Aaj.tv Logo

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کیلئے پنجاب بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے جبکہ متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ سے ایک روز قبل پنجاب میں پی ٹی آئی کیخلاف صوبائی حکومت نے بڑا کریک ڈاؤن کیا، مختلف شہروں میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ۔

پی ٹی آئی کے رہنماء حماد اظہر، ولید اقبال، یاسمین راشد، راجہ بشارت اور محمود الرشید سمیت کئی رہنماوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال کہتی ہیں پولیس دروازے توڑ کر گھر میں داخل ہوئی۔

فصلد آباد، گوجرانوالہ، ملتان، سیالکوٹ، سرگودھا اور گجرات سمیت پنجاب بھر مں چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس نے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا، کارکنان کہتے ہیں کہ وہ ہر صورت اسلام آباد پہنچیں گے۔

کچھ شہری پی ٹی آئی لانگ مارچ کو سپورٹ کررہے ہیں مگر بیشتر ایسے دھرنوں کو عوامی مشکلات میں مزید اضافہ قرار دیتے ہیں۔

پولیس کو پی ٹی آئی کے متحرک کارکنوں کی فہرستیں فراہم کی جاچکی ہیں، ذرائع کے مطابق کارکنوں اور رہنماؤں کو جیلوں میں نظر بند کیا جارہا ہے جبکہ گرفتاریاں 16 ایم پی او کے تحت کی جارہی ہیں۔

اس کریک ڈاؤن پر پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بھی برس پڑے ٹوئٹ کیا کہ فاشسٹ حکومت کی ان حرکتوں سے ہچکولے لیتی معیشت مزید بدحال ہوگی، انہوں نے ہینڈلرز پر بھی تنقید کی۔

پی ٹی آئی رہنماء راجہ بشاورت اور مسرت جمشید چیمہ نے بھی حکومت کو وارننگ دی جبکہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ پنجاب پولیس کے گلوبٹوں کو چھوڑیں گے نہیں۔

پولیس ایکشن کا دفاع کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنماء سعد رفیق نے ٹوئٹ کیا کہ کسی کو اسلام آباد یرغمال بنانے کی اجازت نہں دیں گے۔

پنجاب کے بعد کراچی میں بھی پی ٹی آئی کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن

ادھر پنجاب کے بعد کراچی میں بھی پی ٹی آئی کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا گیا ، رکن قومی اسمبلی سیف الرحمان کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مار کر سیف الرحمان کو گرفتار کرلیا۔

کراچی میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، پولیس نے ایم پی اے شاہنواز جدون کے گھر پر چھاپہ مارا تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہں آئی، وہ گھر پر موجود نہیں تھے ۔

پولیس نے ان کے بھائی عبدالرحمان کو گرفتار کرلیا جبکہ رکن سندھ اسمبلی بلال غفار اور ارسلان تاج کے گھر پر بھی پولیس پہنچ گئی۔

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں بھی پولیس نے پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی سیف الرحمان کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کرلیا۔

بلال غفار نے ویڈیو بیان میں بتایا کچھ پولیس نے میرے گھر کا گھیراؤ کیا، میرے گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، امپورٹڈ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج نے وڈیو بیان میں بتایا کہ ہمارے ارکان اسمبلی اور کارکنان کے گھروں پر بغیر وارنٹ کے چھاپے مارے جارہے ہیں، ہمارے ایم این ایز سیف الرحمان اور عطاء اللہ کو گرفتار کیا گیا ۔

پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی شہزاد قریشی کے گھر پر بھی رات گئے سادہ لباس اہلکاروں نے چھاپہ مارا لیکن شہزاد قریشی گھر پر موجود نہیں تھے۔

تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے نمٹنے کی تیاریاں، ریڈ زون کنٹینرز لگا کر سیل

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے نمٹنے کی تیاریاں جاری ہیں، ریڈ زون کو کنٹینرز لگا کر سیل کردیا گیا، 22 ہزاراہلکارتعینات کئے جائیں گے جبکہ ایف سی اورپنجاب پولیس کے اہلکار اسلام آباد پہنچ گئے۔

حکومت نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے تیاری کرلی، پولیس طلب کرلی گئی جبکہ 22 ہزارسیکیورٹی اہلکارتعناٹت کئے جائیں گے ۔

ایف سی کے 1500 اور پنجاب پولیس سے300 اہلکار پہنچ گئے جبکہ 100 کے قریب قیدی وینز بھی تیاری ہیں اور آنسوگیس کے سیل اہلکاروں کے حوالے کردیئے گئے۔

ایوب چوک، ایکسپریس چوک، نادرا چوک اور سرینا چوک سمیت ریڈ زون سیل کردیا گیا، داخلہ صرف مارگلہ روڈ سے ہوگا۔

شیخ رشید، بابراعوان، راشد شفیق ، راجہ بشارت سمیت دیگررہنماؤں کیلئے رات گئے چھاپے بھی مارے گئے تاہم گرفتاری عمل میں نہیں آئی، 44 کارکنان رحراست میں لئے گئے ۔

وزارت داخلہ کی پولیس کو لانگ مارچ سے سختی سے نمٹنے کی ہدایات

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے وزارت داخلہ نے پولیس کو لانگ مارچ سے سختی سے نمٹنے کی ہدایات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاری کا بھی حکم دے دیا۔

گرفتاریوں کیلئے فہرستیں تیار کرلی گئیں اور کارکنوں کی فہرستیں متعلقہ تھانوں کو فراہم کردی گئیں۔

فہرستوں میں 350 کارکنوں کے نام شامل ہیں، لاہور کے خارجی راستوں پر بھی پولیس کی نفری بڑھادی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کو تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاری کیلئے احکامات موصول ہوگئے، پی ٹی آئی رہنماؤں کو آج رات گرفتار کئے جانے کا امکان ہے۔