احتساب عدالت نے احسن اقبال کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مستردکردی

اپ ڈیٹ 20 جنوری 2020 11:19am
فائل فوٹو

اسلام آباد :احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنماءاحسن اقبال کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔

نارووال اسپورٹس سٹی کیس میں نیب نے احسن اقبال کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش کیا۔

 عدالت نے نیب پروسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ احسن اقبال کا 28 دن کا جسمانی ریمانڈ ہوگیا، کیا 90 روزہ ریمانڈ لیں گے ؟  جس پر نیب پروسیکیوٹر نے کہا کہ احسن اقبال کو 23 دسمبر کو گرفتار کیا، تحقیقات جاری ہیں، گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے۔

عدالت نے نیب کی احسن اقبال کے مزید 14 روزہ  جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

بعدازاں  میڈیا سے گفتگو میں ن لیگ کے رہنماءاحسن اقبال نے پی ٹی آئی حکومت کو لنگر خانہ حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ڈگریاں ہاتھ میں اٹھائے گھوم رہی ہے،روزگار ختم کر دیا ہے،یو این سے مطالبہ ہے کہ اس لیڈر کو فنڈ ریزنگ کی کسی پوسٹ پر لگا دیں۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ ساری زندگی چندہ جمع کرنے والا معیشت کو کیا کنٹرول کرے گا،آٹا 70 روپے کلو بھی نہیں مل رہا۔

عدالت نے احسن اقبال کو جیل میں اہلخانہ سے ملاقات ،علاج اور گھر کے کھانے کی اجازت بھی دے دی۔

احتساب عدالت نے احسن اقبال کو 7 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔