'پاکستان سے متعلق میرا ویژن قائد اعظم اورعلامہ اقبال کا ویژن ہے'

اپ ڈیٹ 05 فروری 2020 04:18am
فائل فوٹو

کولالمپور:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مودی کے نظریے سے بھارتی عوام بھی پریشان ہیں،برصغیر کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے،پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں،مغرب اسلامو فوبیا کا شکار ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ایڈوانس اسلامک اسٹیڈیزانسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم برصغیرکے عظیم لیڈر تھے،پاکستان سے متعلق میرا ویژن قائد اعظم اورعلامہ اقبال کا ویژن ہے،پاکستان کو فلاحی ریاست بنانامیرا ویژن ہے،قائد اعظم ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت ریاست کا قیام چاہتے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ رسول اللہ ﷺدنیا کے عظیم ترین لیڈر تھے،رسول اللہ ﷺنے2اصولوں پرریاست مدینہ کی بنیاد رکھی،قانون کی بالادستی اورغریبوں کی فلاح بنیادی اصول تھے،ریاست مدینہ میں امیر اور غریب کے لیے ایک قانون تھا ،ریاست مدینہ انسانی تاریخ میں پہلی فلاحی ریاست تھی،مدینہ منورہ میں کوئی قانون سے بالاترنہیں تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نےرسول اللہﷺ کی سنت پرعمل کرنے کاحکم دیا،انسان رسول اللہ ﷺ کی سنت پرعمل کئےبغیرکامیاب نہیں ہوسکتا،ہمیں رسول اللہﷺکی حیات طیبہ سےسیکھنےکی ضرورت ہے،کیاوجہ تھی کہ ریاست مدینہ نےدوسپرپاورزکوشکست دی،ریاست مدینہ اصولوں کی بنیاد پرعظیم ریاست بنی۔

عمران خان نے مزید کہا کہ میرا ویژن ریاست مدینہ ہے،مدینہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی،انصاف اور فلاح ریاست مدینہ کے دوبنیادی اصول ہیں،پاکستان کا تصوربھی ریاست مدینہ تھا لیکن بدقسمتی سے ہم ان اصولوں سے ہٹ گئے،فلاحی ریاست کےنظریئےکےتحت احساس پروگرام شروع کیا،وژن کے بغیرقومیں تباہ ہوجاتی ہیں،ہمیں اپنے نچلےطبقے کو اوپراٹھانا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے60لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دیئے ہیں،ہم نے اپنی آنکھوں سے ملائیشیا کو ترقی کرتے دیکھا مذہب طاقت کے ذریعے لوگوں میں تبدیلی نہیں لاتا، مذہب نرمی سے دل اور سوچ کو تبدیل کرتا ہے،ہمیں دنیامیں اسلاموفوبیاکا مقابلہ کرنا ہے،ہمیں دنیا تک اسلام کا اصل پیغام پہنچانا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کو قابل تقلید رہنماء قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہاتیر محمد نے ملائیشیا کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کیا۔

عمران خان نے کہا کہ انقلاب ایران سے مغرب خوفزدہ ہوگیا،مغرب سمجھتا ہے کہ اسلامی انقلاب ان کے لیے خطرہ ہے ،ملعون سلمان رشدی نے اسلام کےخلاف پراپیگنڈہ کیا،دنیاکوبتایاگیاکہ اسلام آباد عدم برداشت اور انتہاپسندی کو فروغ دیتا ہے۔

اپنے خطاب میں نے وزیراعظم نے مزید کہا کہ نائن الیون کے بعد اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا گیا ،ماڈرن اورانتہاپسند اسلام کی اصطلاح متعارف کرائی گئیں،خودکش حملےتامل ٹائیگرز نے شروع کئے،تامل ٹائیگرز کو بھارت کی سرپرستی حاصل تھی،دہشت گردی اورخودکش حملوں کا اسلام سےتعلق نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالتےہی بھارت کودوستی کی دعوت دی،پاک بھارت تعلقات بہترہونےسے خطےکےعوام خوشحال ہوں گے،میں بھارتی عوام کو بہت قریب سے جانتا ہوں،بھارتی عوام کی رائے نریندر مودی سے مختلف ہے،مودی ہندوتواکے نظریئےکوپروان چڑھارہے ہیں،اس فاشسٹ نظریئے سے بھارتی عوام بھی متاثرہورہی ہے۔

وزیراعظم کامزید کہنا تھا کہ مودی نظریے سے بھارتی عوام بھی پریشان ہیں،بھارت تقسیم ہورہا ہے،وہاں ایک بڑا المیہ جنم لے رہا ہے،برصغیر کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار نوجوانوں کو قرضے اور وظائف دیئے گئے، شلٹرہومز اورغریبوں کےعلاج معالجے کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈ فراہم کئے گئے۔