'گندم اورآٹے کامصنوعی  بحران دوتین روزمیں ختم ہوجائے گا'

شائع 19 جنوری 2020 02:45pm
فائل فوٹو

وفاقی وزیرفوڈ اینڈ سیکیورٹی خسروبختیارکا کہنا ہے کہ چمن بارڈرپرگندم کی سمگلنگ روک دی ہے ۔گندم اورآٹے کا بحران دوتین روزمیں ختم ہوجائے گا ۔ سندھ حکومت نے رواں سال سات لاکھ ٹن ہدف کے باوجودگندم نہیں خریدی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خسروبختیارکا کہنا تھا آٹے کا مصنوعی بحران دوتین روز میں ٹھیک ہوجائے  گا ۔ پنجاب میں گندم کا وسیع ذخائرہ موجود ہیں ۔ گندم کی فراہمی کاعمل متاثر ہونے سے مشکلات ہیں ۔ گزشتہ روز کراچی کےلئے 9 ہزارٹن گندم فراہم کی گئی۔ سندھ حکومت نے رواں سال سات لاکھ ٹن ہدف کے باوجودگندم نہیں خریدی ، پاسکو نے سندھ کو چارلاکھ ٹن گندم دی ۔خیبرپختونخوا کےلئے چارسے پانچ ہزار ٹن گندم بڑھادی گئی ہے۔

وفاقی وزیرکا کہناتھا کہ حکومتی اقدامات سے گندم اورآٹے کی قیمت کم ہوگی۔ گندم کی سمگلنگ روکنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ چمن بارڈرپر دو ماہ پہلے 40ہزار ٹن ماہانہ گندم سمگل ہورہی تھی جس کو فورسزکے ذریعے کارروائی کرکے روک دیاگیا ہے ۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے گندم کی قیمت 1365روپے فی من مقررکی ہے۔آئندہ سال گندم کی پیداوار کا ہدف 27ملین ٹن ہے ۔