تاریخ میں ہونے والے 5خطر ناک ٹرین حادثات

شائع 30 اگست 2017 03:19pm
فائل فوٹو فائل فوٹو

ٹرین کیونکہ بہت بڑی ساخت رکھتی ہیں اس لیے جب بھی یہ پٹری سے اترتی ہیں یا کہیں ٹکراتی ہیں تو بہت خطرناک نقصان ہوتا ہے۔اس ہی لئے  جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس وقت مسافر کچھ بھی ہونے کو نہیں روک پاتے۔

ہم آپ کو بتاتے ہیں تاریخ  کے پانچ  ٹرین حادثات  جن کے متعلق جان کر آپ خوفزدہ ہوجائیں گے۔

سری لنکا سونامی ریل حادثہ

دسمبر26، سال 2004کو سماٹرا کے شمال مغرب میں سطح سمندر میں زلزلہ آیا جو خطرناک سونامی کا سبب بنا جس میں تقریباً دو لاکھ 80ہزار لوگ جان سے گئے۔

اس ہی بد قسمت دن'کوئین آف دی سی' ڈیڑھ ہزار سے زائد مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ جب سونامی کی پہلی لہر ساحل سے ٹکرائی، ٹرین ساحل سے 217گز دور تھی۔ مقامی لوگوں اور مسافروں نے ٹرین کی چھت پر چڑھ جانے کو غنیمت سمجھا لیکن سونامی کی دوسری لہر اس سے کہیں زیادہ بڑی تھی جس کے سبب ٹرین پٹری سے اتر گئی اور ڈبے لڑکنے لگے۔ جو ٹرین سے کچلے نہیں گئے وہ فوراً ہی ڈوُب گئے کیوں کہ وہ ڈبوں کے اندر پھنسے رہ گئے تھے۔ حادثے میں چند ہی مسافر زندہ بچ پائے تھے۔

سانحے میں مرنے والوں کی تعداد 1700سے زائد تھی۔

بہار ٹرین حادثہ،بھارت

جون 6، سال 1981 کو بھارت میں مون سون کے موسم کے دوران ایک نو ڈبوں والی ٹرین جس میں تقریباً ہزار مسافر سوار تھے، بھگمتی دریا میں جا گری۔ اس دن بارش ہورہی تھی اور تیز ہوائیں چل رہیں تھیں اور دریا کی سطح معمول سے کہیں زیادہ تھی۔

حادثہ پٹری عبور کرنے والی گائے کے سبب پیش آیا جس کو بچانے کیلئے ٹرین ڈرائیور نے زور دار بریک مارا جس کے سبب ڈبے گیلی پٹریوں  سے پھسل کر پانی میں جاگرے۔جو ان کی امداد کرسکتے تھے وہ ان سے کوسوں دور تھے۔

زیادہ تر مسافر ڈوب گئے یا موقع پر پہنچ جانے والی ریسکیو سروس  کی مدد سے نکال لئے گئے۔ 300سے زائد لعشیں دریا سے نہیں نکالی جاسکیں۔

حادثے میں 500سے 800افراد کے درمیان اموات ہوئیں۔

اوفا ٹرین حادثہ،روس

سویت تاریخ کا خطرناک ترین ریلوے حادثہ 4جون 1989کو ہوا۔ ایل پی جی پائپ لائن کے لیک ہونے سے پروپین گیس کی بڑی مقدار دو علاقوں آشا اور اوفا کے درمیان بس گئی۔ جب انجنیئروں نے پریشر میں کمی دیکھی تو انہوں نے ممکنہ لیکس دیکھنے کے بجائے معمول کی سطح پر واپس لانے کیلئے پریشر بڑھا دیا۔

قریب 1:15کے دو ٹرینیں جو 1200سے زائد مسافروں کو لے کر آرہی تھیں، جن میں سے زیادہ تر بچے تھے،ایک دوسرے کے پاس سے گزریں۔ ان کے ایک دوسرے کے پاس سے گزرنے سے چنگاریاں اڑیں جس کے سبب آگ پکڑ لینے والی اس گیس میں آگ لگی اور ایسا زبردست دھماکا ہوا جو 95کلومیٹر دُور سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

دھماکے سے بننے والا آگ کا گولا ایک میل تک پھیل گیا، دو عشاریہ چار میل تک درخت مٹ گئے اور دونوں ٹرینیں برباد ہوگئیں۔

حادثے میں 575سے زائد افراد کی اموات واقع ہوئیں۔

آوش ٹرین حادثہ،ایتھوپیا

افریقا کی تاریخ کا بدترین ٹرین سانحہ آوش کے علاقے کے قریب 14جنوری 1985کو پیش آیا۔یہ علاقہ آوش دریا سے تھوڑا اوپر ہے۔ اس علاقے کے قریب ایکسپریس ٹرین پل پر موڑ کاٹتے ہوئے رفتار کم کرتے وقت تکنیکی خرابی کے سبب ناکام ہونے کی صورت میں کھائی میں جاگرے۔

ایک اندازے کے مطابق 1000مسافر ٹرین پر سوار تھے۔ جن میں سے 428 لوگوں کی موت ہوگئی اور تقریباً بقیہ تمام ہی مسافر بری طرح زخمی ہوئے۔ حادثے کے بعد ٹرین کے انجنیئر کو گرفتار کر لیا گیا۔

العیاط ٹرین حادثہ،مصر

فروری 20،سال 2002 کو صبح  دو بجے ایک مصری ٹرین کے پانچویں ڈبے میں ایک گیس سلینڈر پھٹا۔لگنے والی آگ دیکھتے دیکھتے دیگر ڈبوں میں بھی پھیل گئی۔ٹرین کافی رفتار میں چلتی رہی بلآخر دو گھنٹے بعد ڈرائیور نے روکی۔

حادثے میں سات ڈبے جل کر خاک ہوگئے اور تقریباً 400لوگ اپنی جان سے گئے۔ حکام کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 383افراد اس حادثے میں جاں بحق ہوئے، جبکہ بہت سوں  کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 1000سے زیادہ تھی۔

Toptenz.net بشکریہ