Aaj News

شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف سینیٹ میں اپوزیشن کا شدید احتجاج

شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے باعث چیئرمین سینیٹ نے اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔
اپ ڈیٹ 19 اگست 2022 03:28pm
<p>پی ٹی آئی کے سینیٹرز بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں آئے۔
فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل</p>

پی ٹی آئی کے سینیٹرز بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں آئے۔ فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل

اپوزیشن کے احتجاج کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف سینیٹ میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور چیئرمین کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔

چیئرمین صادق سنجرانی نے سینیٹ اجلاس کی صدارت کی، اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں آئے۔

بغاوت کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کے معاملے پر سینیٹ میں اپوزیشن نے احتجاج کیا، جس کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا۔

شہباز گل کی گرفتاری اور تشدد کا معاملہ سینیٹ میں آیا تو اپوزیشن کی طرف سے تشدد نامظور اور فاشسٹ حکومت نامنظور کے نعرے گونجتے رہے۔

پیپلز پارٹی کی رہنماشیری رحمان نے کہا کہ جو تصاویر دکھائی گئی ہیں ان میں تشدد نہیں کیا گیا۔

شیری رحمان کی تقریر کے دوران اپوزیشن کے اراکین نے نہ صرف شور شرابا کیا بلکہ نعرے بازی کرتے رہے۔

چیئرمین سینیٹ نے نعرے بازی روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ اپنی نشستوں پر نہیں جائیں گے تو اجلاس کی کاروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دوں گا۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ شہباز گل کو بغیر آکسیجن کے اسپتال سے عدالت منتقل کیا گیا اور آج صبح جو تشدد کیا گیا وہ ضمیر جنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، شہباز گل عدالت میں دہائی دیتا رہا، کل سینیٹ کا وفد پمز گیا، ہم ان کی صحت بارے جاننا چاہ رہے تھے، ہمیں شہباز گل سے ملنے نہیں دیاگیا۔

شہزاد وسیم نے مزید کہا کہ فئیر ٹرائل ضرور کریں لیکن انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ کریں ۔

مرتضیٰ جاوید عباسی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے معیشت تباہ کردی، اب سیاسی ماحول کو برباد کر رہے ہیں۔

اس دوران اپوزیشن کا شور شرابا اور احتجاج جاری رہا، چئیرمین سینیٹ نے اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

Comments are closed on this story.