ہراساں کئے جانے سے تنگ آکر خاتون نے بائیک چلانا شروع کردی
راولپنڈی کی رہائشی ثمینہ نے بس ااسٹاپ پر ہراساں ہونے سے تنگ آکر بائیک چلانا شروع کردی۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ثمینہ پیارا راولپنڈی کی رہائشی ہیں اور ہر روز نوکری کے سلسلے میں اسلام آباد تک سفر کرتی ہیں۔ وہ کئی برس تک بسوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی رہی ہیں اور آخرکار دیگر ہزاروں خواتین کی طرح روز ہراساں کیے جانے سے تنگ آکر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ موٹرسائیکل چلائیں گی۔
بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں ثمینہ نے کہا کہ ہراساں کیے جانے کا سفر، بس اسٹاپ سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ’جب آپ اسٹاپ پر کھڑی ہوں تو کار یا بائیک والا آتا ہے، ہارن بجاتا ہے اور کہتا ہے کہ لفٹ لے لیں۔‘
ثمینہ کے مطابق یہ بات بالکل اہم نہیں کہ کسی بھی علاقے کے ایک بس اسٹاپ پر کھڑی خاتون نے کیا لباس پہنا ہے۔ ’یہی کافی ہے کہ آپ ایک خاتون ہیں۔‘
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اسٹاپ پر گاڑی کے انتظار کے دوران معنی خیز نظروں کا سامنا کرنے کے بعد جب بس یا ویگن میں داخل ہو جائیں تو وہاں کا ماحول بھی ہمت توڑنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ہر روز کا معاملہ ہے اور ہر خاتون کو سہنا پڑتا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ میں محفوظ ماحول کی عدم فراہمی خواتین کے گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔
بی بی سی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں لاکھوں خواتین بسوں اور ویگنوں سمیت آمدورفت کے دیگر عوامی ذرائع روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرتی ہیں۔ تاہم ملک میں ایسی کوئی جائزہ رپورٹ نہیں جو ان کی درست تعداد بتا سکے۔
مزدوروں کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم آئی ایل او نے اپنی ایک رپورٹ میں خواتین کیلئے مناسب ذرائع آمدورفت نہ ہونے کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی اکثریت کیلئے گھروں سے باہر کام کرنا پاکستان میں عام نہیں ہے جس کی بڑی وجہ مناسب اور باعزت ذرائع آمدورفت کی کمی یا سِرے سے عدم موجودگی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 35 فیصد خواتین جنسی ہراس کا نشانہ بنتی ہیں تاہم پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والی 90 فیصد خواتین کسی بھی قسم کی ہراسگی کا شکار ہوتی ہیں۔
آمدورفت کے ان عوامی ذرائع یعنی بسوں، ویگنوں اور رکشوں میں محفوظ ماحول کا نہ ہونا ہی واحد مسئلہ نہیں، بلکہ ان بسوں کے مجوزہ روٹس اتنے کم ہیں کہ اکثر مسافروں کو پہلے تو کئی گاڑیاں تبدیل کرنا پڑتی ہیں اور پھر اسٹاپ سے دفتر یا تعلیمی اداروں تک پیدل جانا پڑتا ہے۔
لوک ورثہ میں کام کرنے والی ثمینہ ذاتی کار کی استطاعت رکھتی ہیں نہ ہی نسبتاً محفوظ سمجھی جانے والی ٹیکسیوں میں سفر کرنے کی گنجائش ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کیلئے یہ بھی قابلِ قبول نہیں کہ وہ گھر بیٹھیں۔
'اپنے دو بچوں کی واحد کفیل ہونے کے وجہ سے نوکری تو کرنی ہے۔‘
پاکستان میں بعض بڑے شہروں میں خواتین نے حالیہ برسوں میں موٹر سائیکل چلانا شروع تو کیا ہے تاہم ملک میں فی الحال یہ کلچر عام نہیں۔
جب ثمینہ سے یہ پوچھا کہ انھیں بائیک چلاتے ہوئے کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ لوگ انھیں ’سپورٹ‘ کرتے ہیں۔
’پہلے میں اپنے دفتر کے کسی ساتھی سے لفٹ لینے کیلئے انتظار کرتی تھی، اب میں اپنی ساتھیوں کو لفٹ دیتی ہوں۔ سڑک پر جو خواتین مجھے دیکھیں وہ بہت خوشی کا اظہار کرتی ہیں اور حوصلہ بڑھاتی ہیں۔‘
میں نے سوچا کے دفتر تک جانے کیلئے میں بھی ثمینہ سے لفٹ لیتی ہوں، جو انھوں نے بخوشی قبول کر لیا۔
ہیلمٹ پہنے، لائن کی پابندی کرتے اور نہایت احتیاط مگر پراعتماد انداز میں بائیک چلاتے ہوئے ثمینہ نے بتایا کہ سڑک کنارے کسی مدد کے انتظار میں کھڑے مرد کی مدد کریں تو وہ جاتے جاتے فون نمبر ضرور مانگتے ہیں۔
'مگر یہ سب اُس اذیت سے کم ہے جو اسٹاپ پر یا بس میں مجھے اور باقی خواتین کو سہنا پڑتی ہے۔‘


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔