آٹے کی قلت کا معاملہ سینیٹ تک پہنچ گیا
فائل فوٹوملک بھرمیں آٹا کی بڑھتی قیمتوں اورقلت کامعاملہ ایوان بالاپہنچ گیا۔قائدحزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے کہا کہ آٹابحران جان بوجھ کرکیاگیا۔یہ کہناکافی نہیں کہ گھبرائیں نہیں۔امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا نومبراوردسمبرکی باتیں کرنے والوں کوشرم کرنی چاہیئے۔آٹےبحران کوحل کرنےکےلئے تعاون کےلئےتیارہیں۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا کہ آٹا بحران جان بوجھ کرکیا گیا۔پہلے آٹا برآمد کیا گیا،پھر درآمد کی بات کی جارہی ہے۔یہ کہنا کافی نہیں کہ گھبرائیں نہیں۔
سینیٹرجاوید عباسی نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کروانے کے ذمہ داران کو ایک پارٹی کا اعلیٰ عہدہ دےدیا گیا۔وزیراعظم کو سکون دنیا میں نہیں بلکہ قبر میں ملے گا۔وزیراعظم اب قبر کے پلاٹ لینے کی تیاری کرے ۔گندم کے نام پر پیسے بنانے والوں کےخلاف ایکشن لیا جائے۔
امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہا نومبر اوردسمبرکی باتیں کرنے والوں کو شرم کرنی چاہیئے۔آٹے بحران کو حل کرنے کےلئے تعاون کےلئے تیار ہیں۔
سینیٹرمشتاق احمد نے کہا کہ آٹے کی کمی نہیں بلکہ یہ مافیہ کا مسئلہ ہے۔حکومت اپنی صفحوں میں مافیہ کو تلاش کرے۔
سینیٹرپرویزرشید بولے پہلے چارلاکھ میٹرک ٹن گندم اسمگل کی گئی۔اب تین لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی جاری ہے۔ 29روپے کلو کے حساب سے گندم باہر بھیجی گئی ۔جس کے خون پسینے سے گندم پیدا ہوئی وہ اب 70روپے فی کلو آٹا خرید رہا ہے ۔
سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ حکومت کو گندم، آٹے پر سبسڈی کا اعلان کرنا چاہیئے۔موجودہ حکومت نے مافیا کو اکٹھا کر کے حکومت بنائی ۔مافیا میں وفاقی وزیراورصوبائی وزیربھی شامل ہیں۔
اپوزیشن کی جانب سے آٹے بحران پرعلامتی واک آؤٹ بھی کیا گیا۔
سینیٹر محسن عزیز نے آٹے بحران کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ بحران دو دن میں ختم ہوجائےگا۔بحران کی وجہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اورسڑکیں بند ہونا بھی ہے۔دو روز میں آٹے بحران کو ختم کردیا جائےگا۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔