گندم اور آٹا بحران، سندھ اور پنجاب حکومت ذمہ دار قرار
فائل فوٹوسینیٹ کی نیشنل فوڈ سیکیورٹی کمیٹی نے گندم اور آٹا بحران کی ذمہ دار پنجاب اور سندھ حکومتوں کو قرار دے دیا۔ 2019میں پاسکو اور صوبائی فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے ٹارگٹ سے 35فیصد کم خریداری کی۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کی جانب سےسرکاری سطح پر گندم خریدی ہی نہیں گئی۔نجی شعبےنےگندم کی زیادہ خریداری کرکے اِس کی ذخیرہ اندوزی کی۔
سینیٹ کمیٹی کے مطابق گندم اور آٹے کے بحران کی ذمہ دار پنجاب اور سندھ حکومت ہے۔
کمیٹی کی رپورٹ جس کے مطابق پاسکو اور پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے ٹارگٹ کے باوجود 35 فیصد کم گندم خریدی۔ گندم کے ذخائر کم ہونے کے باوجود پولٹری سیکٹر کو 600سے 700ٹن گندم فراہم کردی۔
پنجاب میں حکومتی سطح پر تاخیر اور کم ریٹ کی وجہ سے گندم کی پیداوار کا بڑا حصہ پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے خریدا گیا۔
سندھ حکومت جو ہر سال14سے15لاکھ ٹن گندم خریدتی ہے۔گزشتہ سال کے دوران سندھ حکومت نے ایک دانہ نہیں خریدا۔سندھ کی ساری گندم پرائیویٹ شعبے کی جانب سے خریدی گئی۔
صرف سندھ اور پنجاب ہی نہیں بلوچستان اور خیبرپختونخوا نے بھی کسرنہیں چھوڑی۔2019میں سرکاری سطح پر گندم کی خریداری نہیں کی۔
گندم کی سرکاری اور مارکیٹ کی قیمت میں بہت زیادہ فرق پڑا۔اسی وجہ سے نجی شعبے نے گندم کی زیادہ خریداری کرکے ذخیرہ اندوزی کرلی۔
کمیٹی نے صورتحال سے نمٹنے کےلئے 19 سفارشات بھی پیش کردی ہیں۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔