'حکومت کی ناتجربہ کاری نے چیزوں کو خراب کیا'
فائل فوٹومسلم لیگ ن کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت کو کورونا سے مسائل کا سامنا ہے تاہم کوئی نیا ٹیکس لگانا یا سیلز ٹیکس میں اضافہ پاگل پن ہوگا۔حکومت کو اپنا خرچا کم کرنے پر توجہ دینی چاہیئے۔
سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی کیپ کے زیراہتمام دوسرے ویبی نار میں گفتگو کرتے ہوئے کہاحکومت کی ناتجربہ کاری نے چیزوں کو خراب کیا۔
سابق وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آنے والی ہر حکومت پچھلی حکومت کی کسی اچھی پالیسی پر عمل نہیں کرتی۔
جب تک نئی حکومت معاملہ سمجھتی ہے ڈیڑھ دو سال گزر جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ فیصد شرح سود بھی بہت زیادہ ہے،حکومت کو اس پر بھی غور کرنا چاہیئے۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق کورونا کی وجہ سے معیشت دباؤ کا شکار ہے۔حکومت کاروبار اور غریب طبقے کے حالات درست کرنے پرتوجہ دے۔
لیگی رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے ایک اعشاریہ چار بلین ڈالر کا ملنااور دو بلین ڈالر کی ادائیگی میں رعایت فائدہ مند ہے۔پاکستان کی درآمدات میں چھہ سو ملین ڈالر کی کمی ہوئی۔جس کا براہ راست فائدہ معیشت کو ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال میں حکومت کا کوئی قصور نہیں لیکن حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔حکومت چاہے تو خود کو ری آرگنائز کرسکتی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ہمت کا مظاہرہ کرے اور اسٹیل ملز جیسے خسارے میں چلنے والے ادارے اگر بک جائیں تو ٹھیک ورنہ انہیں بند کردےتاکہ حکومت پر موجود دباؤ کم ہوسکے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔