ترکیہ کی سیکیورٹی فورسز نے صوبہ بورصہ کے ضلع انیگول میں ایک کارروائی کے دوران معروف فلم ڈائریکٹر ایزیل اکائے اور ان کے بھائی، موسیقار ایرین کاظم اکائے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ڈائریکٹر کے گھر میں غیر قانونی طور پر بھنگ کے پودے اگائے جانے کی خفیہ اطلاع ملنے پر کی گئی۔
ترک خبر رساں اداروں کے مطابق انسداد منشیات ٹیموں نے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد ایزیل اکائے کی رہائش گاہ پر پبلک پراسیکیوٹر کی نگرانی میں چھاپہ مارا، جہاں سے بھنگ کے 21 پودے، تقریباً 1.13 کلوگرام خشک ماریجوانا اور بھنگ کی کاشت میں استعمال ہونے والا جدید سامان برآمد کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق گھر کے متعدد کمروں اور باتھ روم میں بھنگ کے پودے اگانے کے لیے جدید نظام نصب تھا، جس میں الٹرا وائلٹ لائٹس، وینٹیلیشن سسٹم، درجہ حرارت اور نمی کو کنٹرول کرنے والے آلات شامل تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سامان گھر کے مختلف حصوں میں نصب تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں منظم انداز میں بھنگ کی کاشت کی جا رہی تھی۔ برآمد ہونے والا تمام سامان قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
کارروائی کے دوران منشیات کی تلاش کے لیے خصوصی تربیت یافتہ پولیس کتے کی بھی مدد لی گئی، جس نے گھر کے مختلف حصوں، الماریوں اور ڈیسک کے درازوں میں رکھے گئے تھیلوں سے منشیات برآمد کرنے میں مدد دی۔
گرفتاری کے بعد دونوں بھائیوں کو جندرما مرکز منتقل کیا گیا جہاں ان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ اس کے بعد معمول کے قانونی طریقہ کار کے تحت انہیں انیگول کے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا تا کہ خون اور بالوں کے نمونے لے کر یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انہوں نے منشیات کا استعمال کیا تھا یا نہیں۔ ہسپتال آمد کے موقع پر ایزیل اکائے نے میڈیا نمائندوں کی جانب سے تصاویر بنانے پر اعتراض بھی کیا۔ بعد ازاں دونوں کو عدالت میں پیش کر دیا گیا، تاہم فی الحال عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔
65 سالہ ایزیل اکائے ترکیہ کی فلمی صنعت کا ایک بڑا نام ہیں اور انہوں نے کئی مشہور فلموں کی ہدایت کاری اور پروڈکشن کی ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور ملک میں آزادی اظہار پر عائد پابندیوں پر تنقید کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ اپنی گرفتاری سے چند روز قبل ہی انہوں نے ایک سیاسی کیس میں قید دو خاتون فلم سازوں کی حمایت میں پیغام جاری کیا تھا۔
ترکیہ میں گزشتہ کچھ عرصے سے منشیات کے خلاف مہم تیز کر دی گئی ہے، جس کے تحت فنکاروں، گلوکاروں اور سوشل میڈیا کی معروف شخصیات کے خلاف بھی بلا تفریق کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق ان کارروائیوں میں کسی شخص کی شہرت یا سماجی حیثیت کو مدنظر نہیں رکھا جاتا بلکہ تمام مشتبہ افراد کے خلاف یکساں قانونی عمل اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کیس نے بھی ترکیہ کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
پندرہ جولائی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر بھی ترکیہ کے تمام 81 صوبوں میں کارروائیاں کر کے ایک ہزار کے قریب مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ترکیہ کے لیے یہ باب ابھی بند نہیں ہوا۔
وہ 15 جولائی 2016 کی ایک گرم شام تھی، جب ترکیہ میں لوگ معمول کے مطابق اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہفتہ وار چھٹی منانے کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے چند گھنٹے ملک کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدلنے والے ہیں۔
رات ہوتے ہی سڑکوں پر ٹینک نکل آئے، دارالحکومت انقرہ اور استنبول کی فضاؤں میں جنگی طیارے پرواز کرنے لگے اور باغی فوجیوں نے یورپ اور ایشیا کو ملانے والے باسفورس پل کو بند کر دیا۔ ساتھ ہی انقرہ میں پارلیمنٹ کی عمارت پر فائرنگ اور بمباری شروع ہوگئی۔
اس سنگین صورتحال میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے موبائل فون پر ایک ویڈیو کال کے ذریعے براہِ راست ٹی وی پر عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور اس بغاوت کو روکیں۔
صدر کی پکار پر لاکھوں غیر مسلح شہری، پولیس اور فوج کے وفادار دستے سڑکوں پر آ گئے اور چند ہی گھنٹوں میں اس خونی بغاوت کو کچل دیا گیا۔
اس رات 250 سے زائد افراد، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 2200 سے زائد زخمی ہوئے۔
ترکیہ کی تاریخ میں سویلین بالادستی اور فوج کے کردار کے حوالے سے یہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
ریٹائرڈ کرنل اونال اتابے نے ’الجزیرہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس رات کی کامیابی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ پندرہ جولائی 2016 کی ناکامی کے تین اہم ستون تھے، پہلا عوام کی بھرپور مزاحمت، دوسرا ترک مسلح افواج کے اندر موجود وہ افسران اور سپاہی جنہوں نے بغاوت کا راستہ روکا، اور تیسرا خود فوج کا اپنا ادارہ جاتی ردعمل۔
اردوان بغاوت کی کوشش کے دوران موبائل فون پر عوام سے خطاب کر رہے ہیں
ترکیہ کی تاریخ میں فوج کا سیاست پر ہمیشہ گہرا اثر رہا ہے اور اس نے 1960، 1970، 1980 اور 1997 میں منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا۔ لیکن اس بار عوام اور حکومت نے مل کر تاریخ کا دھارا بدل دیا۔
نیویارک کی سینٹ لارنس یونیورسٹی کے ماہر ہاورڈ آئسن سٹیٹ کہتے ہیں کہ اب ترکیہ میں روایتی فوجی بغاوت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، اگر کوئی ترکیہ میں فوجی بغاوت پر شرط لگاتا ہے تو وہ اپنے پیسے ہی ہارے گا۔
ترک حکومت نے اس بغاوت کا ماسٹر مائنڈ امریکا میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم کو قرار دیا۔ فتح اللہ گولن جو کبھی صدر اردوان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے، سن 2024 میں بیاسی سال کی عمر میں انتقال کر چکے ہیں۔
حکومت کا الزام تھا کہ گولن کے حامیوں نے دہائیوں کے دوران عدلیہ، پولیس اور فوج جیسے حساس اداروں میں اپنے نیٹ ورک بنا لیے تھے۔
بغاوت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تطہیرکا عمل (کلینزنگ آپریشن) شروع کیا گیا، جسے اپوزیشن، حکومت کی جانب سے مخالفین کو دبانے کی کوشش بھی قرار دیتی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کے اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں سوا لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور فوجی افسران کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا، اور تقریباً تین لاکھ 90 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے ایک لاکھ 13 ہزار سے زائد کو جیل بھیج دیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی ہزاروں تعلیمی اداروں، میڈیا ہاؤسز اور فلاحی اداروں کو بند کر دیا گیا اور چار ہزار سے زائد مجرموں کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
بغاوت کے چھ دن بعد نافذ ہونے والی ہنگامی حالت دو سال تک برقرار رہی، اس دوران صدر نے 32 ہنگامی احکامات جاری کیے۔
پولیٹیکل سائنٹسٹ ارسین کالائسیوگلو نے جرمن خبر رساں ادارے ’ڈوئچے ویلے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں ہنگامی حالت کے اثرات آج بھی برقرار ہیں اور ان انتظامی طریقوں کو ایک حد تک مستقل شکل دے دی گئی ہے، جس کی وجہ سے اب یہ ایک انتہائی مرکزی نظام بن چکا ہے اور بیوروکریسی اب صرف سیاسی احکامات پر عمل کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران کے سیاسی اثرات یہ ہوئے کہ صدر اردوان کی جماعت ’اے کے پی‘ اور قوم پرست جماعت ’ایم ایچ پی‘ کے درمیان اتحاد ہوا، جس کی مدد سے 2017 کے آئینی ریفرنڈم میں ترکیہ کا نظام پارلیمانی سے صدارتی نظام میں بدل دیا گیا۔
اس کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر کے صدر کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا۔
ارسین کالائسیوگلو اس تبدیلی کو ایک بڑا انتظامی بدلاؤ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب سیاسی طاقت ایک فرد کے ہاتھ میں مرکوز ہو کر رہ گئی ہے اور تمام اہم فیصلے صدر کی مرضی پر منحصر ہیں۔
اس صدارتی نظام نے جہاں صدر کو مضبوط کیا، وہیں اپوزیشن کو بھی متحد ہونے پر مجبور کیا، کیونکہ اب صدارت حاصل کرنے کے لیے 50 فیصد سے زائد اکثریت حاصل کرنا لازمی ہو گیا۔
اس کے نتیجے میں اپوزیشن اتحاد نے استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں کے بلدیاتی انتخابات میں تاریخی فتوحات حاصل کیں، جہاں اکرم امام اوغلو جیسے رہنما صدر اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کے طور پر ابھرے۔
تاہم ان اپوزیشن رہنماؤں کو اب بھی دہشت گردی کے الزامات اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے مطابق، بغاوت کے بعد لاگو کیے گئے ہنگامی قوانین اب عام شہریوں کی آزادیوں پر پابندیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور اس کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی آ رہے ہیں جن کا بغاوت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان خفیہ نیٹ ورکس کا خاتمہ ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، اور یہی وجہ ہے کہ پندرہ جولائی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر بھی ترکیہ کے تمام 81 صوبوں میں کارروائیاں کر کے ایک ہزار کے قریب مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ترکیہ کے لیے یہ باب ابھی بند نہیں ہوا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر لگی تمام پرانی پابندیاں ختم کر دی ہیں اور یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ترکیہ کو دنیا کا سب سے جدید اور خطرناک ترین مانا جانے والا ایف 35 اسٹیلتھ جنگی طیارہ بیچنے پر غور کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد بھارت اور اسرائیل میں ہلچل مچ گئی ہے۔
امریکا کے اس فیصلے سے ترکیہ میں تو خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن اسرائیل اور بھارت میں تشویش پھیل گئی ہے۔ اسرائیل کو ڈر ہے کہ ترکیہ کے پاس یہ طیارہ آنے سے اس کی چودھراہٹ ختم ہو جائے گی، جبکہ بھارت کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ ترکیہ کا جگری یار پاکستان ہے، کہیں یہ طیارہ بھارت کے خلاف استعمال نہ ہو جائے۔
یہ سارا قصہ سمجھنے کے لیے ہمیں چند سال پیچھے جانا پڑے گا۔
ترکیہ اور امریکا پرانے فوجی دوست ہیں لیکن سال 2017 میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے روس سے اس کا ایک جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ’ایس 400‘ خریدنے کا فیصلہ کیا۔
امریکا نے ترکیہ کو بہت دھمکایا کہ اگر اس نے روس کا یہ نظام خریدا تو وہ ایف 35 طیارے کا ریڈار سگنیچر پکڑلے گا اور یہ خفیہ معلومات روس کے ہاتھ لگ جائے گی۔
جب ترکیہ نے امریکا کی بات نہیں مانی تو سال 2019 میں ٹرمپ انتظامیہ نے ترکیہ کو اس طیارے کی فروخت کے پروگرام سے باہر نکال دیا اور سال 2020 میں اس پر سخت معاشی پابندیاں لگا دیں۔
امریکا کی پابندی کے بعد ترکیہ نے اپنا ففتھ جنریشن طیارے بنانے کی تیاری شروع کی۔ جس کے بعد ’ٹی اے آئی کان‘ جسے پہلے ’ٹی ایف ایکس‘ کہا جاتا تھا، وہ تیار کیا گیا۔ یہ ترکیہ کا پانچویں نسل کا، دو انجنوں والا اور ہر طرح کے موسم میں فضائی برتری قائم کرنے والا اسٹیلتھ جنگی طیارہ ہے۔
ترکیہ کو ایف 35 پروگرام سے نکالے جانے کے بعد اسے ’ترکش ایرو اسپیس انڈسٹریز‘ نے خود تیار کیا، اور اس طیارے نے فروری 2024 میں اپنی پہلی کامیاب اڑان بھری تھی۔
اس منصوبے کا مقصد فوج کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور مکمل خود انحصاری حاصل کرنا ہے، جس کے تحت اس کی ابتدائی سپلائی 2028 میں متوقع ہے جبکہ اسے باضابطہ طور پر 2029 تک فوج کا حصہ بنا لیا جائے گا۔
لیکن، اب سات سال بعد حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر اردوان سے ملاقات کے بعد اس فیصلے کو الٹ دیا ہے۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے ”ہمارے ترکیہ کے ساتھ اب بہت بہتر تعلقات ہیں اور ترکیہ کئی طریقوں سے ان دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہمارے ساتھ زیادہ وفادار رہا ہے جنہیں ہم وفادار سمجھتے تھے۔“
انہوں نے ایف 35 کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہترین طیارہ ہے، اب تک کا سب سے بہترین طیارہ، اور ہم ترکیہ کو یہ طیارہ دینے پر ضرور غور کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکی اسلحہ ساز کمپنی ’لاک ہیڈ مارٹن‘ کا تیار کردہ ’ایف 35 لائٹننگ ٹو‘ ایک جدید، ایک نشست اور ایک انجن والا طیارہ ہے جو آواز کی رفتار سے تیز اڑنے اور کسی بھی ریڈار سے چھپنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے فضائی برتری حاصل کرنے اور دشمن کے ٹھکانوں پر بالکل درست نشانہ لگانے والے مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
تاہم، اس طیارے کی دوسرے ممالک کو فروخت پر امریکا کا سخت کنٹرول ہے، اور امریکا ٹیکنالوجی کی حفاظت کے خدشات اور خطے میں فوجی توازن پر پڑنے والے اثرات کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد ہی صرف اپنے قابلِ اعتماد اتحادیوں کو اسے بیچنے کی منظوری دیتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب ترکیہ کے ساتھ ٹوٹے ہوئے تعلقات کو دوبارہ جوڑنا چاہتے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ ترکیہ کا دنیا کے نقشے پر ایسی جگہ ہونا ہے جو ایشیا اور یورپ کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اس لیے یہ ایف 35 طیارے دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کا ایک نیا فوجی پل بن رہے ہیں۔
لیکن ٹرمپ کے اس فیصلے پر سب سے زیادہ اسرائیل غصے میں مبتلا ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر اردوان پر شدید الزامات لگائے اور کہا کہ ترکیہ کو یہ طیارے یا ان کے انجن بالکل نہیں ملنے چاہئیں، کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا جو اس وقت اسرائیل کی فضائی برتری کی وجہ سے قائم ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے پاس بھی ایف 35 طیارے موجود ہیں جو اسے کسی بھی ملک کی فضائی حدود ست دور رہتے ہوئے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
اسرائیل کو یہ بھی پریشانی ہے کہ ترکیہ کے تعلقات مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ بہت مضبوط ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف بھارت بھی اپنے دوست اسرائیل کی طرح پریشان ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کی فوجیں اکثر مل کر جنگی مشقیں کرتی ہیں اور پاکستان نے ترکیہ سے کئی ڈرون اور جنگی بحری جہاز بھی خریدے ہیں۔
بھارتی صحافی سندیپ انیتھن کا کہنا ہے کہ بھارت کے لیے سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہوگی کہ اگر مستقبل میں بھارت اور پاکستان کی کوئی لڑائی ہوتی ہے تو کہیں ترکیہ کے یہ ایف 35 طیارے پاکستان کی مدد کے لیے نہ آ جائیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سال 1971 میں جب بھارت اور پاکستان کی جنگ ہوئی تھی، تب اردن نے اپنے نو امریکی ایف 104 طیارے پاکستان کو بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ادھار دیے تھے اور اس میں امریکا کی رضامندی بھی شامل تھی۔ اس لیے بھارتی فوج کے منصوبہ ساز اس خطرے کو ہلکا نہیں لے سکتے۔
اگرچہ ترکیہ کو ایف 35 طیارے اصل میں ملنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ اسے روس کا نظام ہٹانا پڑے گا، لیکن امریکا کے اس ایک قدم نے نئی دہلی اور یروشلم میں کھلبلی ضرور مچا دی ہے۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترکیہ میں ہونے والی استقبالیہ تقریب کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو اس وقت غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ترکیہ کی خاتون اول امینہ اردوان کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی، تاہم امینہ اردوان نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے دو روزہ نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل شریک سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں عالمی رہنما ایک دوسرے سے ملاقات اور مصافحہ کر رہے تھے۔
اسی دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ترکیہ کی خاتون اول امینہ اردوان سے مصافحہ کرتے ہوئے ان کا ہاتھ چومنے کے لیے جھکنے کی کوشش کی، تاہم امینہ اردوان نے اپنا ہاتھ پیچھے روک لیا۔ اس کے بعد میکرون نے معمول کے مطابق مصافحہ کیا اور پھر اپنی اہلیہ بریجٹ ماکروں، ترک صدر رجب طیب اردوان اور امینہ اردوان کے ساتھ یادگاری تصویر بنوائی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس مختصر لمحے کے باوجود تقریب کا ماحول معمول کے مطابق رہا۔ میکرون، ان کی اہلیہ، صدر اردوان اور امینہ اردوان نے خوشگوار انداز میں ایک دوسرے سے گفتگو کی، مصافحہ کیا اور یادگاری تصویر بھی بنوائی، جبکہ کسی کے چہرے پر ناگواری یا تناؤ کے آثار دکھائی نہیں دیے۔
ترک میڈیا کے مطابق بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ فرانسیسی صدر استقبالیہ تقریب کے دوران رائج سفارتی پروٹوکول کو مدنظر نہیں رکھ سکے، جس کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران رہنماؤں کے درمیان دفاعی اخراجات میں اضافے، یوکرین جنگ کے اثرات، علاقائی کشیدگی اور امریکی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں اتحاد کے مستقبل اور سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل 2018 میں بھی پیرس کے ایلیسی محل میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے استقبال کے موقع پر ایمانوئل میکرون نے امینہ اردوان کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی تھی، تاہم اس وقت بھی انہوں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا۔
اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خاصی زیر بحث رہی تھی اور مبصرین نے اسے ترک خاتون اول کی مذہبی اور روایتی اقدار سے وابستگی قرار دیا تھا۔
اس کے علاوہ جون 2025 میں ہالینڈ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی ایمانوئل میکرون کو اسی نوعیت کے پروٹوکول سے متعلق ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں انہیں ہالینڈ کی ملکہ میکسیما اور شہزادی آریانا کا ہاتھ چومنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد مختلف ممالک کے سفارتی آداب، سلامی کے طریقوں اور سرکاری تقریبات میں ہاتھ چومنے کی روایت پر بھی سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انقرہ کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت پر بھی رضامندی ظاہر کر دی۔ انقرہ میں نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان ان کے اچھے دوست ہیں اور ترکیہ کے ساتھ امریکا کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی ترکیہ کی حقیقی فوجی طاقت سے پوری طرح واقف نہیں۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان کے ساتھ تجارت، دوطرفہ تعلقات، عسکری تعاون، ایران کی صورتِ حال اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے ترکیہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
نیٹو پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس اتحاد سے سخت مایوس ہیں اور درحقیقت نیٹو سربراہی اجلاس میں آنا بھی نہیں چاہتے تھے، تاہم چونکہ اس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے، اس لیے انہوں نے شرکت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ اتحادی ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو مدد کی ضرورت پڑی تو کسی نے عملی تعاون نہیں کیا۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھا، جب کہ بعض اتحادی صرف جنگ ختم ہونے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔
ترکیہ کے دفاعی معاملات پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ترکیہ کی جانب سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے پر کوئی تشویش نہیں، جب کہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی انہیں اعتراض نہیں کیونکہ یہ ہر خودمختار ملک کا اپنے قومی مفاد میں کیا جانے والا فیصلہ ہوتا ہے۔
روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے یوکرین تنازع حل کرنے میں کامیابی ملے گی اور امید ہے کہ جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔
مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ان کے خیال میں ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے شام کے نئے صدر احمد الشرع کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک بکھرے ہوئے ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں کام کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں پابندیاں لگانے والے بہت سے لوگ موجود ہیں، لیکن امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں برقرار نہیں رکھنا چاہتا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو انقرہ پہنچے تو ایتیمس گوت ایئر بیس پر ان کے لیے خصوصی استقبالی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ترک روایات کے مطابق استقبالی مقام پر روایتی سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکی کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ ترک اعزازی گارڈ نے بھی صدر ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔
صدر رجب طیب اردوان خود ہوائی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو امریکا اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر اردوان کو اپنا دوست قرار دے چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے امریکا کے ترکی میں سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بارک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔
نیٹو کے اس اہم اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے، جب کہ صدر ٹرمپ کی مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
نیٹو کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ تیز کر دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔
تاہم اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیٹو کے اتحادی امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائی میں مناسب تعاون نہیں کر رہے، جب کہ کئی رکن ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
دوسری جانب یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بڑی حد تک نبھائیں۔ حکام کے مطابق یورپی ممالک نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے نیٹو پر کھل کر تنقید کی ہو۔ رواں سال اپریل میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔ اس سے قبل اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو امریکا اتحاد سے الگ ہو سکتا ہے۔
بعد ازاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں واقع صدارتی کمپلیکس بش تپے میں نیٹو رہنماؤں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں شرکت کی، جہاں انہیں ترک صدر رجب طیب اردوان نے پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا۔ عشائیے میں شریک ہونے والے رہنماؤں کا فوجی بینڈ کی دھنوں کے ساتھ استقبال کیا گیا، جب کہ صدر ٹرمپ دیگر عالمی رہنماؤں کے بعد تقریب میں پہنچے۔
یہ عشائیہ صدر ٹرمپ کے لیے نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے سربراہان سے غیر رسمی ملاقات کا پہلا موقع تھا۔ تقریب میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی بھی شریک تھے، جنہیں صدر ٹرمپ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مواقع پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
نیٹو سربراہ اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات کو رکن ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور اہم علاقائی و عالمی امور پر غیر رسمی مشاورت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد ’نیٹو‘ کے رہنماؤں کا ایک اہم دو روزہ اجلاس ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منگل اور بدھ کے روز ہو رہا ہے۔ یہ بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے۔
گزشتہ سال نیٹو ممالک نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی مجموعی آمدنی کا پانچ فیصد حصہ فوج اور سیکیورٹی پر خرچ کریں گے، جس میں سے ساڑھے تین فیصد حصہ سال 2035 تک سیدھا فوج پر اور ڈیڑھ فیصد سیکیورٹی کی دوسری ضروریات پر لگایا جائے گا۔
انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)
اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 ملکوں کے بڑے رہنما شریک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے ملکوں کے صدر بھی آئے ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں ہیں، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے لی جے میونگ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے اپنے وزیر دفاع یا وزرائے خارجہ بھیجے ہیں، اور خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے وزیر بھیج رہے ہیں جو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔
شام کے صدر احمد الشرع کے اس اجلاس میں آنے کی امید تو نہیں ہے، لیکن وہ انقرہ میں امریکی صدر ٹرمپ سے ایک الگ ملاقات ضرور کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ اپنی پہلی انتخابی مہم سے ہی نیٹو کی افادیت پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ امریکا اکیلا ہی اس اتحاد کا بہت بڑا خرچہ اٹھا رہا ہے۔
ترکیہ میں جرمن مارشل فنڈ کے علاقائی ڈائریکٹر اوزگور انلوہسارکیکلی نے اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں نے گزشتہ سال ہی ہیگ میں اپنے دفاعی اخراجات کو پانچ فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا اور یورپی اتحادیوں نے اپنی دفاعی صنعتوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)
اس سال انقرہ میں بحث اس بات پر ہوگی کہ اس خرچے کو عملی طاقت میں کیسے بدلا جائے۔ اس لیے یہ اتحاد گزشتہ سال کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط ہے۔
تاہم، گلوبل پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے صدر پاولو ون شیراک کا کہنا ہے کہ زیادہ پیسہ خرچ کرنے کا مطلب زیادہ فوجی سامان تو ہے لیکن اس کا فائدہ سامنے آنے میں سالوں لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ بہت زیادہ خرچ کر کے بھی ہو سکتا ہے کہ بہت کم نتائج حاصل کر پائیں۔
یورپی ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے فوجی معاہدوں کے اعلانات کو ماہرین ٹرمپ انتظامیہ کو خوش کرنے کی ایک کوشش دیکھ رہے ہیں۔
جب یورپی ممالک ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے تو ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے ان کا پیسہ نہیں بلکہ ان کی وفاداری چاہیے، اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس اجلاس کی میزبانی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نہ کر رہے ہوتے تو شاید وہ اس میں نہیں آتے۔
انقرہ میں نیٹو سمٹ 2026 (تصویر: رائٹرز)
ٹرمپ نے اجلاس سے ٹھیک پہلے جرمنی کے دفاعی بجٹ کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا، جس پر جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے یہ ہماری اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے۔
دوسری طرف، امریکا نے نیٹو ممالک سے اپنے جنگی جہاز اور آبدوزیں آہستہ آہستہ واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس پر رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ماہر جیک واٹلنگ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائی طاقت کے پیچھے ہٹنے کا زمین پر بڑا اثر پڑے گا۔
پاولو ون شیراک نے اس اتحاد کی موجودہ حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کی اصل اہمیت سیاسی ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اتحادی اب بھی آپس میں بات کر رہے ہیں اور اتحاد دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، چاہے ان کے اندرونی اختلافات اور شک و شبہات ختم نہ ہوئے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انقرہ کا یہ اجلاس زمین پر کسی فوری تبدیلی کے بجائے صرف ایک دوسرے کو دلاسا دینے اور دنیا کو پیغام دینے کے لیے ہے۔
اس اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے آمنے سامنے ملاقات کریں گے۔
یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں ہے لیکن روسی حملوں میں تیزی آنے کے بعد زیلنسکی ٹرمپ سے پیٹریاٹ نامی فضائی دفاعی نظام مانگیں گے۔
سیکیورٹی ماہر جیک واٹلنگ کا کہنا ہے کہ یوکرین نیٹو ملکوں سے مسلسل فوجی اور تکنیکی مدد چاہتا ہے تاکہ روس کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ یہ مدد جاری رہے گی اور اگلے ایک دو سال میں یوکرین کی دفاعی طاقت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو ملنے والے دفاعی نظام اور روس کے میزائلوں سے ہونے والے نقصان کے درمیان ایک سیدھا تعلق ہے، جتنے زیادہ نظام ملیں گے، نقصان اتنا ہی کم ہوگا۔
امریکا کے سرکاری صحت کے نظام سے اربوں ڈالر لوٹنے کے الزام میں مطلوب ایک امریکی کاروباری شخصیت ابراہیم خلدون حلمی کو ایک سال سے زائد عرصے تک مفرور رہنے کے بعد ترکیہ سے گرفتار کر کے واپس امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ نے پیر کے روز ابراہیم خلدسون کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اس کارروائی کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ہیلتھ کیئر فراڈ تحقیقات میں سے ایک قرار دیا ہے، جہاں ملزم پر بزرگوں اور معذوروں کے لیے مخصوص ہیلتھ انشورنس پروگرام جسے میڈیکیئر کہا جاتا ہے، اس سے تین ارب ستر کروڑ ڈالر کا فراڈ کرنے کا سنگین الزام ہے۔
ریاست فلوریڈا کے شہر ڈیلرے بیچ سے تعلق رکھنے والا یہ بزنس مین بظاہر ایسی کمپنیاں چلاتا تھا جو کاغذات پر طبی سامان فراہم کرنے والے قانونی ادارے دکھائی دیتے تھے۔ ان میں سے ایک کمپنی کا نام سن شائن سینیئر سلوشنز تھا جو معمر مریضوں کے طبی آلات کے نام پر سرکار کو بل بھیجتی تھی۔
لیکن سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک دکھاوا تھا جس کا اصل مقصد ٹیکس دہندگان کا پیسہ چوری کرنا تھا۔
ملزم نے ان کمپنیوں کے ذریعے گھٹنوں اور کلائیوں کی سپورٹ، زخموں کے گدے اور دیگر طبی سامان کے جعلی بل بنا کر میڈیکیئر کو بھیجے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جن مریضوں کے نام پر یہ سامان منگوایا گیا، انہوں نے یا تو کبھی اس کی فرمائش ہی نہیں کی تھی، یا انہیں کبھی سامان ملا ہی نہیں، اور کئی مریض تو دنیا میں سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔
کئی سال تک یہ نیٹ ورک اتنی صفائی سے کام کرتا رہا کہ درجنوں کمپنیوں کے اصلی نام اور مریضوں کے جعلی ریکارڈ کی وجہ سے سرکاری اداروں کو شک بھی نہیں ہوا۔
جب مئی 2025میں تفتیش کار ملزم کے قریب پہنچے تو وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہو گیا۔
ایک سال سے زائد عرصے تک قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بعد بالآخر ترکیہ کی انتظامیہ نے اسے اپنے ملک میں ڈھونڈ نکالا اور گرفتار کر لیا۔
اس کے بعد ایف بی آئی نے ایک خصوصی آپریشن کے ذریعے اسے ایک نجی طیارے میں ہتھکڑیاں لگا کر واپس امریکا منتقل کیا۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پر اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے ترکیہ کی حکومت اور وہاں تعینات امریکی سفیر ٹام بیرک کا شکریہ ادا کیا جن کی سفارتی کوششوں سے یہ گرفتاری ممکن ہوئی۔
یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند دن پہلے ہی ایک اور مفرور ملزم ہربرٹ کمبل کو بھی ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کے فراڈ کے الزام میں واپس لایا گیا تھا۔
ان دونوں کیسز کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ امریکی عوام کے پیسوں کی لگ بھگ پانچ ارب ڈالر کی چوری بنتی ہے۔
ابراہیم خلدون حلمی کو اب امریکی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں بھاری جرمانے اور کئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
یہ کارروائی ’آپریشن گولڈ رش‘ کا حصہ ہے جو ایسے بین الاقوامی نیٹ ورکس کے خلاف چلایا جا رہا ہے جو سرکاری پیسوں کو لوٹتے ہیں۔
اس موقع پر کاش پٹیل نے مجرموں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ”امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ چرانے والے کسی بھی مجرم کو پکڑ لیا جائے گا، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپنے کی کوشش کرے۔“
تاہم اس کیس کے حوالے سے ایک بحث یہ بھی چل رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے اب تک کے دورِ صدارت میں فراڈ کے جرم میں سزا پانے والے ستر سے زیادہ لوگوں کی سزائیں معاف کی جا چکی ہیں، جن میں فلپ ایسفورمس بھی شامل ہیں جن کا ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کا فراڈ اس سے پہلے امریکا کا سب سے بڑا انفرادی ہیلتھ کیئر فراڈ مانا جاتا تھا۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ عدالت اس نئے اور سب سے بڑے کیس میں کیا فیصلہ سناتی ہے۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں آر- 4 ممالک (پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ شرکا نے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کا خیر مقدم کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کشیدگی میں کمی کی جانب اہم قدم ہے، معاہدے پر عمل درآمد اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کی کامیابی پر توجہ مرکوز رکھی جائے جب کہ شرکا نے خطے میں امن و سلامتی، استحکام کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت اور رابطہ کاری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اتوار کو پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا چوتھا مشاورتی اجلاس قاہرہ میں منعقد ہوا، اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے صدر عبدالفتاح السیسی کی خطے کے مستقبل سے متعلق وژن شیئر کرنے پر اظہار تشکر کیا۔ صدر السیسی کا وژن خطے میں استحکام کے لیے آر فور ممالک کی کوششوں کی رہنمائی کرے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں علاقائی اور عالمی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشرق وسطیٰ اور خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشاورت و رابطوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔
وزرائے خارجہ نے 18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیر مقدم کیا جب کہ آر فور ممالک نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کی جانب ایک تعمیری قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنازع نے علاقائی سلامتی، توانائی کی منڈیوں، عالمی بحری راستوں، سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت کو خطرات لاحق کیے، علاقائی اور عالمی فریقین کی ان کوششوں کو سراہا گیا جنہوں نے مفاہمت کے حصول میں کردار ادا کیا۔
وزرائے خارجہ نے فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ آر فور وزرائے خارجہ نے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت تک پہنچنے میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا جب کہ قطر کی جانب سے مذاکرات کو کامیاب نتیجے تک پہنچانے کے لیے فراہم کی گئی معاونت کو بھی سراہا گیا۔
وزرائے خارجہ نے اس اہم معاملے پر پاکستان کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطہ کاری کو بھی سراہا۔ چاروں ممالک نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کی جلد اور کامیاب تکمیل پر زور دیا۔
اعلامیے میں دیرپا، قابل تصدیق اور باہمی طور پر قابل قبول حل کے حصول کی اہمیت اجاگر کی گئی، آئندہ کوششوں میں خطے کے ممالک کے تحفظات کو مدنظر رکھنا ہوگا، خلیجی عرب ریاستوں اور شام و لبنان سمیت لیونٹ خطے کی سلامتی و استحکام کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اجتماعی سلامتی کے فروغ سے طویل المدتی علاقائی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آر فور ممالک نے مشرق وسطیٰ میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے فلسطینی کاز کی مرکزی حیثیت کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ فلسطین کا مسئلہ خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام کی بنیاد ہے جب کہ غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی انسانی اور سیاسی صورت حال پر خصوصی توجہ دی گئی۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا جب کہ اجلاس میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
اجلاس میں آزاد فلسطینی ریاست 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر قائم کرنے پر زور دیا گیا جب کہ آر فور ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے عزم کا اظہار کیا۔
ترکیہ کے تاریخی اور خوبصورت شہر استنبول میں مشہور امریکی ریپر اور متعدد گریمی ایوارڈزیافتہ کانئیے ویسٹ نے اپنی شاندار پرفارمنس سے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
یہ عظیم الشان موسیقی کا پروگرام استنبول کے مشہور ’اتاترک اولمپک اسٹیڈیم‘ میں منعقد کیا گیا، جو کہ فٹبال کے بڑے بین الاقوامی مقابلوں اور ایونٹس کی میزبانی کے لیے عالمی سطح پر جانا جاتا ہے۔
اس کنسرٹ میں 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد مداحوں نے شرکت کی۔ حاضرین میں صرف ترکیہ کے مقامی افراد ہی نہیں بلکہ روس، قازقستان، برطانیہ، جرمنی، پولینڈ اور خود امریکا سے سفر کر کے آنے والے پرجوش مداح بھی شامل تھے۔
اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی آمد نےاس بین الاقوامی اجتماع نے ایونٹ کو عالمی سطح پر غیرمعمولی توجہ دلائی۔
رات بھر جاری رہنے والے اس رنگا رنگ پروگرام میں صرف گائیکی ہی نہیں بلکہ جدید ترین لیزر لائٹ شوز، سحر انگیز موسیقی اور شاندار ویژول ایفیکٹس کا بھی استعمال کیا گیا، جس نے حاضرین پر سحر طاری کر دیا۔
حاضرین کا جوش و خروش اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گیا جب ایک اور معروف امریکی ریپر ٹریوس اسکاٹ نے بھی اسٹیج پر انٹری دی اور اپنی شاندار پرفارمنس سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔
ان دونوں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کو ایک ساتھ اسٹیج پر پرفارم کرتے دیکھنا مداحوں کے لیے کسی ناقابلِ فراموش تجربے سے کم نہ تھا۔
کنسرٹ کے عروج پر کانئیے ویسٹ نے اسٹیج سے مداحوں سے براہِ راست گفتگو کی۔ انہوں نے اس بے مثال محبت اور زبردست شرکت پر حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئےدعویٰ کیا کہ 1 لاکھ 18 ہزار افراد کی شرکت نے میوزک کنسرٹس کی تاریخ میں ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
اتنی بڑی تعداد میں مداحوں کی شرکت نہ صرف کانئیے ویسٹ کی عالمی مقبولیت کا ثبوت ہے بلکہ یہ ترکیہ کو بین الاقوامی تفریحی تقریبات کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی نمایاں کرتی ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیکیورٹی اتحاد کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے تو وہ بھی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کے مجوزہ سیکیورٹ اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے جاپانی اخبار نکی ایشیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کر دیا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے اس اتحاد کو خطے کے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا اور کہا کہ تمام ریاستوں کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ اتحاد پاکستان سے خلیجِ فارس تک پھیلے ممالک کو ایک مشترکہ تعاون کے فریم ورک میں جوڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں ایران کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے ممکنہ کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل پر راضی ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہاکان فیدان کے یہ بیانات اس سوال کے جواب میں سامنے آئے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکیہ سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہم معاہدے‘ میں شامل کرنے کی مبینہ کوششوں کا ذکر کیا تھا۔
ابراہم معاہدے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے ایک معاہدہ ہے، جس کا آغاز صدر ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں ہوا تھا۔
ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ دونوں ممالک 1949 سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور غزہ جنگ سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ترکیہ نے اس تجارتی سلسلے کو معطل کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے تجارت معطل کرتے وقت اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتلِ عام روکنا ہوگا اور غزہ کے عوام کو خوراک، رہائش، ادویات اور پانی جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی دینے میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو تعلقات معمول پر لانے میں کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ ترکیہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ترکیہ کو ممکنہ علاقائی حریف قرار دینے کے بیانات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی داخلی سیاست میں اکثر ایک ’دشمن‘ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ اسکے جنگی عزائم کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ اسرائیل صرف اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ مزید علاقوں پر قبضے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنا چاہئے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی نظامِ امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اور دو ریاستی فارمولے پر پیش رفت ناگزیر ہے، جس کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام کا حصول مشکل ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں امن کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
منگل کو وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے درمیان عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جب کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔
وزیراعظم نے ترک قیادت اور عوام کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی، جس کا صدر اردوان نے نہایت خلوص کے ساتھ جواب دیا۔ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ملاقاتوں، خصوصاً اپریل میں انطالیہ میں ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
گفتگو کے دوران خطے کی مجموعی صورت حال، امن کوششوں اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوطرفہ فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی امن کوششوں کے لیے ترکیہ کی مسلسل اور مضبوط حمایت پر صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا جب کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں مذاکرات، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے 24 مئی کو بلوچستان میں ٹرین بم دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا یقین دلایا۔
وزیراعظم نے ترک صدر کی ہمدردی اور حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم کا عیدالاضحیٰ پر قوم کے نام پر پیغام
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ پر قوم کے نام پر پیغام میں کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بابرکت موقع پر میں تمام اہل وطن اوراُمتِ کو دل کی گہرائیوں سےعید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ اس مذہبی تہوار کی خوشیوں وقربانی کی حقیقی روح سے بہرہ مند فرمائے، یہ عید ہمیں سنت ابراہیمی کی یاد دلاتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت و فرمانبرداری کا روشن استعارہ ہے، یہ مقدس سنت ہمیں اعلی اورمقدس مقصد کے لیے اپنی جان، خواہشات اور مفادات قربان کردینا ہی اصل میں ایمان کی معراج اور اہل وفا کا طرۂ امتیاز ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ قربانی کا جذبہ ہمیں خود غرضی سے بالاترہوکرہمدردی کا درس دیتا ہے، ملکی دفاع میں شہداء کی قربانی ہمارا قومی فخرہے، جذبہ ایثار ہی قوموں کی زندگی میں پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مظلوم فلسطینی اورکشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرنا ہے، اللہ تعالی عید کے موقع پر دنیا کو امن اور ہم آہنگی کا گہوارہ بنائے، آمین ، عیدالاضحیٰ مبارک!
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جس کے پیشِ نظر پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجودہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے۔
اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایران نے جنگ بندی کے بعد تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی مسافر پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ابتدائی مرحلے میں استنبول اور مسقط کے لیے پروازوں کی بحالی کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی مسافر پروازیں ہفتے سے دوبارہ شروع ہو رہی ہیں، جس کے ساتھ 50 روز سے زائد عرصے پر محیط تعطل ختم ہو جائے گا۔
ایئرپورٹ حکام نے بتایا کہ 25 اپریل سے غیر ملکی مسافر پروازوں کی بحالی شروع ہوگی، جن میں ابتدائی طور پر ترکیہ کا شہر استنبول اور عمان کا دارالحکومت مسقط شامل ہیں۔
ایئرپورٹ حکام کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے دوران ایئرپورٹ پر کارگو آپریشنز جاری رہے تاہم مسافر پروازیں معطل تھیں۔ اس دوران غیر ملکی ایئرلائنز نے بھی اپنے طیارے ایئرپورٹ سے منتقل کر دیے تھے۔
امام خمینی ایئرپورٹ سٹی کے سی ای او رامین کاشف آذر نے ایرانی خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ بین الاقوامی پروازوں کی بحالی ہفتے سے شروع کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر استنبول اور مسقط کے لیے ریٹرن پروازوں کی اجازت دی گئی ہے جب کہ دیگر ایئرلائنز اور روٹس کے اجازت نامے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کے تمام بنیادی ڈھانچے اور نیویگیشن سسٹمز مکمل طور پر فعال ہیں اور پروازوں کی بحالی میں کوئی تکنیکی رکاوٹ موجود نہیں۔
دوسری جانب ایران کی قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتے سے اندرون ملک پروازیں بحال کرے گی، جس کا پہلا روٹ تہران سے مشہد ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق ہفتے اور اتوار کو تہران کے مہرباد ایئرپورٹ سے دو پروازیں چلائی جائیں گی جب کہ دیگر شہروں کے لیے بھی پروازوں کی مرحلہ وار بحالی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
فضائی آپریشنز کی بحالی اس وقت عمل میں آرہی ہے جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد خطے میں فضائی ٹریفک شدید متاثر ہوئی تھی۔ 8 اپریل کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے تحت امریکا نے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو قبول کیا۔
11 اپریل کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی اعلیٰ مذاکرات کاروں کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے تاہم کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ ایرانی حکام نے اس کا ذمہ دار امریکی فریق کے بڑھتے ہوئے مطالبات اور بدلتی ہوئی پوزیشنز کو قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی برقرار رہے گی، جب تک ایران اپنی جانب سے ایک “متفقہ تجویز” پیش نہیں کرتا۔
ترکیہ کے وسطی علاقے میں واقع ایک مڈل اسکول میں طالب علم نے فائرنگ کرکے ساتھی طلبا سمیت 9 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب کہ 13 افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق حملہ آور ایٹ گریڈ کا طالب علم تھا، جس نے اپنے والد کا اسلحہ بیگ میں چھپا کر اسکول میں داخل ہو کر دو کلاس رومز میں فائرنگ کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز فائرنگ کا افسوسناک واقعہ ترک صوبے قہرمان مرعش میں واقع آیسیر چلیک مڈل اسکول میں پیش آیا، جہاں آٹھویں جماعت کے طالب علم نے فائرنگ کرکے ساتھی طلبا اور عملے کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی طور پر 4 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی تاہم بعد میں حکام نے تصدیق کی کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق حملہ آور اسکول میں اپنے بیگ میں 5 بندوقیں اور 7 میگزین لے کر داخل ہوا، جو مبینہ طور پر اس کے والد کی ملکیت تھیں۔ فائرنگ کے دوران اس نے 2 کلاسوں میں گھس کر طلبہ پر اندھا دھند گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے فائرنگ کے دوران افراتفری میں خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا۔
رپورٹس کے مطابق مرنے والوں میں ساتھی طلبہ سمیت دیگر افراد شامل ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 13 سے زائد بتائی گئی ہے۔ زخمیوں میں 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں اسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور سابق پولیس اہلکار کے بیٹے کے طور پر شناخت ہوا ہے جب کہ اس کے والد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اسکول کو گھیرے میں لے کر علاقے کو سیل کر دیا۔
ترکیہ کے اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں تاہم اس واقعے نے ملک بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ غیر مصدقہ ویڈیوز میں طلبہ کو فائرنگ کے دوران عمارت کی دوسری منزل کی کھڑکیوں سے کودتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ حملہ آور کو راہ چلتے طلبہ پر فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جب کہ عدالت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس کی تصدیق ترکیہ کے وزیرِ انصاف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی۔ انہوں نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل بھی جنوبی شہر شانلی اورفا میں ایک سابق طالب علم نے اسکول میں فائرنگ کر کے 16 افراد کو زخمی کیا تھا اور بعد ازاں خودکشی کر لی تھی۔ اسی پس منظر میں تازہ واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو دن کے اندر اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی مصروفیات کے باعث ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آرہا۔
گزشتہ مذاکراتی دور کے بے نتیجہ خاتمے کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
ایرانی حکام اسلام آباد میں بات چیت کے لیے خود کو زیادہ پُرسکون اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی ٹیم کو اسلام آباد میں ایرانی وفد سے ملاقات کی ہدایت کر دی ہے، جس سے ان مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات اگلے دو دنوں کے اندر ہو سکتے ہیں، لیکن ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ وزیراعظم شہباز شریف کی بیرونِ ملک مصروفیات ہیں۔
وزیراعظم بدھ کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے ہیں اور ان کی واپسی 18 اپریل کو متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اپنے اس اہم دورے کے پہلے مرحلے میں جدہ پہنچیں گے جہاں وہ اعلیٰ سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے۔
ان ملاقاتوں کا بنیادی ایجنڈا خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال، تناؤ میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کے امکانات پر غور کرنا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جو مختلف تزویراتی امور پر سعودی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔
سعودی عرب کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ عالمی سطح کے اہم ’اناطالیہ ڈپلومیسی فورم‘ میں شرکت کریں گے۔
اس فورم کے دوران وہ مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے اور علاقائی و عالمی مسائل پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کریں گے۔
اس دورے کے آخری مرحلے میں وزیراعظم قطر بھی جائیں گے جہاں مزید سفارتی روابط کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام پر بات چیت ہو گی۔
وزیر اعظم کے ترکیہ اور سعودی عرب کے دوروں کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
ان تمام مصروفیات کے باعث اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران متوقع ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو بغیر کسی پیشرفت کے اختتام پذیر ہوا تھا۔ اس دوران دونوں ممالک کے وفود کے درمیان سخت جملوں کے تبادلوں کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔
ایران اور امریکا کے وفود کی واپسی کے فوراً بعد پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کی پیشکش کی تھی۔ جس کی تصدیق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے سینئر سفارتی حکام نے اسلام آباد میں اجلاس میں شرکت کی، جس میں چاروں برادر ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے فریم ورک کی تشکیل پر اتفاق ہوگیا ہے۔
دفترخارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں 4 برادر ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے سینئر حکام کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں علاقائی اور عالمی امور پر مشاورت کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں چاروں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے فریم ورک کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے جب کہ اجلاس میں امن، ترقی اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں شریک بردار ممالک نے پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور باہمی تعاون، علاقائی صورت حال اور مشترکہ مفادات کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ یہ اجلاس 29 مارچ کو ہونے والے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس کے تسلسل میں منعقد کیا گیا۔ جس کا مقصد باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔
اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ و ترجمان دفترخارجہ سفیر طاہر اندرابی نے کی، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وفود کی قیادت بالترتیب نائب وزیر خارجہ سفیر موسیٰ کولاکلکایا، اسسٹنٹ وزیر خارجہ سفیر ناظح النگاری اور ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود نے کی۔
ترجمان کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو 17 اپریل کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ہوگا۔
بعد ازاں اجلاس کے شرکا نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی صورت حال اور سفارتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد میں ہونے والا یہ اہم سفارتی اجلاس چاروں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو موجودہ دور کا ہٹلر قرار دے کر اسرائیل پر حملے کی دھمکی دے دی اور کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہوتے رہے تو اسرائیل کو اس کی اوقات یاد دلادیں گے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ قانون کو نسل پرست فاشزم کے آلہ کار میں بدل دیتا ہے۔
ترک صدر نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے، ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے۔
رجب طیب اردوان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72,000 شہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہمارے پڑوسی شام میں ساڑھے 13 سال کی خانہ جنگی میں، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی وہ بھی خواتین اور بچے تھے۔
ترک صدر نے کہا کہ 2 مارچ سے لبنان میں شہری رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے 12 لاکھ لبنانیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ان حملوں میں 1500 سے زیادہ لبنانی بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 4700 زخمی ہوئے۔
رجب طیب اردوان کا مزید کہنا تھا کہ جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اسرائیل نے 254 لبنانیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ خون اور نفرت میں اندھا ہو کر نسل کشی کا یہ نیٹ ورک معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب ایردوان کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے متعلق ان کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیل ایران اور اس کے علاقائی ہم نواؤں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔
نیتن یاہو نے کہا تھا کہ میری قیادت میں اسرائیل ایران کی دہشت گرد حکومت اور اس کے حواریوں کے خلاف لڑنا جاری رکھے گا، برخلاف ایردوان کے جو انہیں پناہ دیتے ہیں اور اپنے ہی کرد شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ترک صدر اردوان نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ کسی بھی صورت میں اس جنگ بندی پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے اور کہا کہ ترکیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔
ترکیہ، جو اسرائیل کا سخت ترین ناقد ہے، مصر اور پاکستان کے ساتھ مل کر اس تنازع میں جنگ بندی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کے باوجود صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے جب کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں، جس کے باعث حالیہ جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری سمیت اہم مطالبات تسلیم نہیں کیے، جبکہ ایرانی حکام نے امریکا پر غیر حقیقت پسندانہ شرائط عائد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے، جس کے بعد وفود واپس روانہ ہوگئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور یوں یہ تنازع باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہوگیا تھا۔ بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی تھی۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود خطے میں جھڑپیں جاری ہیں، لبنان میں اسرائیلی حملوں میں عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں، جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق فی الحال جنگ بندی برقرار ہے تاہم مذاکرات کی ناکامی کے بعد مستقبل میں حالات کا دارومدار آئندہ سفارتی کوششوں پر ہوگا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا اور بعض حلقوں کی جانب سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی وفد کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم نے بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیادت میں اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا کے ذریعے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی مذاکراتی وفد کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ایران پر نیک نیتی کی کمی اور بھتہ خوری جیسے الزامات عائد کرتے ہیں، اسی دوران امریکی میڈیا میں ایسے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی وفد کے خلاف دھمکیوں کی بات کی جا رہی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس نوعیت کے بیانات دھمکی، تشدد پر اکسانے اور بھتہ خوری کو معمول بنانے کے مترادف نہیں ہیں۔ ایرانی ترجمان نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے لیے عوامی سطح پر اکسانے کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان کے ساتھ ایک امریکی اخبار کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی سلامتی کا انحصار کسی ممکنہ معاہدے پر ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ میری قیادت میں اسرائیل ایران اوراس کے اتحادیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پر بھی سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور کرد شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں ملک ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر اپنے اپنے مؤقف کو واضح کرنے اور ممکنہ مشترکہ نکات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو پر غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ بھی زیر سماعت ہے، اس کے باوجود اسرائیلی قیادت کا مؤقف سخت اور جارحانہ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ رکوانے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اسی سلسلے میں اتوار کے روز اسلام آباد میں اہم سفارتی مشاورتی بیٹھک ہوئی۔ جس میں پاکستان، سعودی عرب، مصراورترکیہ کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت مختلف امور پرغور کیا گیا۔
اس اہم مشاورتی اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعوی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیے کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ ان کی دعوت پر پاکستان آئے اور ان کے ساتھ ملاقاتیں انتہائی مفید رہیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق اجلاس میں خطے کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی اور گہرائی سے گفتگو کی گئی اور جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے لیے ممکنہ راستوں سمیت چاروں برادر ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے جاری تنازع کو خطے میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کے لیے انتہائی تباہ کن قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ صرف تباہی کا سبب بنے گی۔ بیان کے مطابق ملاقات میں مسلم امہ کے اتحاد کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مہمان وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا، جس پر تمام ممالک نے مکمل حمایت کا اظہار کیا اور کشیدگی کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرات کو محدود کرنے اور بامقصد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا دونوں نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا ۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ اس حوالے سے امریکی قیادت سے بھی رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں چین نے بھی پاکستان کے اس اقدام کی مکمل حمایت کی، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی پاکستان کی امن کوششوں کی تائید کی ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی پاکستان کی کوششوں پر اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خلوص نیت اور عزم کے ساتھ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کی حمایت کا طلب گار ہے۔
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کی تصدیق کر دی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر خارجہ حقان فدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدرعبدالعطی، کل اسلام آباد کا دو روزہ دورہ کریں گے۔
دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور مختلف دوطرفہ و علاقائی امور پر گفت و شنید کرنا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد میں قیام کریں گے۔
دورے کے دوران، وزرائے خارجہ وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مختلف دوطرفہ و علاقائی امور پر بات چیت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ کل شام کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے اور اس دوران چاروں ممالک خطے میں جنگ بندی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ دورہ ان ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ وزرائے خارجہ کے دورے کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے علاوہ اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔
ترکیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل جو شام اور عراق کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے ترکیہ کی طرف بڑھ رہا تھا، اسے مشرقی بحیرہ روم میں نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام نے تباہ کر دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
بیان میں کہا گیا کہ میزائل کو ترکیہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔
وزارت دفاع نے واضح کیا کہ ترکیہ اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی دشمنانہ اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ساتھ ہی تمام فریقوں کو خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر بات کی۔
ترک حکام کے مطابق اس گفتگو میں ترکیہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے تمام اقدامات سے بچا جائے جو کشیدگی میں اضافہ کریں یا تنازع کو مزید پھیلانے کا سبب بنیں۔
ایک ترک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الجزیرہ کو بتایا کہ انقرہ خطے میں حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے حق میں ہے اور سفارتی رابطوں کو اہم سمجھتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ صورتحال کے باعث نہ صرف جانی و مالی نقصان ہوا ہے بلکہ عالمی فضائی آپریشن بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
آرامکو ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس تنصیب پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، حکام نے دمام کے قریب واقع راس تنورہ ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔
قطر کی وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر بتایا ہے کہ ملک کے دو اہم توانائی مراکز کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ڈرون نے مسائید کے علاقے میں واقع بجلی گھر کے پانی کے ٹینک کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرے ڈرون نے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قطر انرجی کی ایک تنصیب پر حملہ کیا۔ خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اسی دوران عمان کے بحری سلامتی کے مرکز نے اطلاع دی ہے کہ مسقط کے ساحل سے دور ایک تیل بردار بحری جہاز پر بارود سے بھری کشتی کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں زوردار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث عملے کا ایک رکن جان کی بازی ہار گیا۔
جہاز پر موجود دیگر اکیس افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ عمان کی شاہی بحریہ کا ایک جہاز متاثرہ ٹینکر کی نگرانی کر رہا ہے اور دیگر بحری جہازوں کو اس علاقے سے گزرتے ہوئے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب توانائی کی عالمی منڈی میں بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی کمپنی شیوران نے اطلاع دی ہے کہ اسے اسرائیل کی وزارت توانائی کی جانب سے لیویتھن نامی بڑے گیس فیلڈ سے پیداوار عارضی طور پر روکنے کا حکم ملا ہے۔
یہ گیس فیلڈ اسرائیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں سے مصر کو اربوں ڈالر مالیت کی گیس برآمد کی جاتی ہے۔
شیوران کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی تنصیبات فی الحال محفوظ ہیں لیکن حفاظتی اقدامات کے تحت کام بند کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ترکیہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی خبر ہے جبکہ قبرص میں برطانوی ملٹری بیس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اصفہان میں ایک امریکی ڈرون مار گرائے جانے اور کویت میں کئی امریکی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں بھی حملوں کی خبریں ہیں۔ شہر سنندج پر چھ میزائل گرنے کی اطلاع ہے جس میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کا بتایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے گئے اور بیلسٹک میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے جس کے جواب میں تل ابیب نے بیروت کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔
ان کارروائیوں میں اکتیس افراد کے جاں بحق اور ایک سو انچاس کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
حزب اللہ کے رہنما محمد رعد کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
خطے میں جاری اس کشیدگی کے باعث عالمی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔ مختلف ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بارہ سو انتالیس پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر محصور ہیں۔
پاکستان میں بھی گزشتہ تین دن کے دوران پانچ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جمعہ کو متوقع جوہری مذاکرات کے حوالے سے سفارتی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور ایران کی جانب سے ان مذاکرات کا مقام استنبول سے عمان منتقل کرنے کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے۔ علاقائی سفارت کاروں کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ بات چیت ایسے ماحول میں ہو جہاں توجہ صرف جوہری معاملات تک محدود رہے اور دیگر علاقائی یا سیاسی امور اس عمل پر اثر انداز نہ ہوں۔
امریکی میڈیا نے سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران مذاکرات کے دوران صرف جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت پر زور دے رہا ہے اور وہ علاقائی ممالک کی براہ راست شرکت کا بھی خواہش مند نہیں ہے۔
اس کے برعکس وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے ہونے والی بات چیت اپنے طے شدہ وقت کے مطابق ہی ہوگی اور امریکا اس حوالے سے کسی غیر یقینی صورتحال کو اہمیت نہیں دے رہا۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا مقام اور وقت کوئی پیچیدہ یا حساس مسئلہ نہیں ہے۔
ان کے مطابق امریکا کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور دونوں فریق اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا مقام منتخب کیا جائے جو مذاکرات کے لیے موزوں اور قابل قبول ہو۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ، عمان اور خطے کے دیگر کئی ممالک نے بھی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
اسی دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ترکیہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں، جس کے بعد دونوں ممالک مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ممکن ہوئے ہیں اور شدید تناؤ کے ماحول میں پاکستان اور ترکیہ نے ایران کو امریکا سے بات چیت پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا کی جانب سے خصوصی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف جبکہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے۔
ان مذاکرات کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے تاکہ خطہ کسی نئی جنگ یا بڑے تصادم سے بچ سکے۔
ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی بنیادی ترجیح کسی ممکنہ تنازع سے بچاؤ اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
ان مذاکرات میں خطے کی چند اہم طاقتوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاکہ بات چیت کو وسیع تر سفارتی حمایت حاصل ہو سکے۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دعوت دی گئی ہے۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کردار خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہے اور اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کرتا ہے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور اس کے منفی اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
ترک وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ امریکا ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور تمام فریق دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن راستہ اختیار کریں گے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اِسی مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہے اور اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ کشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔
ترک حکام نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ترکیہ کے سرکاری میڈیا نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
ترکیہ کے سرکاری میڈیا ٹی آر ٹی کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک ایرانی شہری اور پانچ ترک شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترک حکام کے مطابق یہ کارروائیاں استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کی ہدایت پر کی گئیں۔ استنبول پولیس کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی اور قومی خفیہ ادارے (ایم آئی ٹی) نے پانچ صوبوں میں کارروائیں کرکے ان افراد کو گرفتار کیا۔
ترک حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزمان ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کے انٹیلی جنس افسران سے براہِ راست رابطے میں تھے۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد نے ترکیہ کی اہم فوجی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات جمع کیں، جن میں جنوبی صوبے آدانا میں واقع انجرلیک ایئر بیس بھی شامل ہے جہاں نیٹو کی افواج بھی موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس گروہ نے انجرلیک ایئر بیس کے گرد نگرانی اور ریکی کی اور دوسرے ممالک میں جاسوسی کے لیے لاجسٹک معاونت بھی فراہم کی۔
زیرحراست افراد پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ترکیہ اور دیگر ممالک میں موجود دیگر اہم مقامات سے متعلق بھی معلومات اکٹھی کیں۔ گرفتار افراد نے دیگر ممالک میں جاسوسی کے لیے ترکیہ کے راستے ڈرونز کی اسمگلنگ میں بھی کردار ادا کیا اور تمام خفیہ معلومات براہِ راست ایرانی انٹیلی جنس حکام تک پہنچائیں۔
حکام نے بتایا کہ استنبول، وان، سامسون، یالووا اور انقرہ میں بیک وقت کی گئی کارروائی کے نتیجے میں تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق قانونی کارروائی کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں سیاسی اور عسکری جاسوسی کے الزامات کے تحت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
واضح رہے کہ ترکیہ نیٹو کا ایک اہم رکن ملک ہے جس کے کئی اہم فوجی اڈے امریکی فوج بھی استعمال کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب ایران یہ کہہ چکا ہے کہ وہ امریکا کے ممکنہ حملوں کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
ترک وزیرِ خارجہ کا دورۂ ترکیہ
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعے کے روز ترکیہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ اپنے ترک ہم منصب حاکان فیدان سے ملاقات کریں گے۔
ترک میڈیا نے وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ ترکیہ میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات، ایران کی حالیہ صورتحال، علاقائی سلامتی سے متعلق امور، غزہ جنگ بندی اور شام سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور آئیں گے۔