاں اب ان ملزمان کے موبائل، چیٹ ہسٹری، کال لاگز اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نیٹ ورک کے پاکستان سے تعلقات تھے یا نہیں۔

بھارتی میڈیا کی پاکستان مخالف مہم، فالس فلیگ آپریشن کا ایک اور مکروہ کھیل بے نقاب

تاہم، نئی دہلی میں ترک سفارت خانے نے ان بھارتی الزامات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔ اپنے باضابطہ بیان میں ترک سفارتخانے نے کہا کہ “بھارت کے بعض میڈیا ادارے بدنیتی پر مبنی جھوٹی رپورٹس چلا رہے ہیں، جن میں ترکیہ کو دہشت گرد گروہوں کی مالی اور سفارتی مدد دینے والا ملک قرار دیا جا رہا ہے۔”

سفارت خانے نے واضح کیا کہ ترکیہ دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے بے بنیاد الزامات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا اور ترکیے کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچانا ہے۔

ترک سفارت خانے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی میڈیا کی جھوٹی اور گمراہ کن خبروں پر یقین نہ کریں۔

انقرہ نے باور کرایا کہ ”ترکیہ امن، استحکام اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے کام کر رہا ہے، نہ کہ کسی ملک کے خلاف۔“

ترک فضائیہ کا سی ون تھرٹی کارگو طیارہ آذربائیجان سرحد کے قریب گر کر تباہ

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طیارے کے فضا میں ہی دو ٹکڑے ہوئے اور دھواں چھوڑتا زمین پر جاگرا
شائع 11 نومبر 2025 08:47pm

ترک فضائیہ کا سی ون تھرٹی کارگو طیارہ آذربائیجان سرحد کے قریب گر کر تباہ ہوگیا، طیارہ آذربائجان سے روانہ ہوا تھا اور واپس ترکیہ جارہا تھا جب کہ طیارے میں 20 افراد سوار تھا، فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طیارے کے فضا میں ہی دو ٹکڑے ہوئے اور دھواں چھوڑتا زمین پر جاگرا۔

ترک میڈیا کے مطابق ترکی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز ترک فضائیہ کا سی 130 فوجی کارگو طیارہ جارجیا کی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا، طیارے میں 20 فوجی اہلکار موجود تھے۔

ترک وزارتِ دفاع کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سی 130 طیارہ آذربائیجان سے ترکی کے لیے روانہ ہوا تھا کہ جارجیا اور آذربائیجان کی سرحد کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا۔ آذربائیجانی اور جارجیائی حکام کے تعاون سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاہم حادثے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔

ہنگامی بنیادوں پر جاری کارروائی کے دوران حادثے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں طیارہ زمین کی طرف گھومتا ہوا دکھائی دیتا ہے جب کہ اس کے پروں سے سفید دھواں اٹھتا نظر آرہا ہے۔

بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردوان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اس حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ممکنہ جانی نقصان کی نشاندہی کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ“ہمیں یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ موصول ہوئی، اللہ ہمارے شہدا پر رحم فرمائے۔”

جارجیا کی وزیر خارجہ مکا بوچوریشولی نے ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان سے فون پر رابطہ کرکے تعزیت کی اور امدادی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ < center>

AAJ News Whatsapp

ترک سفارتی ذرائع کے مطابق ترک وزیر داخلہ علی یرلی کایا نے بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے جارجیائی ہم منصب جیلا گیلاڈزے سے رابطہ کیا ہے تاکہ کارروائیوں کی مزید مؤثر ہم آہنگی ممکن بنائی جا سکے۔ ترک وزیر کے مطابق جارجیا کے وزیر داخلہ حادثے کی جگہ بھی پہنچ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ترک فضائیہ کے پاس سی 130 ہرکولیس طیاروں کی تعداد تقریباً 20 ہے، سی 130 ہرکولیس 4 انجنوں والا ٹربو پراپ ٹرانسپورٹ طیارہ ہے، جو فوجی ساز و سامان کی ترسیل، فورسز کی نقل و حمل اور انسانی ہمدردی کے مشنز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کھردرے فضائی راستوں سے بھی اڑان بھرنے اور طویل فاصلے تک بھاری وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاک افغان کشیدگی: ترکیہ کا وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور انٹیلی جنس چیف کو پاکستان بھیجنے کا اعلان

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی
شائع 10 نومبر 2025 08:46am

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ اُن کے ملک کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات پر پاکستان سے مشاورت کی جا سکے۔ ترک صدر کے مطابق اس وفد میں وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دورے کا مقصد مستقل جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کو حتمی شکل دینا ہے۔

ترکیہ کا یہ سفارتی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔ اس کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے ایران نے بھی ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور پیشکش کی کہ ایران دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کم کرانے اور بات چیت بحال کرنے میں کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

عباس عراقچی نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کو مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں تاکہ غلط فہمیوں اور اختلافات کا خاتمہ ہو سکے۔

استنبول مذاکرات پر غیرجانبدار ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی: سفارتی ذرائع

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ علاقائی امن کے لیے بات چیت ناگزیر ہے اور ایران ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے لیے علاقائی امن و استحکام انتہائی اہم ہے، دونوں وزرائے خارجہ نے رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دوسری جانب، ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ “فتنہ الہندوستان” اور “فتنہ الخوارج” سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان گزشتہ چار سال سے افغان طالبان رجیم کے ساتھ رابطے میں ہے اور مذاکراتی عمل میں سنجیدگی دکھا چکا ہے۔ تاہم افغان طالبان نے اصل مسئلے کے بجائے غیر متعلقہ نکات پر بات کی اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے کو مہاجرین کا مسئلہ بنا کر پیش کیا۔

ترک صدر کا پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور، دہشت گرد حملوں پر گہری تشویش

ترجمان نے کہا کہ اگر وہ واقعی مہاجرین ہیں تو انہیں چمن یا طورخم بارڈر کے راستے واپس بھیجا جائے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان قطر اور ترکیہ کی ثالثی کا شکر گزار ہے، لیکن افغان طالبان حکومت نے نہ تو دہشتگرد گروہوں کے خلاف کوئی کارروائی کی اور نہ ہی سرحد پار حملوں کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات دور کیے۔

ترجمان نے کہا کہ طالبان حکومت محض جنگ بندی میں توسیع کی خواہش رکھتی ہے، جبکہ پاکستان خطے میں مستقل امن اور اپنے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پاکستان کا افغان سرزمین دہشت گردی میں استعمال روکنے کا مطالبہ برقرار، ٹرمپ کی دوبارہ ثالثی کی پیشکش

سہولت کاروں کا کسی ایک جانب جھکاؤ کا تاثر غلط ہے، قومی مفادات کا ہر حال میں دفاع کیا جائے گا، پاکستانی مؤقف
اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2025 06:29pm

استنبول میں پاک افغان مذاکرات کے تیسرے دور میں پاکستان نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے افغان سرزمین کا دہشت گردی میں استعمال روکنے کا مطالبہ برقرار رکھا ہے۔

استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان میں مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔ پاکستان افغان سرزمین کےدہشت گردی میں استعمال روکنے کے مطالبے پر قائم ہے، جبکہ افغان طالبان نے دیگر ممالک کو مانیٹرنگ میکانزم میں شامل کرنےکی تجویز دی ہے۔

مذاکرات میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مِس ایڈونچر کا مناسب جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور قومی مفادات کا ہر حال میں دفاع کیا جائے گا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ قطر کی طرح ترکیہ بھی غیر جانبدار بروکر ہے، جبکہ سہولت کاروں کا کسی ایک جانب جھکاؤ کا تاثر غلط ہے۔

استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان مذاکرات آج تیسرے روز بھی جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود اس وقت استنبول میں موجود ہیں، تاہم گزشتہ روز مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔

افغانستان اور پاکستان کے حکام کے درمیان استنبول میں پیر کے روز مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہوا، تاہم دونوں ممالک تاحال پائیدار امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

رائٹرز کے مطابق جنوبی ایشیا کے ان دونوں ہمسایہ ممالک نے 19 اکتوبر کو دوحا میں سرحدی جھڑپوں کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ ان جھڑپوں میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے تھے، جو 2021 میں طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کی سب سے شدید جھڑپیں تھیں۔

ترکی کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد ایک طویل المدتی جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنا ہے، مگر فریقین کے مؤقف میں نمایاں فرق برقرار ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان مذاکراتی عمل میں تعاون نہیں کر رہے۔ ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق، ”پاکستانی وفد نے واضح کر دیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔“

دوسری جانب طالبان وفد کے ایک رکن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ کہنا غلط ہے کہ طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور متعدد امور پر بات چیت جاری ہے۔“

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی اے سے گفتگو میں کہاکہ ”اسلامی امارت مذاکرات کی حامی ہے اور سمجھتی ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔“

AAJ News Whatsapp

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے موجودہ مذاکراتی صورتحال پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ہفتے کے روز پاکستان کے وزیرِ دفاع نے خبردار کیا تھا کہ، ”اگر استنبول مذاکرات میں معاہدہ نہ ہوا تو اس کا مطلب کھلی جنگ ہوگا۔“

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی رات کو ایک بار پھر پیشکش کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع ختم کرنے میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے ملیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک علاقائی سربراہی اجلاس کے موقع پر کہا، “میں اس مسئلے کو بہت جلد حل کر دوں گا، میں دونوں ممالک کو اچھی طرح جانتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ ہم یہ معاملہ جلد نمٹا لیں گے۔”

ذرائع کے مطابق، مذاکرات کا اگلا سیشن استنبول میں ہی جاری رہے گا، اور اگر کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو ممکن ہے کہ ترکی یا قطر میں مزید مذاکراتی دور بلایا جائے۔

طالبان کے مسودے میں شامل دو بنیادی مطالبات کیا ہیں؟

ترکیہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری مذاکرات دوسرے روز کوئی فیصلہ کن پیشرفت نہ ہوسکی۔ تاہم، دونوں ممالک کے وفود نے پندرہ گھنٹے طویل بات چیت کے بعد ممکنہ معاہدے کا مسودہ تیار کیا۔ اس دوران ثالثوں کی موجودگی میں دونوں جانب سے تجاویز کا تبادلہ بھی ہوا۔

افغان خبر رساں ادارے “طلوع نیوز“ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے وفد نے پاکستانی مذاکراتی ٹیم کے سامنے ایک مسودہ پیش کیا جس میں دو بنیادی مطالبات شامل تھے۔

اول یہ کہ پاکستان افغانستان کی فضائی حدود اور زمینی سرحدوں کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اور دوم، پاکستان اپنی سرزمین کسی ایسی تنظیم یا گروہ کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دے جو افغانستان کے خلاف کارروائی کرے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مسودہ ثالثوں کے ذریعے پاکستانی وفد کو پہنچایا گیا جس کے جواب میں پاکستان نے بھی اپنا نیا مسودہ افغان حکام کے حوالے کیا ہے۔

پاکستان نے اپنے مؤقف میں اس بات پر زور دیا کہ افغانستان سے پاکستان میں دراندازی اور منصوبہ بند حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

بین الاقوامی امور کے افغان ماہر واحد فقیری نے طلوع نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ”اگر ترکی میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات میں دونوں ممالک سرحدی کشیدگی کم کرنے اور باہمی تعاون پر متفق ہو گئے تو ایسا معاہدہ چند ماہ تک مؤثر رہ سکتا ہے۔“

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے جنگ بندی کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک چار فریقی مانیٹرنگ چینل قائم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ چینل ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لے گا اور معلومات کے تبادلے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر محمد بلال عمر نے بتایا کہ ”دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو فریقین کے اقدامات کی نگرانی کریں گی۔“

سہولت کاروں کے کسی ایک جانب جھکاؤ کا تاثر غلط ہے، پاکستان

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، جبکہ افغان طالبان نے دیگر ممالک کو مانیٹرنگ میکانزم میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ قطر کی طرح ترکیہ بھی مذاکرات میں ایک غیر جانبدار بروکر کے طور پر سہولت کاری کر رہا ہے اور سہولت کاروں کے کسی ایک جانب جھکاؤ کا تاثر غلط ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرناک واقعے یا مِس ایڈونچر کا مناسب جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی مفادات کا ہر حال میں دفاع کرے گا۔

پاک افغان مذاکرات میں پاکستانی وفد کا افغان طالبان کو حتمی موقف پیش

پاکستانی وفد نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے پڑیں گے
اپ ڈیٹ 27 اکتوبر 2025 04:46pm

ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات میں پاکستانی وفد نے افغان طالبان کو حتمی موقف پیش کیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق استبول میں جاری مذاکرات میں پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی کو نا منظور قرار دیا ہے۔

پاکستانی وفد نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے پڑیں گے، اس کے برعکس طالبان کے دلائل غیرمنطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر ہیں۔

پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نظر آ رہا ہے کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور یہ ایجنڈا افغانستان، پاکستان اور خطے کے استحکام کے مفاد میں نہیں ہے۔ مذاکرات میں مزید پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے پر منحصر ہے۔

ذرائع کے مطابق گفتگو کا مرکزی محور افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ دونوں فریقین قابل تصدیق مانیٹرنگ میکانزم کو مزید مؤثر بنانے پر غور کر رہے ہیں، اور مذاکرات میں اس نظام کی تشکیل و عمل درآمد پر تفصیلی بات ہوگی۔

سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ اس دوران افغان طالبان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی نئی جگہ پر آباد کاری کی پیشکش کی تھی، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں اور عالمی برادری کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کریں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے حملے ہرصورت رکنے چاہئے، افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند کرنا ہوگا۔

استنبول مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کنٹرول کرنے کے میکنزم کو واضح کرنا ہوگا، اینٹی ٹیرر میکنزم واضح اور موثر ہونا لازمی ہو، پاکستان کا یہ اصولی مطالبہ تسلیم ہوگا تو ہی بات آگے بڑھے گی۔

پاکستان نے واضح کیا کہ تسلی نہ ہوئی تو پاکستان کوئی لچک نہیں دکھائے گا، ہم اچھے ہمسایوں اور برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہیں گے اور اپنے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

پاکستان کے 7 رکنی وفد میں سینئر عسکری، انٹیلی جنس اور وزارتِ خارجہ کے حکام شامل ہیں، جبکہ افغان طالبان کی قیادت نائب وزیرِ داخلہ کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دونوں فریقین کے درمیان تجاویز کا تبادلہ جاری ہے اور ثالثوں کی موجودگی اس عمل کو مزید سہولت فراہم کر رہی ہے۔

قبل ازیں ترکیہ کی میزبانی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں نو گھنٹے طویل مشاورت کے بعد اختتام پذیر ہوگیا تھا۔ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے وفود نے دوحہ میں ہونے والے پہلے مذاکرات میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا۔

پاکستان نے افغان طالبان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا تھا۔ افغان طالبان نے اس پلان پر غور و خوض شروع کر دیا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنے حتمی جواب سے پاکستان کو آگاہ کرنے کا عندیہ دیا۔

افغانستان کو ہرصورت فتنہ الخوارج کو لگام ڈالنا ہوگی، پاکستان نے پھر واضح کردیا

پاکستان کی جانب سے دو رکنی وفد مذاکرات میں شریک ہوا، جبکہ افغانستان کی نمائندگی نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ مجیب نے کی۔ مذاکرات کا آغاز دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوا تھا اور رات گئے تک جاری رہا تھا۔ ترکیہ نے مذاکراتی عمل کی میزبانی کی، جبکہ قطر اس سفارتی کوشش میں ثالثی کے کردار میں شامل تھا۔

یاد رہے کہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہی پاک افغان مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔

ٹی ٹی پی کا سرحد پار نیٹ ورک بے نقاب: افغان خودکش بمبار کا اعترافی بیان منظرعام پر

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح اعلان کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں معاہدہ نہ ہوا تو پاکستان افغان طالبان کے خلاف کھلی جنگ کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوحہ مذاکرات میں شریک افغان وفد وہی لوگ ہیں جو پاکستان میں جوان ہوئے۔ پاکستان نے چالیس برس تک افغان عوام کی میزبانی کی، مگر اب بغیر ویزے کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

پاکستان خطے کا فاتح قرار، بھارت کو 25 سالہ محنت اور سفارتی اعتماد کے ضیاع کا خدشہ

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت افغان سرزمین کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، لیکن پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

ان مذاکرات کو پاک افغان تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف دہشت گردی کے خاتمے اور سرحدی استحکام کے لیے کوششیں جاری ہیں، تو دوسری جانب اگر معاہدہ نہ ہوا تو خطے میں ایک نئی کشیدگی کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔

’حماس غزہ کا کنٹرول عبوری فلسطینی کمیٹی کو دینے پر آمادہ‘، پاکستان سمیت 8 عرب و اسلامی ممالک کا خوشی کا اظہار

حماس کی جانب سے جنگ ختم کرنے، تمام یرغمالیوں (زندہ یا مُردہ) کو رہا کرنے اور نفاذ کے طریقہ کار پر مذاکرات شروع کرنے کا اعلان ایک اہم پیش رفت ہے، مشترکہ اعلامیہ
شائع 05 اکتوبر 2025 01:42pm

وزارت خارجہ پاکستان نے آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ جس میں غزہ میں جنگ کے خاتمے، یرغمالیوں کی رہائی اور قیامِ امن سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ تجویز پر حماس کے مثبت ردعمل کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے جنگ ختم کرنے، تمام یرغمالیوں (زندہ یا مُردہ) کو رہا کرنے اور نفاذ کے طریقہ کار پر مذاکرات شروع کرنے کا اعلان ایک اہم پیش رفت ہے۔

’بالوں سے گھسیٹا گیا، اسرائیلی جھنڈے میں لپیٹا گیا‘: فلوٹیلا سے گرفتاری کے بعد گریٹا تھنبرگ کے ساتھ کیا ہوا

اعلامیے میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو بمباری روکنے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنے کی اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی خطے میں امن کے قیام کیلئے کوششوں کو سراہا گیا۔

AAJ News Whatsapp

وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی کے قیام کیلئے حقیقی موقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر جب غزہ کے عوام بدترین انسانی بحران سے دوچار ہیں۔

بیان میں حماس کی جانب سے غزہ کی انتظامیہ ایک عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی کو منتقل کرنے کی آمادگی پر بھی خوشی کا اظہار کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اس تجویز پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور تمام پہلوؤں پر فوری مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

مشتاق احمد اور دیگر پاکستانی اسرائیلی فوج کی حراست میں مگر خیریت سے ہیں، دفترِ خارجہ

اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ نے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، فلسطینیوں کے جبری انخلا کی روک تھام، شہریوں کے تحفظ، یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی اتھارٹی کی غزہ میں واپسی کیلئے متحدہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ مقصد ایسا جامع معاہدہ ہے جو اسرائیلی انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر پائیدار امن کی راہ ہموار کرے۔

فرانس نے بھی فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرلیا، پاکستان سمیت مسلم ممالک کا خیر مقدم

آزاد فلسطینی ریاست کی گورننس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، تمام دھڑے اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کریں گے: محمود عباس
اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2025 11:50am
France Recognizes Palestine as Independent State - Pakistan News

فرانس نے فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کرتے ہوئے عالمی سیاست میں ایک تاریخی موڑ پر قدم رکھ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر ایک بڑی کانفرنس فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔ جس میں خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا کہ اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا، غزہ میں جاری جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے اور دنیا امن کے موقع سے صرف چند لمحوں کے فاصلے پر ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھ کر ایک سو اکیاون ہوگئی ہے۔

کانفرنس کے مرکزی خطاب میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’پُرامن حل کا وقت آ گیا ہے‘ اور انہوں نے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے، اغوا شدگان کی فوری رہائی اور دو ریاستی حل کی بحالی پر زور دیا۔

میکرون نے کانفرنس سے خطاب میں تسلیم کیا کہ عالمی برادری امن کے لیے مشترکہ ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے اور کہا کہ ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’غزہ میں جاری جنگ کا کوئی جواز نہیں‘، دنیا امن کے موقع سے محض چند لمحوں کے فاصلے پر ہے، اس لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات لازم ہیں۔

صدر میکرون نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام یرغمالیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرے اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کمزوری نہیں دکھانی چاہیے، لیکن اسی وقت انسانی جانوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’زندگی زندگی ہے چاہے کسی کی بھی ہو، ہمیں جانیں بچانی ہوں گی‘۔

میکرون نے زور دے کر کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی گورننس میں مسلح گروہوں کا حصہ نہیں ہوگا اور دو ریاستوں کے اصول کے تحت امن ممکن ہے۔

کانفرنس کے دوران میکرون نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر عملی قدم نہ اٹھائے تو موقع ہاتھ سے نکل سکتا ہے، اس لیے ’ہمیں آنکھیں کھولنی ہیں‘ اور بدترین صورتحال کو ماضی کا حصہ بنانے کی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔

میکرون نے یہ بھی کہا کہ حماس کو کمزور کیا گیا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسانی بحران میں کمی نہیں آئی، سیکڑوں ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں اور شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، اس لیے فوری امداد اور طویل مدتی بحالی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ اور تباہی کے سلسلے کو روکنے کے لیے سب کو مشترکہ ذمہ داریاں اٹھانی ہوں گی۔

لندن میں پہلی بار فلسطینی سفارت خانے پر فلسطینی پرچم

برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک کی جانب سے بھی فلسطین کو تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد لندن میں پہلی بار فلسطینی سفارت خانے پر فلسطینی پرچم لہرایا گیا، جبکہ فلسطینی مشن کو سفارت خانے کا درجہ دے دیا گیا۔

AAJ News Whatsapp

پاکستان سمیت مسلم ممالک کا خیر مقدم

پاکستان نے بھی فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کے باضابطہ اعلانِ تسلیم کا خیر مقدم کیا ہے۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ فلسطین کو آزادی کے اعلان کے بعد تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تمام ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ریاستِ فلسطین کو تسلیم کریں کیونکہ دو ریاستی حل نیو یارک ڈیکلریشن اور بین الاقوامی قانون کے عین مطابق ہے۔

فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا جانا ایک اہم قدم ہے، حماس کا ردعمل

سعودی عرب نے بھی فرانس کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل ہی امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں وحشیانہ جرائم کر رہا ہے جبکہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں بھی مظالم جاری ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی کانفرنس کو امن کے حصول کا تاریخی موقع قرار دیا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے عالمی برادری سے فوری طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی گورننس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا اور تمام دھڑے اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کریں گے۔ محمود عباس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے ہمیشہ عالمی برادری کی یقین دہانیوں کی نفی کی ہے، لہٰذا اسے عالمی قوانین کا پابند بنایا جائے۔

’سب نمائشی ہے‘۔۔۔ مغربی ممالک کے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان نیتن یاہو اور امریکا نے مسترد کردیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے زور دیا کہ دنیا بھر میں آزادی فلسطین کے نعرے گونج رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین علاقائی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے اور قیامِ امن کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تنازع اخلاقی، قانونی اور سیاسی طور پر ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں شہریوں کا قتلِ عام جاری ہے جبکہ مغربی کنارے میں بھی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ گوتریس نے واضح کیا کہ دو ریاستوں کا قیام ہی اس مسئلے کا واحد اور پائیدار حل ہے۔

قطر پر حملے کے بعد اسرائیل کا اگلا نشانہ کون سا ملک؟

اسرائیل نے حملہ کیا تو کون سی حکمت عملی اپنائے گا؟
شائع 21 ستمبر 2025 03:17pm

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے اور انقرہ میں اس بات پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے کہ اب اسرائیل کا اگلا ہدف ترکیہ ہو سکتا ہے۔ قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں کے فوراً بعد اسرائیل نواز تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں نے ترکیہ کے خلاف کھل کر بیان بازی شروع کر دی ہے۔

امریکا میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تھنک ٹینک امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر رکن مائیکل روبن کا کہنا ہے کہ ’خطرہ ہے کہ ترکیہ اسرائیل کا اگلا ہدف ہے اور انقرہ کو اس خیال میں نہیں رہنا چاہیے کہ نیٹو اس کی حفاظت کرے گا‘۔

دوسری جانب اسرائیلی سیاستدان میر مصری نے سوشل میڈیا پر کھلے لفظوں میں لکھا، ’آج قطر، کل ترکیہ‘۔

حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی الوداعی تصاویر جاری کر دیں

اس بیان پر ترکیہ کے ایوانِ صدر سے انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا اور صدر اردوان کے قریبی مشیر نے اسرائیل کو ’’صہیونی کتا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’جلد ہی تمہاری صفحۂ ہستی سے مٹنے کے بعد دنیا سکون کا سانس لے گی‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میڈیا اور تھنک ٹینک کئی ماہ سے ترکیہ کو اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ترکیہ کی مشرقی بحیرہ روم میں موجودگی، شام میں اس کا اثر و رسوخ اور غزہ کے عوام کے ساتھ اس کی ہمدردی کو اسرائیل براہِ راست اپنے مفادات کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

تُرک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے گزشتہ ماہ اسرائیل کے ساتھ تمام اقتصادی اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا اعلان کیا اور کہا تھا کہ اسرائیل کی ’’گریٹر اسرائیل‘‘ پالیسی دراصل پورے خطے کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ خطے کے تمام ممالک غیر مؤثر اور منقسم رہیں تاکہ صہیونی بالادستی قائم رہے۔

اسرائیل نے حالیہ ہفتوں میں صرف غزہ ہی نہیں بلکہ یمن، شام اور تیونس تک حملے کیے ہیں۔ ان کارروائیوں نے انقرہ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ اسرائیل امریکی پشت پناہی کے ساتھ پورے خطے پر اجارہ داری چاہتا ہے۔

ریٹائرڈ ترک ایڈمرل جیم گوردنیز کے مطابق اسرائیل کی قبرص اور شام میں فوجی و انٹیلی جنس سرگرمیاں محض دفاعی اقدامات نہیں بلکہ ترکیہ کے ’’بلو ہوم لینڈ‘‘ نظریے کے خلاف ایک جارحانہ حکمتِ عملی ہیں۔ یہ نظریہ ترکیہ کی بحیرۂ روم، ایجیئن اور بلیک سی میں خودمختاری اور سمندری مفادات کے تحفظ کی پالیسی ہے۔ گوردنیز نے عرب خبر رساں ادارے ”الجزیرہ“ سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل کا اصل مقصد ترکیہ کو گھیرنا اور ترک قبرصی عوام کے حقوق کو خطرے میں ڈالنا ہے۔

جیم گوردنیز نے مزید کہا کہ ’قبرص میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی اور خفیہ موجودگی، جو یونان اور یونانی قبرصی انتظامیہ کے ساتھ امریکی سرپرستی میں جڑی ہوئی ہے، انقرہ کے نزدیک ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کا مقصد ترکیہ کے ’’بلو ہوم لینڈ‘‘ نظریے کو کمزور اور محدود کرنا ہے۔‘

برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کیے جانے کا امکان

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ اسرائیل کا دفاعی قدم نہیں بلکہ ایک جارحانہ گھیراؤ کی حکمتِ عملی ہے، جو ترکیہ کی سمندری آزادی اور ترک قبرصی عوام کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔‘ گوردنیز کی ترک قبرصی عوام سے مراد شمالی قبرص کی ترک جمہوریہ تھا، جسے صرف ترکیہ تسلیم کرتا ہے، جبکہ باقی قبرص یونانی قبرصی حکومت کے زیرِ انتظام ہے۔

قبرص کی تقسیم طویل عرصے سے ترکیہ، یونان اور قبرص کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے قبرص کو اسرائیلی فضائی دفاعی نظام فراہم کیا گیا ہے، جس نے انقرہ میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔

ترکیہ میں نجم الدین اربکان یونیورسٹی کے عالمی و علاقائی مطالعاتی مرکز کے ڈائریکٹر گوکھان جنگکارا کا ماننا ہے کہ اگرچہ فی الحال انقرہ اور تل ابیب براہِ راست تصادم سے گریز کریں گے، لیکن اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیزی ترک قیادت کو اپنے دفاعی نظام مضبوط کرنے، فضائی و میزائل دفاع بڑھانے اور قطر، اردن اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ نئے علاقائی اتحاد بنانے پر مجبور کر رہی ہے۔

قطر نے غزہ ثالثی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے شرط رکھ دی، امریکی میڈیا کا دعویٰ

ایک اور ماہر نے کہا کہ اسرائیل ترکیہ کے خلاف روایتی جنگ شروع نہیں کرے گا بلکہ پراکسی جنگوں، خفیہ کارروائیوں اور شام جیسے میدانوں پر ٹکراؤ کے ذریعے ترکیہ کو دبانے کی کوشش کرے گا۔

سوال یہ ہے کہ اسرائیل کی بڑھتی جارحیت اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا خواب مشرقِ وسطیٰ میں کتنی بڑی جنگ کی بنیاد ڈال سکتا ہے؟ اور کیا ترکیہ خطے میں اسرائیل کی توسیع پسند پالیسی کے سامنے بند باندھ سکے گا یا یہ کشیدگی آنے والے دنوں میں کھلے تصادم میں بدل جائے گی؟

وزیراعظم کی ترک صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

مشکل وقت میں ترکیہ کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ترک صدر
شائع 31 اگست 2025 05:11pm

وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات کی ہے۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک ترک تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔

صدر اردوان نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصانات پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ مشکل وقت میں ترکیہ کی حکومت اور عوام پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر بھی بات چیت کی۔ انہوں نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت و نسل کشی کی پالیسیوں کی مذمت کے لیے بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ کوششوں کے عزم کو دہرایا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور رجب طیب اردوان نے اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی۔

ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے گہرے برادرانہ تعلقات پر اعتماد کا اظہار کیا گیا اور مسلم دنیا سمیت عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

ترکیہ کی دفاعی صنعت میں بڑی کامیابی ’اسٹیل ڈوم‘ متعارف کرا دیا

'یہ ایئر ڈیفنس سسٹم دوست ممالک کے لیے اعتماد اور دشمنوں کے لیے خوف کا باعث ہوگا' صدر اردوان
شائع 28 اگست 2025 11:24am

ترکی نے دفاعی صنعت میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان نے جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم ’اسٹیل ڈوم‘ کی فوج کو فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ ملک کی سلامتی اور خود انحصاری کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔

اردوان نے انقرہ میں اسلسان کے مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 47 جدید فوجی گاڑیاں، جن کی مالیت 460 ملین ڈالر ہے، فوج کے حوالے کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام دوست ممالک کے لیے اعتماد اور دشمنوں کے لیے خوف کا باعث ہوگا۔

’اسٹیل ڈوم‘ ایک جامع دفاعی نظام ہے جو مختلف بلندیوں سے آنے والے خطرات کے خلاف زمینی اور بحری دفاعی پلیٹ فارمز، ریڈار، سینسرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس نظام کے تحت حصار O-100 اور سپر میزائل سسٹمز، جدید ریڈارز، الیکٹرانک وار فیئر سسٹمز اور مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی ہتھیار فوج کو فراہم کیے گئے ہیں۔

پاک فوج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم سے ترکیہ کے سفیر کی ملاقات

اردوان نے کہا کہ ترکی اب ایک ایسے دور میں داخل ہورہا ہے جہاں اپنی ضروریات کے لیے باہر پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ اپنے بنائے ہوئے دفاعی نظاموں سے ملکی سلامتی کو یقینی بنائے گا۔

اسی موقع پر اسلسان کے اوغلبے (Ogulbey) ٹیکنالوجی بیس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ یہ منصوبہ 1.5 بلین ڈالر کی لاگت سے بنایا جائے گا جو ترکی کی دفاعی صنعت میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اردوان کے مطابق یہ بیس یورپ کا سب سے بڑا مربوط ایئر ڈیفنس مرکز ہوگا اوراگلے سال اس کا پہلا حصہ کام شروع کردے گا۔

تقریب میں 14 نئی تنصیبات کا افتتاح بھی کیا گیا جن سے کمپنی کی پیداوار کی صلاحیت میں 40 فیصد اضافہ ہوگا اور تقریباً 4 ہزار افراد کو روزگار ملے گا۔

ترک صدر نے پاکستانی قوم کی حمایت کا ایک بار پھر واضح اعلان کردیا

صدر اردوان نے کہا کہ خطے میں جاری جنگوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فضائی خطرات کو پہچاننے کے لیے جدید راڈار اور دفاعی نظام کتنے ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکی اپنی سلامتی میں کسی طرح کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گا۔

ترک وزیر دفاع یشار گولر نے بھی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اسٹیل ڈوم‘ مسلح افواج کی طاقت اور مؤثریت میں اضافہ کرے گا اور ملکی سلامتی کو اعلیٰ ترین سطح پر یقینی بنائے گا۔

ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ کو تیز رفتاری پر جرمانہ، قوم سے معافی مانگنی پڑ گئی

ترکی میں ہائی ویز پر زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 140 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔
اپ ڈیٹ 27 اگست 2025 02:17pm

ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ عبدالقادر یورالوغلو نے اپنی تیز رفتار ڈرائیونگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جو دیکھی جانے کے بعد انہیں جرمانہ کردیا گیا، ویڈیو میں وہ 225 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہے تھے، جو قانونی حد سے تقریباً دوگنا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ وزیرعبدالقادر کی گاڑی اناطولیہ کی مشہور انقرہ موٹروے پر دیگر گاڑیوں کو تیزی سے پیچھے چھوڑتی ہوئی اسپیڈ میں آگے بڑھ رہی تھی، جب کہ پس منظر میں ترک لوک موسیقی اور صدر رجب طیب اردگان کی تقریر کے کچھ حصے چل رہے تھے، جن میں حکومت کے انفراسٹرکچر منصوبوں کی تعریف کی گئی تھی۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹریفک پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے وزیر برائے ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر عبدالقادر پر 9,267 ترک لیرا یعنی تقریباً 280 ڈالرز کا جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ خلاف ورزی انقرہ کے قریب تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ریکارڈ ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد وزیرِ ٹرانسپورٹ نے خود اپنی خلاف ورزی کے چالان کی تصویر پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی اور لکھا، ’اپنی قوم سے معذرت خواہ ہوں۔‘

یاد رہے کہ ترکی میں ہائی ویز پر زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 140 کلومیٹر فی گھنٹہ (87 میل فی گھنٹہ) ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ سال کے دوران ملک بھر میں لگ بھگ 15 لاکھ ٹریفک حادثات ہوئے جن میں 6,351 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

ترکیہ کے جنگل میں لگی آگ 10 فائر فائٹرز نگل گئی

واقعہ بدھ کے روز اُس وقت پیش آیا جب 24 فائر فائٹرز آگ کے گھیرے میں آ گئے
شائع 24 جولائ 2025 09:13am

وسطی ترکیہ کے جنگلات میں لگی خوفناک آگ پر قابو پانے کی کوشش کے دوران دلخراش واقعہ پیش آیا، جس میں 10 فائر فائٹرز جاں بحق جبکہ 14 شدید جھلس کر زخمی ہو گئے۔ ترک وزیر زراعت و جنگلات کے مطابق جنگل کی آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائیاں بدستور جاری ہیں، اور درجنوں فائر بریگیڈ اہلکار اب بھی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

واقعہ بدھ کے روز اُس وقت پیش آیا جب 24 فائر فائٹرز آگ کے گھیرے میں آ گئے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران 10 اہلکاروں کی لاشیں نکال لی گئیں، جبکہ 14 جھلسے ہوئے افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

وزیر زراعت نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود امدادی ٹیمیں ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں تاکہ مزید جانی نقصان نہ ہو۔ آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر اور زمینی عملہ مشترکہ طور پر آپریشن میں شریک ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ کسی نامعلوم وجہ سے بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی ایکڑ پر پھیلے جنگل کو لپیٹ میں لے لیا۔ ترک حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جب کہ مقامی آبادی کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

ترکیہ میں حالیہ برسوں میں موسم گرما کے دوران جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ ماحولیاتی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ترکیہ اور آذربائیجان کے اعلیٰ عسکری حکام سے اہم ملاقاتیں

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی استنبول میں 17 ویں بین الاقوامی دفاعی صنعت نمائش میں شرکت
شائع 23 جولائ 2025 07:01pm

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ترکیہ کے سرکاری دورے کے دوران استنبول میں منعقدہ 17 ویں بین الاقوامی دفاعی صنعت نمائش میں شرکت کی، یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ نمائش جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی اورعسکری جدتوں کا مظہرہے، اس دوران انہوں نے ترکیہ اور آذربائیجان کے اعلیٰ عسکری حکام سے اہم ملاقاتیں کیں، جس میں دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دفاعی نمائش کے موقع پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ترک وزیر دفاع جنرل (ریٹائرڈ) یاشار گلر، آذربائیجان کے وزیر دفاع کرنل جنرل ذاکر حسنوف، ڈپٹی وزیر دفاع قربانوف آگل اور ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل متین گوراک سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں میں باہمی دفاعی تعاون، سیکیورٹی کے شعبوں میں وسعت اور مستقبل کے جیو اسٹریٹیجک ماحول سے ہم آہنگ مشترکہ شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، انسداد دہشت گردی میں قربانیوں اور خطے میں امن واستحکام کے قیام میں کردار کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

ان ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان، ترکی اور آذربائیجان دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اورمشترکہ مقاصد کی بنیاد پرتعاون کوفروغ دیں گے۔

امریکہ نے 65 سال بعد اسمگل شدہ مجسمہ ترکی کو واپس کردیا

1960 کی دہائی میں ترکی کے قدیم شہر بوبون سے چرائی گئی مورتی واپس ترکی پہنچ گئی
شائع 20 جولائ 2025 01:16pm

ترکی کا قیمتی ثقافتی ورثہ واپس لوٹ آیا ہے۔ مشہور رومی بادشاہ، مارکس اوریلیئس کی قدیم کانسی کی مورتی جو کہ 65 سال پہلے ترکی سے غیر قانونی طور پر اسمگل کر لی گئی تھی، اب اپنے اصل وطن واپس پہنچ چکی ہے۔

یہ مورتی 1960 کی دہائی میں ترکی کے جنوب مغربی علاقے بوردور کے قدیم شہر بوبون سے چرائی گئی تھی۔ بوبون اپنی تاریخی اہمیت اور قدیم نوادرات کے لیے مشہور ہے۔ مارکس اوریلیئس کو ’فلسفی بادشاہ‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے نہ صرف رومن سلطنت کی قیادت کی بلکہ فلسفے میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔

کراچی: ملیر میں ہزاروں سال قدیم چھوٹا قصبہ دریافت، موہن جو دڑو سے مشابہت

یہ قیمتی مورتی حالیہ مہینوں میں کلیولینڈ میوزیم آف آرٹ، امریکہ میں نمائش کے لیے رکھی گئی تھی۔ لیکن ترکی کی مسلسل کوششوں، مضبوط دلائل، سائنسی تجزیوں اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر امریکی حکام نے بالآخر اسے واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

ترکی کے وزیرِ ثقافت و سیاحت، مہمت ارسوی نے اس کامیابی کو ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’یہ ایک لمبی جنگ تھی۔ ہم حق پر تھے، ہم نے صبر کیا، ہم نے ہار نہیں مانی اور آخرکار ہم جیت گئے۔‘

انہوں نے اس موقع پر امریکی حکام، خاص طور پر مین ہیٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحقیقاتی شعبے کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واپسی محض ایک مجسمے کی نہیں بلکہ تاریخی اعتبار سے ایک بڑی کامیابی ہے۔

کپور خاندان کی وراثت: پشاور کی قدیم حویلی کی قیمت کروڑوں میں پہنچ گئی

وزیرِ ثقافت نے اس بات کا اعلان بھی کیا کہ یہ قدیم مورتی جلد ہی انقرہ میں ایک خاص نمائش میں عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔ یہ ترکی کی ان مستقل کوششوں کا نتیجہ ہے جو وہ اپنے چرائے گئے ثقافتی ورثے کو واپس لانے کے لیے کر رہا ہے۔ مارکس اوریلیئس کی واپسی نہ صرف ترکی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔