Aaj News

گیزر کی اقسام اور طریقہ استعمال

گیس کے دو اقسام کے گیزر لگائے جاتے ہیں۔
شائع 18 اکتوبر 2022 03:47pm
<p>فوٹو (اے پی پی )</p>

فوٹو (اے پی پی )

سردی کے موسم میں پانی گرم کرنے کیلئے گیزر کا استعمال بڑھ جاتا ہے، اس مقصد کے لیے کئی اقسام کے واٹر ہیٹر استعمال کیے جاتے ہیں ان میں‌ لوہے کی چادر کے بنے ہوئے لکڑی جلا کر پانی گرم کرنے والے پرانی طرز کے گیزر بھی استعمال ہوتے ہیں۔

جن شہری علاقوں میں‌ سوئی گیس نہیں‌ وہاں‌ بجلی سے چلنے والے گیزر بھی لگائے جاتے ہیں اور ان کی وجہ سے بجلی کا بل بھی زیادہ آتا ہے۔

جہاں‌ گیس موجود ہے وہاں‌ دو اقسام کے گیزر لگائے جاتے ہیں، ایک تو سٹینڈ والا گیزر ہے جو لکڑی اور بجلی سے چلنے والے گیزر کی طرح‌ لوہے کی چادر سے بنتا ہے اور پھر اس کے اوپر انسولیشن کرکے سٹیل چادر کا مزید ایک کور چڑھا دیا جاتا ہے جس پر پینٹ وغیرہ کرکے اسے خوشنما بنایا جاتا ہے ۔ اس کے نچلی سائیڈ پر ایک بڑا گیس برنر لگایا جاتا ہے جو آٹومیٹک سوئچ کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اور مخصوص درجہ حرارت تک پانی گرم ہو جانے پر خود بخود بند ہو جاتاہے اس کے ساتھ چھوٹا سا پائلٹ ہوتا ہے جو ہر وقت آن رہتا ہے اور دیئے کی طرح جلتا رہتا ہے جو برنر کو آن ہونے میں‌ مدد دیتا ہے۔

دوسری قسم انسٹینٹ گیزر کی ہے جس میں لمبے‌سلور پائپ کو کئی بل دے کر ایک گچھا سا بنا لیا جاتا ہے اور اس کے نیچے گیس برنرز لگائے جاتے ہیں جن کو آن کرنے کے لیے بیٹری سیل کی مدد سے کرنٹ‌کا سپارک دیا جاتا ہے۔ جب گرم پانی کے لیے مکسر کھولا جاتا ہے تب سپارک کی مدد سے برنر جلنے لگتے ہیں‌اور ساتھ ہی گیس کی سپلائی ملنا شروع ہو جاتی ہےاور سلور پائپ میں‌سے گزرنے والا پانی اس آگ کی وجہ سے گرم ہو کر مکسر تک پہنچنے لگتا ہے۔ جیسے ہی مکسر بند کریں‌تو گیس کی سپلائی بھی بند ہو جاتی ہے اور گیزر آف ہو جاتا ہے۔

اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں‌کہ کون سا گیزر زیادہ بہتر اور محفوظ ہے۔ ہماری رائے اور تجربے کے مطابق اگرچہ انسٹینٹ گیزر قیمت اور گیس کے استعمال کے لحاظ سے سستا پڑتا ہے لیکن اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔

اگر اسے آؤٹ ڈور سائیڈ پر فٹ کروایا جائے تو باہر ہوا تیز ہونے کی صورت میں‌اس کا برنر بار بار بجھتا رہتا ہے۔ اس کے اوپر بارش کا پانی پڑنے سے سیل والے خانے میں‌زنگ لگ جاتا ہے جس کی وجہ سے سپارک سسٹم بند ہونے لگ جاتا ہے اور کئی بار گیزر آن ہی نہیں‌ہوتا۔

اگر تو مکسر پورا کھلا ہے تو پانی کا درجہ حرارت مناسب ملے گا لیکن اگر مکسر سے پانی کا اخراج کم ہے تو گیزر کا برنر فل ہی جلتا رہتا ہے جس کے نتیجے میں‌ پانی بے انتہا گرم آنے لگ جاتا ہے جو آپ کے ہاتھ یا جسم کو جلانے کے ساتھ ساتھ مکسر کے اندر ربڑ کی سیل کو بھی گرم کر کے سخت کر دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ جلد خراب ہو سکتی ہے اور مکسر بند رکھنے پر بھی پانی لیک کرنے لگ جاتا ہے۔

بہت زیادہ گرم پانی کی وجہ سے آپ کی انڈر گراؤنڈ پائپ لائن کا کوئی جوڑ بھی لیک ہو سکتا ہے۔

کئی لوگ انسٹینٹ گیزر کو باتھ روم کے اندر فٹ کروا لیتے ہیں یہ کام بے حد خطرناک ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ گیزر کو ہمیشہ باتھ روم کے باہر کھلی جگہ پر فٹ کروائیں۔

اس کے مقابلے میں‌سٹینڈ والا گیزر پانی کو ایک مخصوص درجہ حرارت سے زیادہ گرم نہیں‌کرتا اور برنر کو بند کردیتا ہے جس کے نتیجے میں‌پانی کا درجہ حرارت کنٹرول میں‌رہتا ہے۔ البتہ اس قسم کے گیزر کو استعمال کرنے کے لیے کچھ سمجھداری سے کام لینا پڑتا ہے ورنہ آپ کا گیس بل بہت زیادہ آ سکتا ہے۔

اس گیزر کے تھرموسٹیٹ کو کبھی بھی فل ہاٹ‌پر نہ رکھیں‌بلکہ وارم پر سیٹ‌کر دیں اس سے آپ کی گیس کی کافی بچت ہو جائے گی۔ جب گھر میں‌فیملی ممبرز کم ہوں‌اور پانی کا ستعمال کم ہو تو تھرموسٹیٹ کو آف کر دیں‌اور صرف پائلٹ کی لو سے بھی گزارے والا گرم پانی مل جائے گا۔

اس گیزر کو وہاں‌فٹ کروائیں‌ جہاں‌ آپ اسے باآسانی روزانہ کی بنیاد پر دیکھ سکیں تاکہ بوقت ضرورت اسے آن یا آف کیا جا سکے، اسے ٹپ فلور پر فٹ نہ کروائیں کیونکہ وہاں‌روزانہ آنا جانا آسان نہیں‌رہتا اور اکثر لوگ گیزر کو ایک بار فل ہاٹ پر سیٹ کرکے بھول جاتے ہیں اور سارا سیزن گیس کا خرچ زیادہ ہوتا رہتا ہے۔

اس کی فٹنگ کرواتے ہوئے اس کے ساتھ سیفٹی والو لازمی لگوائیں۔ یہ سیفٹی والو گیزر کے اندر زیادہ سٹیم جمع ہوجانے پر کھل جاتا ہے اور فالتو پریشر ریلیز کر دیتا ہے اگر یہ والو نہ لگا ہو تو زیادہ پریشر کی وجہ سے گیزر پھٹ بھی سکتا ہے۔ عام پلمبر حضرات سیفٹی والو کے بارے میں‌ نہیں‌ بتاتے اور نہ ہی فٹ‌ کرتے ہیں‌ بلکہ اگر کوئی کہے بھی تو اسے یہ کہہ کر تسلی دے دیتے ہیں‌ کہ چھوڑیں‌ جی اس والو کا کوئی فائدہ نہیں اس کا تھرموسٹیٹ آٹومیٹک ہے اور یہ خود ہی بند ہو جاتا ہے۔

آپ ایسے پلمبر کی باتوں‌میں ہرگز مت آئیں‌ کیونکہ اگر خدانخواستہ تھرموسٹیٹ خراب ہو گیا اور برنر بند نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں‌سارا نقصان آپ ہی کو بھگتنا پڑے گا تب پلمبر کو کوسنے دینے کا کوئی فائدہ نہیں‌ہوگا۔

یہ بات ذہن نشین کر لیں‌کہ جہاں‌ بھی اسٹینڈ والا گیزر فٹ کروانا ہے چاہے وہ لکڑی سے پانی گرم کرتا ہو بجلی سے کرتا ہو یا گیس سے۔۔ اس کے ساتھ سیفٹی والو لگوانا لازمی ہے۔

ایک اور قسم سولر گیزر کی بھی ہے۔ اس کی قیمت تھوڑی زیادہ ہوتی ہے لیکن اس میں‌پانی گرم کرنے پر کوئی خرچ نہیں‌آتا البتہ یہ صرف سورج کی روشنی میں‌کام کرتا ہے اس لیے رات کے وقت اس میں‌پانی گرم نہیں‌ہوتا۔ اگر آپ نے ساتھ بجلی سے گرم کرنے والا سسٹم بطور سٹینڈ بائی لگوایا ہے تو پھر آپ رات کو بھی گرم پانی حاصل کر سکتے ہیں۔

گیزر کی لائف بڑھانے کے لیے گرم موسم میں‌اس کے اندر پانی کا فلو برقرار رہنا چاہیئے۔ اگر گرم سائیڈ‌والی ٹونٹی استعمال نہیں‌کریں‌گے تو گیزر کے اندر کھڑا پانی اندرونی سائیڈ پر زنگ لگنے کا سبب بنے گا اور آپ کا گیزر جلد خراب ہو جائے گا۔

عام طور پر گھروں میں‌گول ہیڈ‌والے مکسر لگائے جاتے ہیں‌جن میں‌ٹھنڈے اور گرم پانی کے ہیڈز الگ الگ ہوتے ہیں اور گرمی کے موسم میں‌عام طور پر ٹھنڈی سائیڈ‌والا ہیڈ‌ہی استعمال میں‌رہتا ہے۔

بہتر یہ ہے کہ ہیڈ‌والے مکسر کی بجائے لیور والا مکسر استعمال کریں اس کو بائیں طرف رکھ کر کھولیں‌گے تو گیزر والا پانی آنا شروع ہو جائے گا اور اس طرح‌پانی کی سرکولیشن گرمیوں‌ میں‌ بھی برقرار رہے گی۔

Gas

Geyser

Winter Season

Comments are closed on this story.

مقبول ترین