سینیٹ میں کورونا پر بحث:حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر الزامات
فائل فوٹواسلام آباد:سینیٹ کے اجلاس میں کورونا کی صورتحال پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ وزیراعظم اجلاس میں نہیں آئے ،وہ کیا کر رہے ہیں پتا تو لگے، کہتے ہیں سیاست نہ کرو، جیسے سیاست گالی ہے،ہم تو سیاست کریں گے، یہ ہمارا کام ہے، پالیسی یکساں ہونی چاہیئے۔
مشاہد اللہ خان نے مزید کہا کہ آپ ایک اعلان کرتے ہیں اور آپ کے وزرائےاعلیٰ برعکس اقدمات کرتے ہیں ،آپ کہتے ہیں اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کیا، یہ کہنا بے بسی کی انتہا ہے، کورونا بحران کے دوران ہی چینی گندم کےاسکینڈل آرہے ہیں جس میں حکومت کے لوگ ملوث ہیں۔
سینیٹر مشاہد اللہ نے حکومت کو بلال بھٹو، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان سمیت پارلیمانی لیڈروں سے رابطہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وبا ءپھیلی ہے اور آپ کرپشن میں لگے ہیں، رمضان میں تو کرپشن چھوڑ دیں، حکومت قومی اتفاق رائے پیدا کرے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس وبا کے دوران بھی ہماری قیادت ایک پیج پر نہیں آسکی، اتنی شدید وبا میں بھی ہم نے ملاوٹ اور کرپشن کو نہیں چھوڑا،پاکستان ایٹمی طاقت ہے مگر پھر بھی 22 کروڑ عوام کیلئے1300 وینٹی لیٹر موجود ہے، ہم وبا سے لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کو فتح کرنے پر لگے ہیں ، ہم نے چہرے پر ماسک تو لگائے ہیں لیکن زبان کو تالے نہیں لگائے۔
وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ امید ہے کہ عمران خان کی قیادت میں ہم اس بحران سے بھی نکل جائیں گے،بازاروں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی دیکھ رہے ہیں، دو تین مہینوں کی بات ہے ،غیرذمہ داری کا ثبوت دیا گیا تو ہمارا انجام اچھا نہیں ہوگا، عوام احتیاط اور ایس او پیز پر عمل کریں،نہیں تو ایک بار پھر دکانیں بند ہوجائیں گی۔
شبلی فراز کا مزیدکہنا تھا کہ اپوزیشن بتائے کیا ہم پورے ملک میں لاک ڈاوٴن کرفیو لگا دیں؟ اجلاس بلا کر اپوزیشن لیڈر اجلاس میں آئے کیوں نہیں؟ کل شہزاد اکبر نے بھی دس سوال پوچھے جواب نہیں آئے، جب ان سے سوال پوچھے جاتے ہیں تو یہ کہتے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اپوزیشن چاہتی ہے کہ معیشت تباہ ہوجائے اور ان کو این آر او مل جائے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔