سینیٹ میں بھی زینب الرٹ بل 2020 منطوری دے دی گئی

شائع 04 مارچ 2020 02:39pm
فائل فوٹو

قومی اسمبلی کےبعد سینیٹ میں بھی زینب الرٹ بل 2020 منطوری دےدی گئی اوربچوں کراغواء انکےساتھ زیادتی کرنے والوں کوعمر قید ہوگی۔مقدمہ درج نہ کرنےوالےپولیس اہلکاربھی جیل جائیں گے۔

سینیٹ اجلاس کی صدارت چیئرمین صادق سنجرانی نے کی۔وزیر پارلیمانی اموراعظم سواتی نے زینب الرٹ بل پیش کیا تو اپوزیشن نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔

سراج الحق، جاوید عباسی، مصطفی نواز کھوکھر اور اپوزیشن کے دیگر اراکین نے کہا کہ تین ہزار سات سو سے زائد بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔بچوں کے ساتھ زیادتی کے ساتھ قتل کیا جاتا ہے۔موت کی سزا ختم کر کے عمر قید میں تبدیل کرنا غلط اقدام ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ رولز ہیں کہ دو دن میں رولز میں ترمیم کر کے دے دیتے۔آپ ترمیم لائیں ایوان میں پیش کریں میں منظور کر لونگا۔

قائد ایوان شبلی فراز ،شفقت محمود اور دیگر حکومتی اراکین نے کہا کہ یہ بل پیش ہوا پھر کمیٹی کو بھیجا گیا۔ساری قوم اس بل کی طرف دیکھ رہی ہے۔یہ بل پاس تو کریں اس میں کوئی کمی ہے اسے دور کر لینگے۔بل پیش کیا گیا تو اس کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی۔اس بل کی منظوری کے بعد پولیس ایسے کیسز میں کاروائ کی پابند ہو گی ۔ہم نے دو گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرنے کی تجویز دی ہے۔اگر کوئی پولیس والا مقدمہ درج نا کرے تو اسے دو سال کی سزا اور ایک لاکھ کا جرمانہ ہوگا۔

بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم کی سزائیں، سزائے موت سے لے کر عمر قید اور یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم سات سال قید کی سزا ہوگی۔

بل قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کر کے 'زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی' ہوگا،بل  کسی بھی بچے کے اغوایاجنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہو گی۔پولیس بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کا پابند ہوگی۔

سینیٹ میں میڈیکل ٹرینوبل بل، پاکستان میڈیکل کمیشن بل اور ٹیکس قوانین منی بل پیش کئے گئے۔تینوں بلز اعظم سواتی نے پیش کئے جسے مذکورہ بلز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیے گئے۔