قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل کی منظوری دے دی

شائع 11 مارچ 2020 10:50am
فائل فوٹو

اسلام آباد:قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل کی منظوری دے دی ، بل کی منظوری سینٹ کی طرف سے پاس کردہ ترمیم کے ساتھ دی گئی، اجلاس میں 3بل بھی متعارف کروائے گئے ۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں میزاری نے سینٹ کی منظور کردہ صورت میں گمشدہ اور اغوا شدہ بچوں کیلئے الرٹ کو بڑھانے، جوابی ردعمل اور بازیابی کے لئے احکامات وضع کرنے کا بل پیش کیا،بل کا دائرہ کار پورے پاکستان تک ہوگا۔

جماعت اسلامہ کے مولانا عبد الاکبر چترالی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بل میں بچوں سے زیادتی کی سزا پھانسی کو بھی شامل کیا جائے، بچوں پر زیادتی کے سزا پھانسی نہ رکھ کر درندوں کو شہہ دی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمدآصف کا کہنا تھا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات قانون سازی این جی اوز کیلئے کی جاتی ہے، پورا ملک تو درکنار اسلام آباد کے بلیو ایریا میں بچے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، قانون کو دانت دیں جو عمل بھی کرسکے، ایوان نے کثرت رائے سے بل منظور کرلیا۔

پارلیمانی امور کیلئے وزیرمملکت علی محمد خان نے موشن پکچرز آرڈیننس 1979 میں ترمیم کا بل، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کاروپوریشن آرڈیننس2002میں ترمیم کا بل اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ایکٹ 1973میں مزید ترمیم کے بل ایوان میں متعارف کروائے۔