حکومت پی ٹی آئی مذاکرات: اسپیکر کی پیشکش کے باوجود اپوزیشن کا رابطے سے گریز

حکومت کا وفد اسپیکر کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وزیراعظم نے بھی اس سلسلے میں گرین سگنل دے دیا ہے: ذرائع
اپ ڈیٹ 07 جنوری 2026 04:03pm

حکومت نے ایک بار پھر اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق ابھی تک تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باقاعدہ رابطہ نہیں کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست کے باوجود اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے لیے کوئی مثبت اقدام سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کا وفد اسپیکر کی ہدایت پر مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وزیراعظم نے بھی اس سلسلے میں گرین سگنل دے دیا ہے، لیکن مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے ہوں گے، غیر منتخب نمائندوں کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے براہ راست رابطہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا، تاہم حکومتی اتحادی واضح طور پر بات چیت کے حق میں ہیں اور ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مذاکرات کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔

انہوں نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے اور ایسا کوئی معاملہ نہیں جسے بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا جا سکے۔

طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف اسپیکر چیمبر میں آتی ہے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر سے متعلق معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اگر تحریک انصاف اپنی گزارشات اسپیکر کو دے دے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف کو اس وقت سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پارٹی خود کنفیوژن کا شکار نظر آتی ہے۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر دو مختلف دھڑے ہیں جو ایک دوسرے سے متضاد باتیں کر رہے ہیں، جس سے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کی آشیرباد کے بغیر مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گی، جس کے باعث بات چیت میں تاخیر ہو رہی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاسی استحکام اور ملکی بہتری کے لیے تمام فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور جمہوری طریقے سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

قبل ازیں، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سنجیدہ مذاکرات کی خواہاں ہے اور اب فیصلہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے آگے آتی ہے یا نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کھلے عام کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان ملک میں تشدد اور انتشار کی سیاست کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کسی نئے 9 مئی جیسے واقعے کی تلاش میں ہیں اور ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے پہیہ جام ہڑتال کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن وہ اپنے مقاصد میں ناکام ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے چاہئیں اور مسائل کا حل صرف بات چیت اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ آئینی اور جمہوری عمل کے تحت مذاکرات میں حصہ لے کر ملک میں پائیدار امن اور استحکام قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

Rana Sanaullah

sardar ayaz sadiq

PTI Government Talks

opposition and govt negotiations