اسمگلنگ میں ملوث اعلیٰ افسران کیخلاف بڑی کارروائی
فائل فوٹوایف بی آر کی قیمتی مصنوعات کی اسمگلنگ اورقومی خزانے کواربوں روپےکے نقصان میں ملوث اعلیٰ افسران کیخلاف بڑی کارروائی، کسٹمز انٹیلی جنس کی ٹھوس رپورٹس کی بنیاد پر چار کلکٹرز اور ممبر کسٹمز سمیت کئی ملازمین کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ حکام ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی کے بغیر غیر ملکی مصنوعات سے بھری گاڑیاں ملک میں لانے کی غیرقانونی اجازت دینے میں ملوث پائے گئے۔
وزیراعظم کے احکامات پر قیمتی مصنوعات کی سمگلنگ اور قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان میں ملوث اعلیٰ افسران کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایف بی آر نے کسٹمز انٹیلی جنس کی ٹھوس رپورٹس کی بنیاد پر چار کلکٹرز اور ممبر کسٹمز سمیت کئی ملازمین کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
یہ حکام ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی کے بغیر غیر ملکی مصنوعات سے بھری گاڑیاں ملک میں لانے کی غیرقانونی اجازت دینے میں ملوث پائے گئے جو کہ تمام سرکاری حکام کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ کسی بھی سطح پر بدعنوانی کا کوئی بھی اقدام قابل قبول نہیں ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ترجمان نے کہا ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں بدعنوانی کے خاتمے اور سرکاری اداروں میں شفافیت لانے کے تسلسل کے طور پر وفاقی حکومت نے تمام وزارتوں اور محکمہ جات کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں نچلی سطح پر کرپشن کے خاتمے کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
ترجمان نے کہا کہ کچھ روز قبل کسٹمز کے حوالے سے ٹھوس رپورٹس کی بنیاد پر غیرقانونی طور پر غیرملکی مصنوعات کو ٹیکس اور ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر لانے کی اجازت دینے پر ریجنل کلکٹریٹ پشاور اور فاٹا کے 5اعلیٰ آفیسران سمیت عملے کے افراد کو اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق خیبرپختونخوا میں طورخم کسٹم اسٹیشن پر افغانی گاڑیاں سیب لے کر داخل ہوتی رہیں اور ضروری گڈز ڈکلریشن جمع کرائے بغیر کلیئرنس اور ڈیوٹی اور ٹیکسز ادا کیے بغیر آتی رہیں۔ بعض کیسز میں جہاں جی ڈی جمع کرائی گئیں، صرف پھلوں پرڈیوٹی اور ٹیکسز کی شرح میں رعایت کے جعلی سرٹیفکیٹ جمع کروائے گئے۔اس کے علاوہ سرکاری خزانے سے اخراجات اور درآمد کنندگان کو فائدہ دینے کےلئے ڈیوٹی اور ٹیکسز کا مناسب انداز میں جائزہ نہیں لیا گیا۔ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کر کے مزید تحقیقات ہو رہی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ایرانی سیبوں سے بھری جن گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہ ملی بھگت اور کرپشن کے لئے ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی کے بغیر چھوڑی گئیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں کسٹمز اسٹیشنز سے افغانی پھلوں اور اعلیٰ معیار کے ایرانی بارز کی امپورٹ کی کلیئرنس کی متضاد خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ ان بد انتظامیوں کی ایف بی آر کی جانب سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور یہ دونوں معاملات تحقیقات کےلئے ایف آئی اے کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام تمام سرکاری ملازمین کے لئے پیغام ہے کہ بدعنوانی کا کوئی بھی واقعہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور مستقبل میں ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
"اے پی پی" کو دستیاب ذرائع کے مطابق جن اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ان میں ممبر کسٹمز جواد آغا ، رضا بلوچ (کلکٹر) ،احسان علی شاہ (کلکٹر)، آصف سعید لغمانی(کلکٹر) اور ڈاکٹر افتخار(کلکٹر) شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ کئی دیگر ملازمین بھی شامل ہیں جن کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔