کراچی میں کل عمارت گر گئی لیکن سب سکون سے سوتے رہے،چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 06 مارچ 2020 02:33pm
فائل فوٹو

کراچی :چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں کل عمارت گر گئی لیکن سب سکون سے سوتے رہے، کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

گولیمار میں عمارت گرنے کے واقعے پر چیف جسٹس کے ریمارکس نے عدالت میں لوگوں کو افسردہ کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے کراچی رجسٹری میں تجاوزات کیخلاف درخواستوں ،کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی سمیت اہم مقدمات کی سماعت کی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے گفتگو کے دوران کہا کہ کراچی میں عمارت گرنے سے کئی لوگ جان سے گئے لیکن آپ سب سکون سے سوتے رہے،کس کے کان پر جوں رینگی ؟ جوں رینگنا سمجھتے ہیں آپ؟  نیوزی لینڈ میں واقعہ ہوا تو وہاں کی وزیر اعظم ایک ہفتہ تک نہیں سوئی تھیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے پلاٹس پر اونچی عمارتیں  بنا دیتے ہیں،جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ہم نے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی  کی ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا یہ سب دکھاوے کیلئے کارروائی کی گئی ہے  ، ہم نے کہا تھا غیر قانونی تعمیرات کا مکمل ریکارڈ دیں اس کا کیا ہوا ؟جس پر  ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا وہ رپورٹ تیار کرلی ہے ۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ  تاثر یہ بھی کہ ایس بی سی اے کے افسران کو بچانے کیلئے ہی معطل کیا گیا ہے ،معطل افسران کا بعد میں کیا ہوتا ہے سب کو معلوم ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ  سندھ حکومت بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہی ہے، دو سال میں سندھ حکومت  کی ڈیولپمنٹ آپ دیکھیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس  دیئے کہ کراچی شہر کے بارے میں آپ کو کیا معلوم ہے؟کچھ بھی نہیں،6ماہ میں مکمل ہونے والا کام 10سال میں بھی مکمل نہیں کرتے ،لوگوں کو خواب دکھاتے رہتےہیں،عوام کی زندگی خراب کردی ہے،انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے،ملک سے محبت ہے کسی کو؟جب تک بڑاڈنڈانہیں آتاکوئی کام نہیں کرتا،کراچی میں کچھ ہوئےبغیر لوگ مررہےہیں؟

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ گرین لائن اور اورنج لائن مکمل ہوچکی ہے،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا پیش کردہ نقشہ اور رپورٹ واپس کردی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اس طرح کے نقشے نہ لایا کریں، ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔