Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

گزشتہ دنوں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کی انتظامیہ نے خاتون اسٹاف افسر کے ساتھ ہونے والے مبینہ ہراسگی کے واقعے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے طالبعلم جبرائیل کو بےدخل کردیا۔

آئی بی اے انتظامیہ کی جانب سے طالبعلم کو بے دخل کرنے پر عوام کا سخت ترین ردعمل سامنے آرہا ہے۔ آئی بی اے کو پاکستان کی اعلیٰ جامعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

شوبز شخصیات بھی آئی بی اے کے فیصلے پر حیرت زدہ ہیں۔ اداکارہ ماہرہ خان نے ٹویٹر پر واقعے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ماہرہ کی ٹویٹ پر معروف فیشن ڈیزائنر ماہین خان نے کہا کہ یہ ایک قابل عزت ادارے کے لیے مکمل طور پر ناقابل قبول اور شرمناک ہے۔

پیپلزپارٹی رہنما شرمیلا فاروقی نے بھی جبرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور آئی بی اے یونیورسٹی کے اقدام پر سخت تنقید کی۔

"وائس پی کے" کی رپورٹ کے مطابق 29 ستمبر کو آئی بی اے کراچی نے مبینہ ہراسگی کے واقعے پر آواز اٹھانے والے فائنل ایئر کے ایک طالب علم کو نکال دیا تھا۔

سماجی حقوق کے کارکن اور وکیل جبران ناصر نے آئی بی اے کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

بی ایس اکنامکس کے طالب علم جبرائیل نے مالیاتی شعبے کے ایک افسر کے خلاف عینی شاہد کے طور پر ایک پوسٹ شئیر کی، جس کے مطابق وہ افسر دفتر کی ایک خاتون پر چیخ رہے تھے۔ ان کی 25 اگست کی فیس بک پوسٹ کے مطابق افسر نے خاتون کو مبینہ طور پہ دھمکی دی اور کہا کہ وہ ان کو رات گئے تک کام کرنے پر مجبور کریں گے۔

جبرائیل کے مطابق پوسٹ وائرل ہونے کے بعد ، آئی بی اے اانتظامیہ نے مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے افسر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے جبرائیل کو پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کا حکم دیا، اس سے عوامی معافی جاری کرنے کے لیے بھی کہا گیا، اور عدم تعمیل کی صورت میں اسے یونیورسٹی سے بے دخل کرنے کی دھمکی دی گئی۔

دریں اثنا، اگرچہ خاتون ملازمہ نے ستمبر کو ہراساں کرنے کی درخواست بھی دائر کی لیکن ابھی تک اس کے بارے میں کوئی خاص پیش قدمی سامنے نہیں آئی۔

وائس پی کے نے قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خاتون کا تبادلہ کسی دوسرے شعبے میں کر دیا گیا ہے جبکہ مبینہ ملزم ابھی تک اپنے عہدے پر فائز ہے۔

آئی بی اے کے افسر جن پہ مبینہ ہراسانی کا الزام لگایا گیا ہے وہ ضرورت مند طلباء کے مالی معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔