سپریم کورٹ کاکراچی سرکلرریلوےکو1995 کی سطح پر بحال کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 06 مارچ 2020 11:14am
فائل فوٹو

کراچی:سپریم کورٹ نے سرکلر ریلوے کو سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز کرنے کی مسترد  کرتے ہوئے کراچی سرکلر ریلوے کو 1995کی سطح پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کراچی سرکلرریلوے کی بحالی سے متعلق اہم اجلاس ہوا،جس میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ، اٹارنی جنرل، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری ریلوے سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔

سپریم کورٹ کے لارجربینچ کووفاقی اورصوبائی حکومتوں کی جانب سے کراچی سرکلر ریلوےکی بحالی سے متعلق بریفنگ دی گئی ،اس دوران سرکلر ریلوے بحالی سے متعلق مختلف آپشنز پرغور کیا گیا۔

بریفنگ میں اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے لارجر بینچ کو بتایا کہ سرکلر ریلوے کے 24 دروازوں میں سے 14 دروازےمسئلہ بن گئے ہیں، 14 دروازوں پرسے  تجاوزات ہٹانا ممکن نہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا سندھ حکومت نے سپریم کورٹ کو تجویز دی کہ 14 دروازوں پر بالائی گزرگاہیں بنائی جاسکتی ہیں، 1995 کی سرکلرریلوےبحال کی توبہت کچھ ختم کرناہوگا، گرین لائن اور اورنج لائن سب منصوبےختم کرنا پڑیں گے، عدالت سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے پلان پرغورکرے۔

اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل  سندھ کی بریفنگ سننے کے بعد کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک کا حصہ بنانے کی تجویز سپریم کورٹ نے مسترد کردی۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے حکم میں کہا کہ سرکلر ریلوے کو 1995کی سطح پر بحال کیا جائے اورراہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں ۔

عدالت نے وفاقی حکومت اور وزارت ریلوے کو فنڈز فراہم کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گرین اور اورنج لائن منصوبوں کو مکمل کیا جائے،ان منصوبوں کیلئے انڈرپاسز اور فلائی اوورزبنائیں،سرکلرریلوےکی بحالی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

  سپریم کورٹ نے کراچی کیلئے سی پیک منصوبہ بھی جاری رکھنے کا حکم دیتےہوئے کہا کہ سی پیک منصوبہ آپ جاری رکھیں اس سےہمارا کوئی تعلق نہیں، ہمیں کےسی آربحال چاہیئے۔

عدالت نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کا مکمل منصوبہ اورشیڈول بھی 26 مارچ کو طلب کر لیا ۔