Live
turkiye

ترکیہ میں مشہور امریکی ریپر کے کنسرٹ میں شائقین کا سمندر، ریکارڈ شرکت کا دعویٰ

کنسرٹ میں 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد مداحوں نے شرکت کی۔
اپ ڈیٹ 01 جون 2026 02:01pm

ترکیہ کے تاریخی اور خوبصورت شہر استنبول میں مشہور امریکی ریپر اور متعدد گریمی ایوارڈزیافتہ کانئیے ویسٹ نے اپنی شاندار پرفارمنس سے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

یہ عظیم الشان موسیقی کا پروگرام استنبول کے مشہور ’اتاترک اولمپک اسٹیڈیم‘ میں منعقد کیا گیا، جو کہ فٹبال کے بڑے بین الاقوامی مقابلوں اور ایونٹس کی میزبانی کے لیے عالمی سطح پر جانا جاتا ہے۔

اس کنسرٹ میں 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد مداحوں نے شرکت کی۔ حاضرین میں صرف ترکیہ کے مقامی افراد ہی نہیں بلکہ روس، قازقستان، برطانیہ، جرمنی، پولینڈ اور خود امریکا سے سفر کر کے آنے والے پرجوش مداح بھی شامل تھے۔

اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی آمد نےاس بین الاقوامی اجتماع نے ایونٹ کو عالمی سطح پر غیرمعمولی توجہ دلائی۔

رات بھر جاری رہنے والے اس رنگا رنگ پروگرام میں صرف گائیکی ہی نہیں بلکہ جدید ترین لیزر لائٹ شوز، سحر انگیز موسیقی اور شاندار ویژول ایفیکٹس کا بھی استعمال کیا گیا، جس نے حاضرین پر سحر طاری کر دیا۔

حاضرین کا جوش و خروش اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گیا جب ایک اور معروف امریکی ریپر ٹریوس اسکاٹ نے بھی اسٹیج پر انٹری دی اور اپنی شاندار پرفارمنس سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔

ان دونوں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کو ایک ساتھ اسٹیج پر پرفارم کرتے دیکھنا مداحوں کے لیے کسی ناقابلِ فراموش تجربے سے کم نہ تھا۔

کنسرٹ کے عروج پر کانئیے ویسٹ نے اسٹیج سے مداحوں سے براہِ راست گفتگو کی۔ انہوں نے اس بے مثال محبت اور زبردست شرکت پر حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئےدعویٰ کیا کہ 1 لاکھ 18 ہزار افراد کی شرکت نے میوزک کنسرٹس کی تاریخ میں ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں مداحوں کی شرکت نہ صرف کانئیے ویسٹ کی عالمی مقبولیت کا ثبوت ہے بلکہ یہ ترکیہ کو بین الاقوامی تفریحی تقریبات کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی نمایاں کرتی ہے۔

اسرائیل آزاد فلسطین کو تسلیم کرے تو مسلم ممالک کے مجوزہ اتحاد میں شامل ہوسکتا ہے: ترک وزیرِ خارجہ

عالمی برادری کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم سے روکنا چاہئے جو علاقائی بلکہ عالمی امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہے: ہاکان فیدان
اپ ڈیٹ 30 مئ 2026 07:25pm

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیکیورٹی اتحاد کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے تو وہ بھی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کے مجوزہ سیکیورٹ اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے جاپانی اخبار نکی ایشیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کر دیا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ نے اس اتحاد کو خطے کے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا اور کہا کہ تمام ریاستوں کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ اتحاد پاکستان سے خلیجِ فارس تک پھیلے ممالک کو ایک مشترکہ تعاون کے فریم ورک میں جوڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں ایران کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کے ممکنہ کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل پر راضی ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ہاکان فیدان کے یہ بیانات اس سوال کے جواب میں سامنے آئے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکیہ سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہم معاہدے‘ میں شامل کرنے کی مبینہ کوششوں کا ذکر کیا تھا۔

ابراہم معاہدے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے ایک معاہدہ ہے، جس کا آغاز صدر ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں ہوا تھا۔

ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ دونوں ممالک 1949 سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور غزہ جنگ سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ترکیہ نے اس تجارتی سلسلے کو معطل کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے تجارت معطل کرتے وقت اپنا مؤقف واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتلِ عام روکنا ہوگا اور غزہ کے عوام کو خوراک، رہائش، ادویات اور پانی جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی دینے میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو تعلقات معمول پر لانے میں کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ ترکیہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ترکیہ کو ممکنہ علاقائی حریف قرار دینے کے بیانات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی داخلی سیاست میں اکثر ایک ’دشمن‘ کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تاکہ اسکے جنگی عزائم کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ اسرائیل صرف اپنی سلامتی کے لیے نہیں بلکہ مزید علاقوں پر قبضے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنا چاہئے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی نظامِ امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اور دو ریاستی فارمولے پر پیش رفت ناگزیر ہے، جس کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام کا حصول مشکل ہوگا۔

وزیراعظم کی ترک صدر سے گفتگو، خطے میں امن کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

شہباز شریف نے ترک قیادت اور عوام کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی، جس کا رجب طیب اردوان نے نہایت خلوص کے ساتھ جواب دیا۔
شائع 26 مئ 2026 10:46pm

وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں امن کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

منگل کو وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے درمیان عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جب کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

وزیراعظم نے ترک قیادت اور عوام کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی، جس کا صدر اردوان نے نہایت خلوص کے ساتھ جواب دیا۔ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ملاقاتوں، خصوصاً اپریل میں انطالیہ میں ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

گفتگو کے دوران خطے کی مجموعی صورت حال، امن کوششوں اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوطرفہ فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی امن کوششوں کے لیے ترکیہ کی مسلسل اور مضبوط حمایت پر صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا جب کہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں مذاکرات، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے 24 مئی کو بلوچستان میں ٹرین بم دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا یقین دلایا۔

وزیراعظم نے ترک صدر کی ہمدردی اور حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔

وزیراعظم کا عیدالاضحیٰ پر قوم کے نام پر پیغام

دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ پر قوم کے نام پر پیغام میں کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بابرکت موقع پر میں تمام اہل وطن اوراُمتِ کو دل کی گہرائیوں سےعید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ اس مذہبی تہوار کی خوشیوں وقربانی کی حقیقی روح سے بہرہ مند فرمائے، یہ عید ہمیں سنت ابراہیمی کی یاد دلاتی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت و فرمانبرداری کا روشن استعارہ ہے، یہ مقدس سنت ہمیں اعلی اورمقدس مقصد کے لیے اپنی جان، خواہشات اور مفادات قربان کردینا ہی اصل میں ایمان کی معراج اور اہل وفا کا طرۂ امتیاز ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ قربانی کا جذبہ ہمیں خود غرضی سے بالاترہوکرہمدردی کا درس دیتا ہے، ملکی دفاع میں شہداء کی قربانی ہمارا قومی فخرہے، جذبہ ایثار ہی قوموں کی زندگی میں پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مظلوم فلسطینی اورکشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرنا ہے، اللہ تعالی عید کے موقع پر دنیا کو امن اور ہم آہنگی کا گہوارہ بنائے، آمین ، عیدالاضحیٰ مبارک!

پاکستان کا سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت کا اشارہ: بلومبرگ

ال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے: خواجہ آصف
شائع 13 مئ 2026 12:46pm

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جس کے پیشِ نظر پاکستان نے اشارہ دیا ہے کہ ترکیہ اور قطر بھی سعودی عرب کے ساتھ اس کے باہمی دفاعی تعاون کے معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ اس انتظام کو فی الحال حتمی شکل دی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی شکل دی جا سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے خلیجی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور توانائی کی ترسیل سمیت سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

پاکستان اس بحران کے دوران ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کر رہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کی رات ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر قطر اور ترکیہ بھی اس موجودہ معاہدے میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہو گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ہم خیال ممالک کے درمیان تعاون کا ایک وسیع پلیٹ فارم بنانا ہے تاکہ علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مزید تقویت دی جا سکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے علاقائی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک نے سیکیورٹی کوآرڈینیشن میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور گزشتہ ماہ پاکستانی فوج کا ایک دستہ بھی سعودی عرب پہنچا ہے۔

اگر ترکیہ اور قطر بھی اس انتظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کئی بااثر مسلم ممالک ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں گے، جو خطے کی سیکیورٹی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تہران ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں بحال، فضائی آپریشنز دوبارہ شروع

ابتدائی مرحلے میں استنبول اور مسقط کے لیے فضائی آپریشن ہفتے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
شائع 24 اپريل 2026 07:24pm

ایران نے جنگ بندی کے بعد تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی مسافر پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ ابتدائی مرحلے میں استنبول اور مسقط کے لیے پروازوں کی بحالی کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی مسافر پروازیں ہفتے سے دوبارہ شروع ہو رہی ہیں، جس کے ساتھ 50 روز سے زائد عرصے پر محیط تعطل ختم ہو جائے گا۔

ایئرپورٹ حکام نے بتایا کہ 25 اپریل سے غیر ملکی مسافر پروازوں کی بحالی شروع ہوگی، جن میں ابتدائی طور پر ترکیہ کا شہر استنبول اور عمان کا دارالحکومت مسقط شامل ہیں۔

ایئرپورٹ حکام کے مطابق فضائی حدود کی بندش کے دوران ایئرپورٹ پر کارگو آپریشنز جاری رہے تاہم مسافر پروازیں معطل تھیں۔ اس دوران غیر ملکی ایئرلائنز نے بھی اپنے طیارے ایئرپورٹ سے منتقل کر دیے تھے۔

امام خمینی ایئرپورٹ سٹی کے سی ای او رامین کاشف آذر نے ایرانی خبر رساں ادارے کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ بین الاقوامی پروازوں کی بحالی ہفتے سے شروع کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر استنبول اور مسقط کے لیے ریٹرن پروازوں کی اجازت دی گئی ہے جب کہ دیگر ایئرلائنز اور روٹس کے اجازت نامے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کے تمام بنیادی ڈھانچے اور نیویگیشن سسٹمز مکمل طور پر فعال ہیں اور پروازوں کی بحالی میں کوئی تکنیکی رکاوٹ موجود نہیں۔

دوسری جانب ایران کی قومی فضائی کمپنی ایران ایئر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتے سے اندرون ملک پروازیں بحال کرے گی، جس کا پہلا روٹ تہران سے مشہد ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق ہفتے اور اتوار کو تہران کے مہرباد ایئرپورٹ سے دو پروازیں چلائی جائیں گی جب کہ دیگر شہروں کے لیے بھی پروازوں کی مرحلہ وار بحالی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

فضائی آپریشنز کی بحالی اس وقت عمل میں آرہی ہے جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد خطے میں فضائی ٹریفک شدید متاثر ہوئی تھی۔ 8 اپریل کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے تحت امریکا نے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو قبول کیا۔

11 اپریل کو پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی اعلیٰ مذاکرات کاروں کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے تاہم کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ ایرانی حکام نے اس کا ذمہ دار امریکی فریق کے بڑھتے ہوئے مطالبات اور بدلتی ہوئی پوزیشنز کو قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی برقرار رہے گی، جب تک ایران اپنی جانب سے ایک “متفقہ تجویز” پیش نہیں کرتا۔

ترکیہ میں طالب علم کی اسکول میں فائرنگ سے ساتھی طلبا سمیت 9 افراد ہلاک

حملہ آور ایٹ گریڈ کا طالب علم تھا، جس نے اپنے والد کا اسلحہ بیگ میں چھپا کر اسکول میں داخل ہو کر دو کلاس رومز میں فائرنگ کی: حکام
شائع 15 اپريل 2026 09:53pm

ترکیہ کے وسطی علاقے میں واقع ایک مڈل اسکول میں طالب علم نے فائرنگ کرکے ساتھی طلبا سمیت 9 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب کہ 13 افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق حملہ آور ایٹ گریڈ کا طالب علم تھا، جس نے اپنے والد کا اسلحہ بیگ میں چھپا کر اسکول میں داخل ہو کر دو کلاس رومز میں فائرنگ کی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز فائرنگ کا افسوسناک واقعہ ترک صوبے قہرمان مرعش میں واقع آیسیر چلیک مڈل اسکول میں پیش آیا، جہاں آٹھویں جماعت کے طالب علم نے فائرنگ کرکے ساتھی طلبا اور عملے کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی طور پر 4 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی تاہم بعد میں حکام نے تصدیق کی کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہو گئی ہے۔

حکام کے مطابق حملہ آور اسکول میں اپنے بیگ میں 5 بندوقیں اور 7 میگزین لے کر داخل ہوا، جو مبینہ طور پر اس کے والد کی ملکیت تھیں۔ فائرنگ کے دوران اس نے 2 کلاسوں میں گھس کر طلبہ پر اندھا دھند گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے فائرنگ کے دوران افراتفری میں خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق مرنے والوں میں ساتھی طلبہ سمیت دیگر افراد شامل ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 13 سے زائد بتائی گئی ہے۔ زخمیوں میں 3 افراد کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں اسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور سابق پولیس اہلکار کے بیٹے کے طور پر شناخت ہوا ہے جب کہ اس کے والد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے اسکول کو گھیرے میں لے کر علاقے کو سیل کر دیا۔

ترکیہ کے اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں تاہم اس واقعے نے ملک بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ غیر مصدقہ ویڈیوز میں طلبہ کو فائرنگ کے دوران عمارت کی دوسری منزل کی کھڑکیوں سے کودتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ حملہ آور کو راہ چلتے طلبہ پر فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے۔

واقعے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جب کہ عدالت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس کی تصدیق ترکیہ کے وزیرِ انصاف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی۔ انہوں نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل بھی جنوبی شہر شانلی اورفا میں ایک سابق طالب علم نے اسکول میں فائرنگ کر کے 16 افراد کو زخمی کیا تھا اور بعد ازاں خودکشی کر لی تھی۔ اسی پس منظر میں تازہ واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایران امریکا مذاکرات: اسلام آباد میں 48 گھنٹوں کے دوران اہم ترین بیٹھک کے کتنے امکانات ہیں؟

شہباز شریف بیرون ملک روانہ ہوگئے
اپ ڈیٹ 15 اپريل 2026 04:34pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو دن کے اندر اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی مصروفیات کے باعث ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آرہا۔

گزشتہ مذاکراتی دور کے بے نتیجہ خاتمے کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

ایرانی حکام اسلام آباد میں بات چیت کے لیے خود کو زیادہ پُرسکون اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی ٹیم کو اسلام آباد میں ایرانی وفد سے ملاقات کی ہدایت کر دی ہے، جس سے ان مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔

اگرچہ صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات اگلے دو دنوں کے اندر ہو سکتے ہیں، لیکن ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ وزیراعظم شہباز شریف کی بیرونِ ملک مصروفیات ہیں۔

وزیراعظم بدھ کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے ہیں اور ان کی واپسی 18 اپریل کو متوقع ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اپنے اس اہم دورے کے پہلے مرحلے میں جدہ پہنچیں گے جہاں وہ اعلیٰ سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے۔

ان ملاقاتوں کا بنیادی ایجنڈا خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال، تناؤ میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کے امکانات پر غور کرنا ہے۔

وزیراعظم کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جو مختلف تزویراتی امور پر سعودی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔

سعودی عرب کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ روانہ ہوں گے جہاں وہ عالمی سطح کے اہم ’اناطالیہ ڈپلومیسی فورم‘ میں شرکت کریں گے۔

اس فورم کے دوران وہ مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے اور علاقائی و عالمی مسائل پر پاکستان کا نکتہ نظر پیش کریں گے۔

اس دورے کے آخری مرحلے میں وزیراعظم قطر بھی جائیں گے جہاں مزید سفارتی روابط کو فروغ دینے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام پر بات چیت ہو گی۔

وزیر اعظم کے ترکیہ اور سعودی عرب کے دوروں کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

ان تمام مصروفیات کے باعث اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا اگلا مرحلہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو بغیر کسی پیشرفت کے اختتام پذیر ہوا تھا۔ اس دوران دونوں ممالک کے وفود کے درمیان سخت جملوں کے تبادلوں کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔

ایران اور امریکا کے وفود کی واپسی کے فوراً بعد پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے دور کی پیشکش کی تھی۔ جس کی تصدیق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

پاکستان، سعودیہ، ترکیہ اور مصر کے درمیان مشترکہ تعاون کے فریم ورک کی تشکیل پر اتفاق

اجلاس کا مقصد باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا: ترجمان دفترخارجہ
شائع 14 اپريل 2026 09:52pm

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے سینئر سفارتی حکام نے اسلام آباد میں اجلاس میں شرکت کی، جس میں چاروں برادر ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے فریم ورک کی تشکیل پر اتفاق ہوگیا ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں 4 برادر ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے سینئر حکام کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں علاقائی اور عالمی امور پر مشاورت کی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں چاروں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے فریم ورک کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے جب کہ اجلاس میں امن، ترقی اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں شریک بردار ممالک نے پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور باہمی تعاون، علاقائی صورت حال اور مشترکہ مفادات کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ یہ اجلاس 29 مارچ  کو ہونے والے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس کے تسلسل میں منعقد کیا گیا۔ جس کا مقصد باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔

اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ و ترجمان دفترخارجہ سفیر طاہر اندرابی نے کی، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وفود کی قیادت بالترتیب نائب وزیر خارجہ سفیر موسیٰ کولاکلکایا، اسسٹنٹ وزیر خارجہ سفیر ناظح النگاری اور ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود نے کی۔

ترجمان کے مطابق اجلاس میں ہونے والی مشاورت کو 17 اپریل کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جو انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ہوگا۔

بعد ازاں اجلاس کے شرکا نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی صورت حال اور سفارتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد میں ہونے والا یہ اہم سفارتی اجلاس چاروں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ترک صدر نے مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی دے دی

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہوتے رہے تو اسرائیل کو اس کی اوقات یاد دلادیں گے: رجب طیب اردوان
شائع 12 اپريل 2026 06:59pm

ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو موجودہ دور کا ہٹلر قرار دے کر اسرائیل پر حملے کی دھمکی دے دی اور کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہوتے رہے تو اسرائیل کو اس کی اوقات یاد دلادیں گے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور  ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ  قانون کو نسل پرست فاشزم کے آلہ کار میں بدل دیتا ہے۔

ترک صدر نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے، ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے۔

رجب طیب اردوان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72,000 شہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہمارے پڑوسی شام میں ساڑھے 13 سال کی خانہ جنگی میں، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی وہ بھی خواتین اور بچے تھے۔

ترک صدر نے کہا کہ 2 مارچ سے لبنان میں شہری رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے 12 لاکھ لبنانیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ان حملوں میں 1500 سے زیادہ لبنانی بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 4700 زخمی ہوئے۔

رجب طیب اردوان کا مزید کہنا تھا کہ جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اسرائیل نے 254 لبنانیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ خون اور نفرت میں اندھا ہو کر نسل کشی کا یہ نیٹ ورک معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب ایردوان کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے متعلق ان کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اسرائیل ایران اور اس کے علاقائی ہم نواؤں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔

نیتن یاہو نے کہا تھا کہ میری قیادت میں اسرائیل ایران کی دہشت گرد حکومت اور اس کے حواریوں کے خلاف لڑنا جاری رکھے گا، برخلاف ایردوان کے جو انہیں پناہ دیتے ہیں اور اپنے ہی کرد شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران ترک صدر اردوان نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ کسی بھی صورت میں اس جنگ بندی پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے اور کہا کہ ترکیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔

ترکیہ، جو اسرائیل کا سخت ترین ناقد ہے، مصر اور پاکستان کے ساتھ مل کر اس تنازع میں جنگ بندی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کے باوجود صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے جب کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگئے ہیں، جس کے باعث حالیہ جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری سمیت اہم مطالبات تسلیم نہیں کیے، جبکہ ایرانی حکام نے امریکا پر غیر حقیقت پسندانہ شرائط عائد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اختلافات برقرار رہے، جس کے بعد وفود واپس روانہ ہوگئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور یوں یہ تنازع باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہوگیا تھا۔ بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی تھی۔

دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود خطے میں جھڑپیں جاری ہیں، لبنان میں اسرائیلی حملوں میں عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں، جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق فی الحال جنگ بندی برقرار ہے تاہم مذاکرات کی ناکامی کے بعد مستقبل میں حالات کا دارومدار آئندہ سفارتی کوششوں پر ہوگا۔

امریکی میڈیا میں ایرانی مذاکرات کاروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں: اسماعیل بقائی

ریاستی دہشت گردی کے لیے عوامی سطح پر اکسانے کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
شائع 11 اپريل 2026 11:47pm

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا اور بعض حلقوں کی جانب سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی وفد کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم نے بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیادت میں اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی میڈیا کے ذریعے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی مذاکراتی وفد کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ایران پر نیک نیتی کی کمی اور بھتہ خوری جیسے الزامات عائد کرتے ہیں، اسی دوران امریکی میڈیا میں ایسے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایرانی وفد کے خلاف دھمکیوں کی بات کی جا رہی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس نوعیت کے بیانات دھمکی، تشدد پر اکسانے اور بھتہ خوری کو معمول بنانے کے مترادف نہیں ہیں۔ ایرانی ترجمان نے کہا کہ ریاستی دہشت گردی کے لیے عوامی سطح پر اکسانے کی ہر سطح پر مذمت ہونی چاہیے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان کے ساتھ ایک امریکی اخبار کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا، جس میں لکھا گیا ہے کہ ایرانی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی سلامتی کا انحصار کسی ممکنہ معاہدے پر ہے۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ میری قیادت میں اسرائیل ایران اوراس کے اتحادیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پر بھی سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور کرد شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں ملک ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر اپنے اپنے مؤقف کو واضح کرنے اور ممکنہ مشترکہ نکات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو پر غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ بھی زیر سماعت ہے، اس کے باوجود اسرائیلی قیادت کا مؤقف سخت اور جارحانہ ہے۔

مشرقِ وسطیٰ جنگ بندی: اسحاق ڈار کی سعودی، ترک اور مصری وزرائے خارجہ کے ساتھ اہم بیٹھک

وزرائے خارجہ اجلاس میں خطے کی صورت حال اور ایران جنگ روکنے کے امکانات پر غور شامل تھا
اپ ڈیٹ 29 مارچ 2026 11:58pm

مشرق وسطیٰ میں جنگ رکوانے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اسی سلسلے میں اتوار کے روز اسلام آباد میں اہم سفارتی مشاورتی بیٹھک ہوئی۔ جس میں پاکستان، سعودی عرب، مصراورترکیہ کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت مختلف امور پرغور کیا گیا۔

اس اہم مشاورتی اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعوی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیے کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ ان کی دعوت پر پاکستان آئے اور ان کے ساتھ ملاقاتیں انتہائی مفید رہیں۔

اسحاق ڈار کے مطابق اجلاس میں خطے کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی اور گہرائی سے گفتگو کی گئی اور جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے لیے ممکنہ راستوں سمیت چاروں برادر ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے جاری تنازع کو خطے میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کے لیے انتہائی تباہ کن قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ صرف تباہی کا سبب بنے گی۔ بیان کے مطابق ملاقات میں مسلم امہ کے اتحاد کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مہمان وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا، جس پر تمام ممالک نے مکمل حمایت کا اظہار کیا اور کشیدگی کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرات کو محدود کرنے اور بامقصد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر اتفاق کیا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا دونوں نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا ۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ اس حوالے سے امریکی قیادت سے بھی رابطے جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں چین نے بھی پاکستان کے اس اقدام کی مکمل حمایت کی، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی پاکستان کی امن کوششوں کی تائید کی ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی پاکستان کی کوششوں پر اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خلوص نیت اور عزم کے ساتھ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کی حمایت کا طلب گار ہے۔

سعودیہ، ترک و مصری وزرائے خارجہ کل اسلام آباد میں ملیں گے: اسحاق ڈار کی تصدیق

دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور مختلف دوطرفہ و علاقائی امور پر گفت و شنید کرنا ہے
شائع 28 مارچ 2026 01:39pm

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کی تصدیق کر دی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترک وزیر خارجہ حقان فدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدرعبدالعطی، کل اسلام آباد کا دو روزہ دورہ کریں گے۔

دورے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور مختلف دوطرفہ و علاقائی امور پر گفت و شنید کرنا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد میں قیام کریں گے۔

دورے کے دوران، وزرائے خارجہ وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے اور پاکستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مختلف دوطرفہ و علاقائی امور پر بات چیت کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ کل شام کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے اور اس دوران چاروں ممالک خطے میں جنگ بندی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ دورہ ان ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ وزرائے خارجہ کے دورے کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے علاوہ اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔

ایران نے ترکیہ پر بھی میزائل داغ دیا

ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان کا اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے رابطہ
اپ ڈیٹ 04 مارچ 2026 06:09pm

ترکیہ کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل جو شام اور عراق کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے ترکیہ کی طرف بڑھ رہا تھا، اسے مشرقی بحیرہ روم میں نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام نے تباہ کر دیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

بیان میں کہا گیا کہ میزائل کو ترکیہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔

وزارت دفاع نے واضح کیا کہ ترکیہ اپنی سلامتی کے خلاف کسی بھی دشمنانہ اقدام کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ساتھ ہی تمام فریقوں کو خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر بات کی۔

ترک حکام کے مطابق اس گفتگو میں ترکیہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے تمام اقدامات سے بچا جائے جو کشیدگی میں اضافہ کریں یا تنازع کو مزید پھیلانے کا سبب بنیں۔

ایک ترک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الجزیرہ کو بتایا کہ انقرہ خطے میں حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے حق میں ہے اور سفارتی رابطوں کو اہم سمجھتا ہے۔

ایران کے خطے میں موجود تیل کی تنصیبات پر حملے، اسرائیل میں گیس کی پیداوار بند

آرامکو ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس تنصیب پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اپ ڈیٹ 02 مارچ 2026 04:08pm

مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں مختلف ممالک میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ صورتحال کے باعث نہ صرف جانی و مالی نقصان ہوا ہے بلکہ عالمی فضائی آپریشن بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔

آرامکو ملک کی سب سے بڑی آئل کمپنی سمجھی جاتی ہے اور اس تنصیب پر حملے نے توانائی کے عالمی شعبے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

سعودی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، حکام نے دمام کے قریب واقع راس تنورہ ریفائنری کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا، تاہم ان کا ملبہ گرنے سے تیل کی تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔

قطر کی وزارت دفاع نے باضابطہ طور پر بتایا ہے کہ ملک کے دو اہم توانائی مراکز کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ڈرون نے مسائید کے علاقے میں واقع بجلی گھر کے پانی کے ٹینک کو نشانہ بنایا جبکہ دوسرے ڈرون نے راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قطر انرجی کی ایک تنصیب پر حملہ کیا۔ خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

اسی دوران عمان کے بحری سلامتی کے مرکز نے اطلاع دی ہے کہ مسقط کے ساحل سے دور ایک تیل بردار بحری جہاز پر بارود سے بھری کشتی کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں زوردار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث عملے کا ایک رکن جان کی بازی ہار گیا۔

جہاز پر موجود دیگر اکیس افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ عمان کی شاہی بحریہ کا ایک جہاز متاثرہ ٹینکر کی نگرانی کر رہا ہے اور دیگر بحری جہازوں کو اس علاقے سے گزرتے ہوئے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب توانائی کی عالمی منڈی میں بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی کمپنی شیوران نے اطلاع دی ہے کہ اسے اسرائیل کی وزارت توانائی کی جانب سے لیویتھن نامی بڑے گیس فیلڈ سے پیداوار عارضی طور پر روکنے کا حکم ملا ہے۔

یہ گیس فیلڈ اسرائیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں سے مصر کو اربوں ڈالر مالیت کی گیس برآمد کی جاتی ہے۔

شیوران کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی تنصیبات فی الحال محفوظ ہیں لیکن حفاظتی اقدامات کے تحت کام بند کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ترکیہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی خبر ہے جبکہ قبرص میں برطانوی ملٹری بیس کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

اصفہان میں ایک امریکی ڈرون مار گرائے جانے اور کویت میں کئی امریکی طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں بھی حملوں کی خبریں ہیں۔ شہر سنندج پر چھ میزائل گرنے کی اطلاع ہے جس میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کا بتایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے گئے اور بیلسٹک میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے جس کے جواب میں تل ابیب نے بیروت کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔

ان کارروائیوں میں اکتیس افراد کے جاں بحق اور ایک سو انچاس کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حزب اللہ کے رہنما محمد رعد کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

خطے میں جاری اس کشیدگی کے باعث عالمی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔ مختلف ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بارہ سو انتالیس پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر محصور ہیں۔

پاکستان میں بھی گزشتہ تین دن کے دوران پانچ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ایران کو امریکا سے مذاکرات ترکیہ میں ہونے اور دیگر ممالک کی شرکت پر اعتراض

مذاکرات کے مقام پر امریکا سے مشاورت جاری ہے: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
اپ ڈیٹ 04 فروری 2026 09:46am

ایران اور امریکا کے درمیان جمعہ کو متوقع جوہری مذاکرات کے حوالے سے سفارتی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور ایران کی جانب سے ان مذاکرات کا مقام استنبول سے عمان منتقل کرنے کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے۔ علاقائی سفارت کاروں کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ بات چیت ایسے ماحول میں ہو جہاں توجہ صرف جوہری معاملات تک محدود رہے اور دیگر علاقائی یا سیاسی امور اس عمل پر اثر انداز نہ ہوں۔

امریکی میڈیا نے سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران مذاکرات کے دوران صرف جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت پر زور دے رہا ہے اور وہ علاقائی ممالک کی براہ راست شرکت کا بھی خواہش مند نہیں ہے۔

اس کے برعکس وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے ہونے والی بات چیت اپنے طے شدہ وقت کے مطابق ہی ہوگی اور امریکا اس حوالے سے کسی غیر یقینی صورتحال کو اہمیت نہیں دے رہا۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا مقام اور وقت کوئی پیچیدہ یا حساس مسئلہ نہیں ہے۔

ان کے مطابق امریکا کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت جاری ہے اور دونوں فریق اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا مقام منتخب کیا جائے جو مذاکرات کے لیے موزوں اور قابل قبول ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ترکیہ، عمان اور خطے کے دیگر کئی ممالک نے بھی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔

اسی دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ترکیہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں، جس کے بعد دونوں ممالک مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ممکن ہوئے ہیں اور شدید تناؤ کے ماحول میں پاکستان اور ترکیہ نے ایران کو امریکا سے بات چیت پر راضی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا کی جانب سے خصوصی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف جبکہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے۔

ان مذاکرات کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے تاکہ خطہ کسی نئی جنگ یا بڑے تصادم سے بچ سکے۔

ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات کی بنیادی ترجیح کسی ممکنہ تنازع سے بچاؤ اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

ان مذاکرات میں خطے کی چند اہم طاقتوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاکہ بات چیت کو وسیع تر سفارتی حمایت حاصل ہو سکے۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دعوت دی گئی ہے۔

ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اسرائیل امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے، ترکیہ

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے، ہاکان فیدان
اپ ڈیٹ 31 جنوری 2026 08:09pm

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کردار خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہے اور اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے امریکا پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی سخت مخالفت کرتا ہے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور اس کے منفی اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

ترک وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ امریکا ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور تمام فریق دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرامن راستہ اختیار کریں گے۔

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اِسی مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات اور جنگ  دونوں کے لیے تیار ہے اور اب ماضی کی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہے اور اس بار امریکا کی براہِ راست مداخلت کے باعث حالات بالکل مختلف ہوں گے اور بدقسمتی سے یہ جنگ دو طرفہ تنازع سے آگے بھی جا سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ کشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔


ترکیہ: ایران کے لیے جاسوسی کے الزام پر ایرانی شہری سمیت 6 افراد گرفتار

گرفتار افراد نے فوجی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات ایرانی انٹیلی جنس حکام تک پہنچائیں: ترک حکام
شائع 29 جنوری 2026 04:54pm

ترک حکام نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ترکیہ کے سرکاری میڈیا نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

ترکیہ کے سرکاری میڈیا ٹی آر ٹی کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک ایرانی شہری اور پانچ ترک شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترک حکام کے مطابق یہ کارروائیاں استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کی ہدایت پر کی گئیں۔ استنبول پولیس کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی اور قومی خفیہ ادارے (ایم آئی ٹی) نے پانچ صوبوں میں کارروائیں کرکے ان افراد کو گرفتار کیا۔

ترک حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزمان ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (پاسدارانِ انقلاب) کے انٹیلی جنس افسران سے براہِ راست رابطے میں تھے۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد نے ترکیہ کی اہم فوجی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات جمع کیں، جن میں جنوبی صوبے آدانا میں واقع انجرلیک ایئر بیس بھی شامل ہے جہاں نیٹو کی افواج بھی موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس گروہ نے انجرلیک ایئر بیس کے گرد نگرانی اور ریکی کی اور دوسرے ممالک میں جاسوسی کے لیے لاجسٹک معاونت بھی فراہم کی۔

زیرحراست افراد پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ترکیہ اور دیگر ممالک میں موجود دیگر اہم مقامات سے متعلق بھی معلومات اکٹھی کیں۔ گرفتار افراد نے دیگر ممالک میں جاسوسی کے لیے ترکیہ کے راستے ڈرونز کی اسمگلنگ میں بھی کردار ادا کیا اور تمام خفیہ معلومات براہِ راست ایرانی انٹیلی جنس حکام تک پہنچائیں۔

حکام نے بتایا کہ استنبول، وان، سامسون، یالووا اور انقرہ میں بیک وقت کی گئی کارروائی کے نتیجے میں تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق قانونی کارروائی کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں سیاسی اور عسکری جاسوسی کے الزامات کے تحت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

واضح رہے کہ ترکیہ نیٹو کا ایک اہم رکن ملک ہے جس کے کئی اہم فوجی اڈے امریکی فوج بھی استعمال کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب ایران یہ کہہ چکا ہے کہ وہ امریکا کے ممکنہ حملوں کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ کا دورۂ ترکیہ

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعے کے روز ترکیہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ اپنے ترک ہم منصب حاکان فیدان سے ملاقات کریں گے۔

ترک میڈیا نے وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ ترکیہ میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات، ایران کی حالیہ صورتحال، علاقائی سلامتی سے متعلق امور، غزہ جنگ بندی اور شام سے متعلق معاملات بھی زیرِ غور آئیں گے۔

ترکیہ نے غزہ میں فوجی تعیناتی پر آمادگی ظاہر کردی

ترکیہ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے، ہاکان فیدان
شائع 23 جنوری 2026 09:14am

ترکیہ نے غزہ میں امن و استحکام کے لیے اپنی افواج بھیجنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہات کہ ترکیہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے لیے تیار ہے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ غزہ امن معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ترکی ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ غزہ میں پائیدار امن کے قیام کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔

ہاکان فیدان نے بتایا کہ غزہ کے لیے قائم کیے گئے امن بورڈ میں شمولیت کے بعد ترکیہ اس کی ایگزیکٹو کمیٹی سے متعلق امور پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ زمینی سطح پر امن معاہدے پر عمل درآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ غزہ کے عوام کے لیے ترکیہ کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں گی اور ترکیہ مشکل کی اس گھڑی میں فلسطینی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر ’بورڈ آف پیس‘ کے مسودے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ جس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

’غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ فلسطین میں قیام امن اور تعمیر نو کے لیے کیا‘: پاکستان کا مؤقف

سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر بھی غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔
اپ ڈیٹ 22 جنوری 2026 08:56am

پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام اور تعمیر نو کی عالمی کوششوں میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطین میں امن کے قیام، انسانی امداد میں اضافے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ کی حمایت کے لیے اس عالمی بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے ذریعے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں بہتری آئے گی اور غزہ کی بحالی کے لیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا اور قطر بھی غزہ بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مشترکہ امن کوششوں کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

ترکیہ نے بھی عالمی بورڈ آف پیس میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور ترک وزیر خارجہ حاقان فدان اس بورڈ کے اجلاس میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ترکیہ عالمی امن کے فروغ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔

ڈیووس فورم کے موقع پر بھی امن اور علاقائی استحکام سے متعلق اہم مشاورت متوقع ہے، جس میں مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق آج ڈیووس میں کئی ممالک غزہ امن بورڈ کے مشترکہ معاہدے پر دستخط کریں گے، جبکہ مجموعی طور پر 59 ممالک اس معاہدے میں شامل ہونے کے خواہش مند ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ سے باہر کے ممالک بھی شامل ہیں۔

روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے بھی امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ روس اپنے منجمد اثاثوں میں سے ایک کروڑ ڈالرز بورڈ آف پیس کے لیے دینے کو تیار ہے، جبکہ باقی فنڈز یوکرین جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ترکیہ: نئے سال پر دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، داعش کے 357 ارکان گرفتار

کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو ملک کے اندر منظم ہونے یا سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2025 09:11am

ترکیہ میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے ایک ہی دن میں داعش سے تعلق رکھنے والے 357 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ یہ ملک گیر آپریشن بیک وقت 21 صوبوں میں کیا گیا، جس میں صوبائی پولیس، انسدادِ دہشت گردی اور انٹیلی جنس اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔

وزیر داخلہ نے کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کر رہا ہے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو ملک کے اندر منظم ہونے یا سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کے مطابق شہر میں 110 ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو نئے سال کے موقع پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی سرگرمیوں پر خفیہ نگرانی جاری تھی، جس کے بعد بروقت کارروائی عمل میں لائی گئی۔

دوسری جانب انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس نے داعش سے وابستہ 17 مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی تصدیق کی ہے، جن میں 11 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

ترک سکیورٹی اداروں نے اس سے قبل بھی استنبول میں کارروائیاں کرتے ہوئے 100 سے زائد مشتبہ داعش ارکان کو گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق ان چھاپوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور دیگر مشتبہ مواد بھی برآمد ہوا تھا، جس سے نئے سال کے موقع پر ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کو ناکام بنایا گیا۔

ترک حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

انبیاء کا شہر، جہاں تین مذاہب ایک نقطے پر ملتے ہیں

ایک ایسا شہر جہاں اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی روایات ایک ہی جغرافیے میں آ کر ملتی ہیں۔
اپ ڈیٹ 27 دسمبر 2025 03:49pm

ترکی کے جنوب مشرق میں واقع ”شانلی اُورفا“ وہ شہر ہے جہاں تاریخ محض ماضی کی کہانی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن کر سانس لیتی ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں عبادت گاہیں صرف مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے نہیں بلکہ ذہنی سکون اور سماجی میل جول کی جگہ بھی ہیں، اور جہاں ہزاروں برس پرانے پتھر انسان کے اولین روحانی سوالات کی گواہی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے شانلی اُورفا کو صدیوں سے ”انبیاء کا شہر“ کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا شہر جہاں اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی روایات ایک ہی جغرافیے میں آ کر ملتی ہیں۔

یہ شہروہ خطہ جسے تہذیبِ انسانی کی جنم بھومی کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ اس شہر نے کئی نام اور کئی تہذیبیں دیکھی ہیں۔ کبھی یہ آرامی قبائل کا مسکن رہا، کبھی یونانی اور رومی دور میں ایڈیسا کہلایا، پھر اسلامی فتوحات کے بعد روہا اور عثمانی دور میں اُورفا بنا۔ 1984 میں ”شانلی“ کا لقب پایا۔ جدید ترکی میں شہر کے نام کے ساتھ ”شانلی“ کا اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ شہر اپنی تاریخ میں دکھائی گئی مزاحمت اور عوامی جدوجہد کو آج بھی یاد رکھتا ہے، یوں اس شہر کا نام ہی اس کے ماضی، شناخت اور وقار کا خلاصہ بن جاتا ہے۔

یہ شہر شانلہ اورفا جو ”انبیاء کا شہر“ کے لقب سے مشہورہے، تینوں ابراہیمی مذاہب میں محترم سمجھے جانے والے انبیاء سے منسوب ہے، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

مقامی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے خلاف آواز بلند کی، جس پر وقت کے بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈالنے کا حکم دیا، لیکن یہی آگ پانی میں بدل گئی اور لکڑیاں مچھلیوں کی صورت اختیار کر گئیں۔ آج بالیکلی گول کے شفاف پانیوں میں تیرتی مچھلیاں اسی روایت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ زائرین یہاں دعا کرتے ہیں، خاموشی سے بیٹھتے ہیں اور اس جگہ کو محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ روحانی تجربہ مانتے ہیں۔

 شانلی اُورفا میں واقع بالیکلی گول یا ”مچھلیوں کی جھیل“ کارپ مچھلیوں سے بھری ہوئی ہے۔ (تصویر: بشکریہ سی این این)
شانلی اُورفا میں واقع بالیکلی گول یا ”مچھلیوں کی جھیل“ کارپ مچھلیوں سے بھری ہوئی ہے۔ (تصویر: بشکریہ سی این این)

اسی احاطے میں واقع حضرت ابراہیم علیہ االسلام کی جائے پیدائش سمجھا جانے والا غار بھی عقیدت کا مرکز ہے۔ یہاں آنے والے افراد، خاص طور پر خواتین، دعا، امید اور شفا کی نیت سے ٹھہرتے ہیں۔ غار کی خاموش فضا، مدھم روشنی اور دعاؤں کی سرگوشیاں اس احساس کو مضبوط کرتی ہیں کہ یہ شہر محض دیکھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے۔

 زائرین اس غار کی زیارت کرتے ہیں، جسے روایات کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے (تصویر: بشکریہ سی این این)
زائرین اس غار کی زیارت کرتے ہیں، جسے روایات کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے (تصویر: بشکریہ سی این این)

شانلی اُورفا کی اہمیت صرف مذہبی روایت تک محدود نہیں۔ شہر کے قریب واقع گوبیکلی تَپے نے دنیا بھر کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو حیران کر دیا ہے۔ یہ مقام گیارہ ہزار سال پرانا ہے، ایک ایسا دور جب انسان نے ابھی کھیتی باڑی اور مٹی کے برتن تک ایجاد نہیں کیے تھے، مگر اس کے باوجود یہاں عظیم مذہبی و رسوماتی ڈھانچے تعمیر کیے گئے۔

 آثار قدیمہ گوبیکلی تپے (تصویر: بشکریہ سی این این)
آثار قدیمہ گوبیکلی تپے (تصویر: بشکریہ سی این این)

اس دریافت نے یہ سوچ جنم دی کہ شاید انسان نے سب سے پہلے عبادت گاہ بنائی، گھر اور کھیت بعد میں آئے۔ گوبیکلی تَپے نے شانلی اُورفا کو صرف مذہبی نہیں بلکہ فکری طور پر بھی عالمی نقشے پر نمایاں کر دیا ہے۔

شہر کا آثارِ قدیمہ کا عجائب گھر اس طویل انسانی سفر کی جھلک دکھاتا ہے۔ قدیم مجسمے، موزائیکس، مقدس متون اور روزمرہ اشیاء ایک ساتھ رکھ کر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہاں تہذیبیں آئیں، پھلیں پھولیں اور گزر گئیں، مگر انسانی جستجو باقی رہی۔ رومی دور کے موزائیک فرش، چٹانوں میں تراشی گئی قبریں اور قدیم بستیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ شانلی اُورفا ہر دور میں انسانی سرگرمی کا مرکز رہا ہے۔

تاہم یہ شہر صرف تاریخ کا بوجھ اٹھائے خاموش نہیں بیٹھا۔ اس کے بازار آج بھی زندگی سے بھرپور ہیں۔ ڈھکے ہوئے بازار میں عرب، کرد اور ترک ثقافتوں کا امتزاج صاف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں تسبیحیں ہیں، کہیں تانبے کے برتن، کہیں مصالحوں کی خوشبو اور کہیں چائے کے گلاسوں کی بھاپ۔ لوگ یہاں صرف خرید و فروخت نہیں کرتے بلکہ وقت بانٹتے ہیں، باتیں کرتے ہیں اور تعلق نبھاتے ہیں۔

 شانلی اُورفا کا ڈھکا ہوا بازار (تصویر: بشکریہ سی این این)
شانلی اُورفا کا ڈھکا ہوا بازار (تصویر: بشکریہ سی این این)

کھانا شانلی اُورفا کی سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اُورفا سیخ کباب، کوفتے اور مقامی مٹھائیاں صرف ذائقہ نہیں بلکہ روایت ہیں۔ یہاں کھانا مل بیٹھنے کا رواج ہے، اور مہمان نوازی کو اخلاقی فرض سمجھا جاتا ہے۔ شام ڈھلتے ہی محفلیں سجتی ہیں، جن میں موسیقی، شاعری اور گفتگو نسلوں کے درمیان ایک پُل بن جاتی ہے۔

سِرا گجسی جس کا مطلب ہے ”محفلِ شب” یا “نائٹ آف گیدرنگ“ دراصل وہ شامیں ہیں جب شانلی اُورفا کے بزرگ اور نوجوان اکٹھے ہوتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، شاعری سناتے اور موسیقی سنتے ہیں۔ یہ محافل روایتوں کو نسل در نسل منتقل کرنے، آداب سکھانے اور کمیونٹی کے رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے منعقد کی جاتی ہیں، چاہے یہ خوشی کے مواقع جیسے شادی کی تقریبات ہوں یا کسی کے انتقال پر مشترکہ غم منانے کی راتیں ہوں۔

 سِرا گجسی میں موسیقار محفل میں موسیقی پیش کرتے ہوئے(تصویر: بشکریہ سی این این)
سِرا گجسی میں موسیقار محفل میں موسیقی پیش کرتے ہوئے(تصویر: بشکریہ سی این این)

شانلی اُورفا کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی ہے کہ یہ ایک عجائب گھر بن کر منجمد نہیں ہوا۔ یہاں مسجدیں عبادت کے ساتھ ساتھ آرام اور گفتگو کی جگہ ہیں، بازار تجارت کے ساتھ سماجی مرکز بھی، اور تاریخی مقامات روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ایک ایسا شہر جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں۔

ترکیہ: نئے سال پر دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 115 مشتبہ داعش ارکان گرفتار

داعش کے حمایت یافتہ نیٹ ورک کا ہدف غیر مسلم افراد تھے: ترک حکام
شائع 25 دسمبر 2025 11:56pm

ترکیہ نے کرسمس اور نئے سال کے موقع پر ممکنہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق داعش سے تعلق رکھنے والے 115 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

ترک حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کرسمس اور نئے سال کی تقریبات کو نشانہ بنانے کے ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر بھر میں 124 مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے گئے۔ جس کے نتیجے میں اسلحہ، گولہ بارود اور اہم تنظیمی دستاویزات برآمد کرلی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے حمایت یافتہ عناصر نے ترکیہ کے مختلف شہروں میں حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور ان کا ہدف بالخصوص غیر مسلم آبادی تھی۔

ان کارروائیوں کے دوران مطلوب 137 میں سے 115 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا، جبکہ مزید 22 افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ پراسیکیوٹر آفس کے مطابق گرفتار افراد بیرونِ ملک موجود داعش کے کارندوں سے رابطے میں تھے۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے ترکیہ میں داعش کے نیٹ ورکس کے خلاف جاری انسدادِ دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ ترکیہ کی شام کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جہاں داعش اب بھی بعض علاقوں میں سرگرم سمجھی جاتی ہے۔

ترک سیکیورٹی ادارے ماضی میں بھی داعش سے مبینہ تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف متعدد کارروائیاں کر چکے ہیں۔

13 دسمبر کو ترکیہ کی وزارت خارجہ نے شام میں داعش کی جانب سے امریکی اور شامی افواج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکیہ خطے میں استحکام اور سیکیورٹی مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب شام کے صدر احمد الشرع، جو ترک حکومت کے قریب سمجھے جاتے ہیں، اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ امریکا اور یورپ کے ساتھ مل کر داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے۔

ترکیہ طیارہ حادثہ: لیبیا کے فوجی سربراہ سمیت اعلیٰ عسکری حکام جاں بحق

اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد اس میں اچانک طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی۔
اپ ڈیٹ 24 دسمبر 2025 11:42am

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آنے والے طیارہ حادثے میں لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف محمد علی احمد الحداد سمیت طیارے میں سوار تمام افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ حادثہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب ایک نجی جیٹ طیارہ انقرہ کے ایسن بوغا ایئرپورٹ سے لیبیا کے شہر طرابلس کے لیے روانہ ہوا تھا۔

طیارہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 10 منٹ پر روانہ ہوا، تاہم پرواز کے تقریباً 40 منٹ بعد اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ طیارے نے دورانِ پرواز تکنیکی خرابی کی اطلاع دیتے ہوئے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی اور اسے واپس ایسن بوغا ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا تھا، لیکن لینڈنگ سے قبل ہی طیارہ ریڈار سے غائب ہوگیا اور بعد ازاں انقرہ کے ضلع حایمانہ کے علاقے کیسک کاواک کے قریب اس کا ملبہ ملا۔

حادثے میں محمد الحداد کے علاوہ لیبیا کے چار دیگر اعلیٰ فوجی افسران بھی جاں بحق ہوئے، جن میں بری فوج کے سربراہ جنرل الفیتوری غریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ اتھارٹی کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمود القطاوی، چیف آف اسٹاف کے مشیر محمد الاساوی دیاب اور چیف آف اسٹاف کے دفتر سے وابستہ فوجی فوٹوگرافر محمد عمر احمد محجوب شامل ہیں۔

اس کے علاوہ طیارے کے تین عملے کے ارکان بھی حادثے میں جان سے گئے۔

لیبیا کے وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ نے فیس بک پر جاری بیان میں محمد الحداد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب وفد ترکیہ سے وطن واپس جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ پوری قوم، فوجی ادارے اور عوام کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، اور ملک نے ایسے افراد کو کھو دیا ہے جنہوں نے دیانت داری، نظم و ضبط اور قومی ذمہ داری کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت کی۔

ترکیہ کے حکام نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکانات کو مسترد کر دیا گیا ہے اور حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی معلوم ہوتی ہے۔

ترکیہ کے وزیر داخلہ علی یرلی کایا کے مطابق طیارے نے حایمانہ کے اوپر ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی تھی، جبکہ صدارتی دفتر کے سربراہ برہانتین دوران نے بتایا کہ طیارے نے بجلی کے نظام میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔

مقامی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی سیکیورٹی فوٹیج میں حادثے کے وقت آسمان پر ایک تیز روشنی دیکھی گئی، جو ممکنہ طور پر دھماکے کا منظر تھی۔

ترکیہ کے وزیر انصاف یلماز تُنچ نے بتایا کہ انقرہ کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لیبیا کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایک لیبیائی ٹیم تحقیقات میں حصہ لینے کے لیے انقرہ جائے گی۔

لیبیا میں اس واقعے پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور تمام سرکاری تقریبات اور تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کے مطابق حادثے کی مکمل رپورٹ آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حادثے کا شکار طیارہ مالٹا میں رجسٹرڈ ایک لیز پر لیا گیا طیارہ تھا، جس کی تکنیکی تاریخ سے متعلق معلومات محدود ہیں۔

ادھر لیبیا بھر میں محمد الحداد کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مشرقی لیبیا کے کمانڈر خلیفہ حفتر اور بن غازی میں قائم ایوانِ نمائندگان نے بھی تعزیتی بیانات جاری کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق محمد الحداد کو ملک کے مختلف حصوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور وہ لیبیا کو متحد کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔

محمد الحداد اگست 2020 سے لیبیا کے آرمی چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز تھے۔

وہ حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطحی دفاعی مذاکرات کے لیے انقرہ میں موجود تھے، جن کا مقصد ترکیہ اور لیبیا کے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ترکیہ کی پارلیمان نے لیبیا میں ترک فوجی دستوں کی تعیناتی میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری دی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاع، معیشت اور توانائی کے شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔

دو ریاستی حل ہی اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کا واحد حل ہے، پوپ لیو

اس وقت اسرائیل اس حل کو قبول نہیں کرتا، لیکن ہم اسے ہی واحد حل سمجھتے ہیں، پوپ لیو
شائع 01 دسمبر 2025 10:29am

عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے کہا ہے کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیل فلسطین تنازع کے خاتمے کا واحد حل ہے۔

ترکیہ سے لبنان جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت اسرائیل اس حل کو قبول نہیں کرتا، لیکن ہم اسے ہی واحد حل سمجھتے ہیں۔

پوپ لیو نے مزید کہا کہ ویٹیکن کی اسرائیل کے ساتھ دوستی بھی ہے اور وہ دونوں فریقوں کے درمیان مُصالحانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایسا حل تلاش کیا جاسکے جس میں ہر ایک کے لیے انصاف شامل ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے ملاقات میں اسرائیل-فلسطین اور یوکرین-روس تنازعات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو شروعات سے ہی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کا حمایتی ملک امریکا بھی فلسطینی ریاست کی حمایت کا عندیہ دے چکا ہے۔

پوپ لیو نے یہ مختصر آٹھ منٹ کی پریس کانفرنس ترکیہ کے تین روزہ دورے کی تکمیل پر دی تھی، جو مئی میں روحانی پیشوا منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے دورے پر تھے۔

اسرائیلی ڈرون حملے میں لکڑیاں اکٹھی کرتے2 ننھے فلسطینی بھائی شہید

دوسری جانب اسرائیل کی فلسطین میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تین فلسطینیی شہید جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر اسرائیلی ملٹری نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حماس کے چالیس جنگجوؤں کو شہید کردیا ہے۔

خبرایجنسی کے مطابق جنوبی غزہ کی سرنگوں میں درجنوں حماس جنگجو موجود ہیں، سرنگوں کے اوپر کے علاقے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں، جنوبی غزہ کے ٹنل نیٹ ورک میں موجود جنگجوؤں سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔

حماس نے جنگجوؤں کے محفوظ راستے کے لیے ثالث ممالک سے  اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی: اسکول کے پرنسپل نے طالب علم کو سیڑھیوں سے دھکیل دیا

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
شائع 13 نومبر 2025 03:59pm

ترکی کے شہر منیسا میں ایک اسکول پرنسپل کو 13 سالہ طالب علم کو بے رحمی سے سیڑھیوں سے دھکیلنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اسکول کی سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پورے ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق منیسا کے ضلع تورگتلو کے ایک سرکاری مڈل اسکول میں پیش آنے والے اس واقعے میں اسکول کے پرنسپل نے طالب علم کو زبردستی سیڑھیوں سے دھکیل دیا بتایا گیا ہے کہ وہ طالبِ عمل آٹزم کا شکار بھی ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ پرنسپل نے بچے کو سیڑھیوں سے دھکیل کر نیچے گرایا، جس کے نتیجے میں بچہ زخمی ہو گیا۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بچے کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اپنے بیٹے کو واپس اسکول سے لینے آئیں تو کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے تھے اور اُس کی حالت خراب تھی۔

AAJ News Whatsapp

ترکی کی حکومت نے فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیا اور اسکول کے پرنسپل کو عہدے سے ہٹا دیا۔ وزیرِ عدلیہ بیکیر بوزداغ نے اس واقعے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ”کسی بھی کمزور فرد کے ساتھ بدسلوکی ناقابلِ برداشت ہے اور ایسا عمل کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اسکول میں تعلیم کے ماحول میں تشویش یا خوف کا عنصر نہ ہو۔