آئین کے آرٹیکل 25 میں ترمیم کا بل متفقہ طور
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائےقانون نے آئین کے آرٹیکل 25 میں ترمیم کا بل متفقہ طورپرمنظورکرلیا۔کمیٹی نے اردو کے نفاذ کے قومی دن پر متفقہ قرارداد بھی منظورکرلی۔ نیب آرڈیننس بحث کےلئے آئندہ اجلاس تک موخرکردیا گیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا اجلاس ریاض فتیانہ کی صدارت میں ہوا۔
کمیٹی نے امجد نیازی کی درخواست پر لیگل پریکٹیشنر اینڈ بار کونسل ترمیمی بل پر بحث آئندہ اجلاس تک موخرکردی جبکہ آئین کے آرٹیکل 89 میں ترمیم پر عبدالقادر پٹیل کا بل بھی موخر کردیا۔
نفیسہ شاہ نے کہا کہ بل میں بنیادی حقوق سے متعلق تمام امتیازات کوختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 25 میں ترمیم کا بل متفقہ طورپرمنظورکرلیا۔بل کی تمام شقوں کی منظوری آئین سے کہیں بھی متصادم نہ ہونے سے مشروط ہوگی۔
مسلم لیگ ن کے رکن کھیسومل داس نے ملک کی مختلف مادری زبانوں کا بل پیش کیا۔
وزارت قانون نے اردو کے علاوہ بھی مادری زبانوں کوقومی زبانیں قرار دینے کی مخالفت کردی۔سیکریٹری قانون نے کہا کہ اردوکے عملی نفاذ کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نیب کی متعدد شقوں کوغیراسلامی قرار دیاجا چکا ہے۔
نیب آرڈیننس پر بحث اور مزید غور کے لئے آئندہ اجلاس تک موخر کردیا گیا۔
نیب کی جانب سے کی گئیں گرفتاریوں اور ریفرنس دائر کرنے پر ارکان کمیٹی پھٹ پڑے۔
ملک فاروق اعظم نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیئے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔