قائمہ کمیٹی خزانہ کاوزارت توانائی پربرہمی کا اظہار
فائل فوٹوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے وزارت توانائی پربرآمدی شعبے کی سبسڈی ختم کرنے پربرہمی کا اظہار کیا۔کمیٹی کا کہنا تھا کہ غلط پالیسی سے برآمدی شعبے کو تباہی پرلاکھڑا کیا ہے۔ قائم مقام چیئرمین ایف بی آرکا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کی شرط تاجر برادری کی مشاورت سے عائد کی گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس فیض اللہ کاموکا کی صدارت میں ہوا۔
کمیٹی نے برآمدی سیکٹر کےلئے بجلی پر سبسڈی کے خاتمے پراظہاربرہمی کیا۔
چیئرمین کمیٹی کاکہنا تھا کہ مختلف وزارتوں کے درمیان رابط نہ ہونے کے باعث معاملات خراب ہوئے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے معاملے پرفیصلہ تک سبسڈی ختم نہیں کی جا سکتی۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ ای سی سی کے فیصلے تک نہ واجبات کی ادائیگی کا نوٹس دیا جائے نہ اضافی بل بھیجے۔
قائم مقام چیئرپرسن ایف بی آرنے کمیٹی کو بتایا کہ ٹریڈرزسے مذاکرات کے بعد شناختی کارڈ کی شرط رکھی کارخانے سے صارف تک چیزپہنچانے کا ٹریل ہمارے پاس نہیں ہے۔اس ٹریل تک پہنچنے کےلئے شناختی کارڈ کی شرط رکھی ہے۔ شناختی کارڈ کی شرط صرف ان 40 ہزارافراد کےلئے ہے جوسیلزٹیکس رجسٹرڈ ہیں۔
حامد سرورممبرایف بی آرکا کہنا تھا کہ تاجراپنی سیل نہیں بتانا چاہتا وہ ہر صورت چھپانا چاہتا ہے۔
صدرفیصل آباد چیمبرکا کہنا تھا کہ کمپنی کوپابند کیاجائے کہ صرف سیلز ٹیکس رجسٹریشن کو ہی مال بیچا جائے۔وزارت بجلی کے متعلقہ حکام کوکمیٹی میں پیش کیا جائے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔