سی ای اوپی آئی اےایئرمارشل ارشدملک کو فرائض جاری رکھنے کی اجازت

اپ ڈیٹ 18 مارچ 2020 10:46am
فائل فوٹو

اسلام آباد: سی ای او پی آئی اے ایئرمارشل ارشد ملک کوفرائض جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ، سپریم کورٹ نے پی آئی اے سے مستقبل کا بزنس پلان طلب کرلیا ۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے سی ای او پی آئی اے ایئر مارشل ارشد ملک کی تعیناتی کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے پی آئی اے کے بارے میں کوئی ایک چیز بتائیں جو اچھی ہو، پی آئی اے لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہا ہے،کیا اس کوبند کردیں؟ ، ہرخراب چیز ایئرپورٹ پرنظرآتی ہے ۔

جسٹس گلزار احمد  نے مزید کہا کہ پی آئی اے، اے ایس ایف اور کسٹم والے لوگوں کو سہولیات دینے میں ناکام ہو چکے ہیں، پی آئی اے میں کوئی پروفیشنلزم نظر نہیں آتا۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ کراچی ایئرپورٹ پر خستہ اور خراب حالات میں جہاز کھڑے ہوئے ہیں، اگر خدا نخواستہ حادثہ ہو گیا تو لوگوں کا کیا ہوگا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم بھی ایک ادارہ ہیں، لوگوں کے مسائل حل کرنا ہمارا کام ہے، پی آئی اے کو کس طرح چلانا ہے ہمیں پتہ ہے، پی آئی اے کے علاوہ بھی کمپنیاں اچھا کام کررہی ہیں۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اپنے دلائل میں کہا کہ امریکی صدر کی اہلیہ نے جب پی آئی اے پر سفر کیا انہوں نے فلائٹ کو بہترین قرار دیا تھا، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت پی آئی اے کا انتظام ایئرمارشل نورخان اور ایئر مارشل اصغر خان جیسے لوگوں کے ہاتھ میں تھا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ 9 سالوں میں پی آئی اے کے 12سربراہ تبدیل ہو چکے ہیں،  ایئر مارشل ارشد ملک اچھے اور قابل انسان ہیں۔

اس دوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں ادارے کا مستقل 3 سال کے لیے سربراہ چاہیے جو ادارے کو بہتر کر سکے، اس ادارے میں ایک حکومت اپنے بندے بھرتی کرتی ہےاور دوسری آکر نکال دیتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے مزید کہا کہ نکالے جانے والے بعد میں ترقی اور رقوم کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کو پھر تیسری حکومت لاکھوں روپے دے دیتی ہے، کچھ لوگ آتے ہیں سہولیات لے کر غائب ہوجاتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے اس دوران استفسار کیا کہ کوئی بھی ادارہ یونین کودیں گے تو وہ بند ہی ہوجا ئے گا، پھر کون ذمہ دار ہوگا؟۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ ہم اپنے گھر میں ایک ملازم اپنی بساط سے زیادہ نہیں رکھتے، اگر گھر کا ملازم ایک گلاس پانی دیر سے پہنچاتا ہے تو اس کو نکال دیتے ہیں، پی آئی اے تو ہمارا ادارہ ہے اس کےساتھ نازیبا سلوک کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے بینچ کے ریمارکس سے اتفاق کیا اور کہاکہ  نے مزید کہا کہ پی آئی اے کے ملازمین نے ایک سابق سربراہ کو واش روم میں بند کردیا، اسٹیل مل کی حالات ہمارے سامنے ہیں،جس کی حالت خراب ہے، پی آئی اے ایک قومی ادارہ ہے، پورےپاکستان کو اس پر فخر ہے۔

 عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سی ای او ایئرمارشل ارشد ملک کو فرائض جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ نے پی آئی اے مینجمنٹ اور سی بی اے یونین سے ایک ماہ میں مستقبل کا بزنس پلان طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔