Aaj News

‘پی ٹی آئی کو کہا تھا اسمبلی جا کر کردار ادا کریں لیکن انہوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے’

اسمبلی میں موجود ارکان کو اپنے فائدے کی قانون سازی نہیں کرنا چاہیئے، جسٹس عمر عطا بندیال
شائع 19 اگست 2022 02:31pm
<p>عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔
فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل</p>

عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ پی ٹی آئی کو کہا تھا اسمبلی جا کر کردار ادا کریں لیکن انہوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے تحریری دلائل جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی، صرف بنیادی حقوق کے خلاف ترامیم ہونے کے نکتے کا جائزہ لیں گے، ترامیم احتساب کے عمل سے مذاق ہوئیں تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ،اکثرترامیم میں ملزمان کو رعایتیں بھی دی گئی ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ پلی بارگین کرنے والے کےشواہد کوہی ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے، فوجداری نظام میں گرفتاری کی ممانعت نہیں ہے، گرفتاری جرم کی نوعیت کےحساب سے ہوتی ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ ملزمان بری ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی ان کےداغ نہیں دھلتے،اعلیٰ عدلیہ نیب عدالت کی سزائیں برقرارنہیں رکھتی۔

چیف جسٹس نےکہاکہ ملک غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے، سابقہ حکومتی جماعت کے150 ارکان اسمبلی بائیکاٹ کرکے بیٹھے ہیں، پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ اسمبلی جاکر اپنا کرداراداکریں، آدھے ارکان نے اسمبلی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، اسمبلی میں موجود ارکان کو اپنے فائدے کی قانون سازی نہیں کرنا چاہیئے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی، تحقیقات میں مداخلت پر ازخودنوٹس لیا تھا، ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ لے کر صرف دیکھ رہے ہیں کہ کیسز چلتے ہیں یا نہیں، آئین کے تحت چلنے والے تمام اداروں کو مکمل سپورٹ کریں گے، عدالت غیر معمولی حالات میں کیس سن کر مزے نہیں لے رہی۔

وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ ہمیشہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کی مثال اس حوالے سے درست نہیں لگتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اعلی عدلیہ اپنے فیصلوں میں نیب قانون پر تنقید کرتی رہی ہے، 90 دن کا ریمانڈ کہیں نہیں ہوتا، فوجداری کیسز میں 14 دن سے زیادہ کا ریمانڈ نہیں ہوتا، کرپشن پر سزا کی شرح جاپان میں 99 فیصد ہے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نےکہاکہ عدالت کے باہر سیاسی موسم تبدیل ہوتا رہتاہے،کیاسیاسی موسم کا عدالت کےاندر اثرہوناچاہیئے؟کیاعدالت میں صرف آئین اور قانون کا موسم نہیں رہنا چاہیئے؟۔

بعدازاں سپریم کورٹ میں کیس کی مزید سماعت یکم ستمبرتک ملتوی کردی گئی۔

Comments are closed on this story.