لاہور: یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش، معاملہ پسند کی شادی کا نکلا
لاہورکے جنرل اسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج نجی یونیورسٹی کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ کی حالت میں نمایاں بہتری آ گئی ہے اور مریضہ کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے۔
چیئرمین میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کے مطابق طالبہ اب خود سانس لے رہی ہے، تاہم آکسیجن سپورٹ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضہ کے ہیموڈائنامکس مستحکم ہیں اور وہ مکمل ہوش میں آ چکی ہے۔ طالبہ کا گلاسگو کومہ اسکیل 14/15 ریکارڈ کیا گیا ہے اور اس نے اہلِ خانہ سے بات چیت بھی کی ہے۔
پروفیسر جودت سلیم نے بتایا کہ نیورو سرجیکل ٹیم متحرک ہے اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق ممکنہ سرجری کے حوالے سے دوبارہ تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے امیرالدین میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر فاروق افضل کو طالبہ کی موجودہ حالت، اب تک کے علاج اور آئندہ کے طبی لائحہ عمل سے متعلق بریفنگ بھی دی۔
واضح رہے کہ واقعہ پیر کے روز اس وقت پیش آیا جب لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ڈی فارمیسی کی طالبہ فاطمہ نے جامعہ کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا دی تھی جسے شدید زخمی حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال زیر علاج ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق طالبہ کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں کو شدید چوٹیں آئیں اور اس کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ دوبارہ کیے گئے۔
اسپتال کے پرنسپل اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر فاروق افضل نے منگل کو میڈیا کو بتایا تھا کہ فاطمہ کو ساڑھے بارہ بجے اسپتال لایا گیا جہاں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق طالبہ کی حالت پہلے سے کچھ بہتر ہے، لیکن اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں جن میں اس کی صحت یابی کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔
امیرالدین میڈیکل کالج کے پرنسپل کے مطابق فاطمہ کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور اس کا بلڈ پریشر اور نبض معمول پر لانے میں کامیابی حاصل ہو گئی، تاہم اس کی ٹانگوں پر شدید چوٹیں ہیں جن کے لیے خصوصی طبی نگہداشت جاری ہے۔ میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ مکمل صحت یابی کے لیے مزید وقت اور نگرانی درکار ہوگی اور والدین کو ہر لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق طالبہ واقعے والے دن صبح 7 بج کر 58 منٹ پر یونیورسٹی پہنچی، مگر کلاس میں شریک نہیں ہوئی۔ وہ تقریباً 27 منٹ تک فون پر بات کرتی رہی اور بعد ازاں کال ڈیلیٹ کرنے کے بعد عمارت سے چھلانگ لگا دی۔ واقعے کے وقت صبح 8 بج کر 30 منٹ ہو رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ طالبہ کے بھائیوں نے ایک روز قبل اسے نیا موبائل فون دیا تھا۔
واقعے سے متعلق پولیس ابتدائی تحقیقات کے بعد مزید حقائق سامنے لے آئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق فاطمہ اپنے آبائی علاقے نارنگ منڈی کے رہائشی احمد سے پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی، تاہم اہلِ خانہ اس رشتے پر رضامند نہیں تھے اور وہ فاطمہ کو تعلیم جاری رکھنے پر زور دے رہے تھے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ پسند کی شادی نہ ہونے پر طالبہ دلبرداشتہ ہوئی اور اسی ذہنی دباؤ کے باعث اس نے خودکشی کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق فاطمہ کی آخری فون کال بھی اسی نوجوان احمد کے ساتھ ہوئی تھی، جس کے بعد طالبہ نے اس نمبر کو اپنے موبائل فون سے ڈیلیٹ کر دیا تھا۔ پولیس نے احمد نامی نوجوان کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام نے یہ بھی بتایا تھا کہ ابتدا میں یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ طالبہ تعلیمی نتائج سے مطمئن نہیں تھی، تاہم اب تک کی تحقیقات کے مطابق معاملہ زیادہ تر گھریلو نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے بعد جامعہ کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں اور ادارے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرتے ہوئے آن لائن کلاسز کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا اور صورتحال کا مکمل جائزہ لینا ہے۔
اہلِ خانہ نے بھی پولیس کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے جب کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق طالبہ کی حالت میں بہتری حوصلہ افزا ہے، تاہم آئندہ چند دن طبی لحاظ سے اہم ہیں۔
















