آئی جی سندھ کو ہٹانے کے معاملے پر سندھ حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے

اپ ڈیٹ 16 جنوری 2020 10:38am
فائل فوٹو

کراچی :آئی جی سندھ کلیم امام کو ہٹائے جانے کے معاملے پر سندھ حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے آگئے ، سندھ کابینہ نے انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی منظوری دی۔

 سندھ کابینہ نے آئی جی کلیم امام پر چارج شیٹ بناتے ہوئے کہا کہ اغوابرائے تاوان بالخصوص لڑکیوں، کار اور موٹر سائیکل چھیننے کےبڑھتے ہوئے واقعات ، معصوم  افراد کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت اور صورتحال کو کنٹرول کرنے میں انسپکٹر جنرل آف  پولیس کلیم امام ناکام رہے ہیں۔

 کابینہ نے اس بات کو بھی نوٹ کیا کہ بسمہ،دعا منگی کے اغواء کیسز اور ان کے والدین  کی جانب سے تاوان کی رقم کی ادائیگی کے بعد اُن کی واپسی ہوئی۔

کابینہ نے ارشاد  رانجھانی کے ایشو کو بھی اٹھایا جسے رحیم شاہ نے بھینس کالونی میں عوام کے سامنے  گولی ماری تھی۔

 پولیس نے ارشاد رانجھانی کو اسپتال لے جانے کے بجائے اُسے اپنی موبائل میں پولیس اسٹیشن لے آئے ،ایک طرح سے پولیس نے رحیم شاہ کو اُسے گولی مارنے  کی اجازت دی، محکمہ براہ راست مختلف سفارت خانوں کو خط لکھتارہا جو کسی صورت  بھی قانون اجازت نہیں دیتا۔

 سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ پولیس افسران کے پینل سے کسی تجربہ  کار سینئر پولیس افسر کی سندھ میں تعیناتی کی جائے ، کابینہ نے 4؍ ناموں کے ایک  پینل کو نامزد کیا ہے جس میں غلام قادر تھیبو، مشتاق مہر، ثناء اللہ عباسی اور کامران  فضل شامل ہیں ۔

 دوسری جانب تحریک انصاف کی صوبائی قیادت نے کابینہ کے اس فیصلے کو  آڑے ہاتھوں لیا اور اس پر شدید تنقید کی ۔

 تحریک انصاف نےآئی جی کلیم امام  کی خدمات وفاق کو واپس کرنے کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا عندیہ دیا ہے ۔