سرعام پھانسی دینےسےمعاملات ٹھیک نہیں ہوں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹواسلام آباد:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے سرعام پھانسی دینے سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے،رویئے بدلنا ہوں گے، بچوں پر تشدد اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے گلوکار شہزاد رائے کی تعلیمی اداروں میں بچوں پر جسمانی تشدد کے خلاف درخواست پرسماعت کی۔
چیف جسٹس کے استفسار پر وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بتایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بچوں کوسزا پر پابندی کی مخالفت کی ہے۔
عدالتی حکم پر شہزاد رائے نے آئین کا آرٹیکل 89 پڑتے ہوئے بتایاکہ آرٹیکل 89 بچوں کے ورثا کو اچھی نیت کے ساتھ تشدد کی اجازت دیتا ہے تاہم والدین یا بچوں کے ورثا کو یہ حق کیسے دیا جاسکتا ہے۔
وفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہاکہ عدالت ڈائریکشن دے کہ بچوں پرتشدد غیرقانونی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 89 کو کالعدم قرار دینے کی ضرورت نہیں ، اسلام بچوں پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا،97 فیصد مسلمانوں کو شرمسار ہونا چاہیے کہ بچوں پرتشدد کیا جاتا ہے ،سرعام پھانسی دینے سے نہیں بلکہ انسانی رویے تبدیل کرنے سے معاشرہ ٹھیک ہوگا۔
شہزاد رائے نے بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی کابینہ گزشتہ سال مارچ میں بچوں پر تشدد روکنے کا بل منظور کرچکی لیکن اب تک پارلیمنٹ کو ارسال نہ کیا جاسکا۔
عدالت نے وزارت قانون سے وفاقی کابینہ سے منظور شدہ بل پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کی وجوہات طلب کرلی۔
عدالت نے وزارت قانون کو افسر مقرر کر کے 12 مارچ تک وجوبات بیان کرنے کی ہدایت کردی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ 30 مارچ کو بچوں پرتشدد روکنے سے متعلق دائر درخواست کا فیصلہ سنا دیا جائیگا۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔