Aaj TV News

BR100 4,346 Decreased By ▼ -9 (-0.2%)
BR30 22,083 Decreased By ▼ -142 (-0.64%)
KSE100 41,806 Decreased By ▼ -70 (-0.17%)
KSE30 17,659 Decreased By ▼ -16 (-0.09%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 308,217 799
DEATHS 6,437 5

امریکی محققین کی ایک ٹیم نے بتایا ہے کہ این 95 ماسک اور چہرے پر لگائی جانے والی حفاظتی اسکرین یا شیلڈ نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان چیزوں کے عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر استعمال سے کورونا وباء کو روکنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی (FAU) کے شعبہ 'انجینیئرنگ اینڈ کمپیوٹر سائنسز‘ کے محققین کی طرف سے لیبارٹری میں کی جانے والی اس ریسرچ کا مقصد چہرے پر لگائی جانے والی اسکرینز اور والوو والے ماسک کی افادیت کا جائزہ لینا تھا۔ اس ریسرچ کے نتائج تحقیقی جریدے 'فزکس آف فلوئڈز‘ میں منگل یکم ستمبر کو شائع ہوئے۔

اٹلانٹک یونیورسٹی، فلوریڈا کی تحقیق

محققین نے اس مقصد کےلئے لیزر روشنی کا استعمال کیا جبکہ کھانسی یا چھینکنے کی صورت میں ہمارے ناک یا منہ سے نکلنے والے مہین قطروں یا ڈراپ لیٹس جیسی صورتحال کے لئے پانی اور گلیسرین کے مرکب کو استمعال کیا گیا۔

اس تحقیق کےنتائج کے مطابق چہرے پر لگائی جانے والی شیلڈ یا اسکرین چھینکنے یا کھانسنے کی صورت میں ڈراپ لیٹس کے اولین جیٹ یا پریشر کو تو روک لیتی ہے مگر یہ باریک قطرے نسبتاﹰ زیادہ پھیل جاتے ہیں اور اس کا انحصار ارد گرد کی صورتحال پر ہوتا ہے۔

اسی طرح چہرے کےایسے ماسک جن میں والوو لگا ہوتا ہے جیسے این 95، ان میں سے ڈراپ لیٹس کی بہت بڑی تعداد فلٹر ہوئے بغیر ہی گزر جاتی ہے جس کی وجہ سے اس وائرس کے خلاف ان کی افادیت بہت کم ہو جاتی ہے۔

فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کے شعبہ 'مکینیکل اینڈ اوشن انجینیئرنگ‘ کے پروفیسر اور اس تحقیق کے مصنف سدھارتھا ورما کے مطابق امریکا میں ''ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ عام لوگوں میں سرجیکل ماسکس کی بجائے چہرے پر پلاسٹک اسکرینز اور والوز لگے ماسکس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں، ''تاہم چہرے کی شیلڈز کے معاملے میں اس کے اطراف اور نیچے کی جانب سے کافی خلا موجود ہوتا ہے جبکہ والوو والے ماسک میں سے جب آپ سانس اندر کھینچتے ہیں تو یہ رکاوٹ کا سبب بنتا ہے مگر جب سانس خارج کرتے ہیں تو اس میں فلٹر ہوئے بغیر ہوا باہر نکل جاتی ہے۔‘‘

اس تحقیق کے بارے میں مزید معلومات تحقیقی جریدے 'فزکس آف فلوئڈز‘ کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ DW.com