اپوزیشن کے الزامات پر اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی میڈیا سے ملاقات
اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں لگائے گئے الزامات کے بعد لاہور میں میڈیا نمائندگان سے ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی ملاقات ہوئی ہے جس میں ملکی سیکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات اور حالیہ سیاسی بیانات سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں اپوزیشن لیڈر کے پاک فوج سے متعلق حالیہ بیان کو افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کسی سیاسی عمل میں مداخلت کرتی ہے۔ ان کے مطابق بات چیت اور سیاسی مذاکرات تمام سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے جبکہ قانونی اور عدالتی معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے ہی کرنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ کوئی بھی بیانیہ فوج اور عوام کے درمیان تعلق کو کمزور نہیں کرسکتا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ فوج اور عوام کا رشتہ باہمی اعتماد پر قائم ہے اور تعلیمی اداروں کے حالیہ دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
ذرائع کے مطابق فوج کا بیانیہ صرف پاکستان ہے اور قومی سلامتی کے معاملے پر تمام طبقات کو متحد رہنا ہوگا۔
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا سیکیورٹی فورسز کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خاتمے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے اور قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم ہونے کے بجائے متحد رہ کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق کیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ہی بنیادی کنجی ہے اور اس سلسلے میں خیبر پختونخوا میں ہونے والی حالیہ میٹنگز کو خوش آئند قرار دیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ ملک میں ہونے والی تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ جبکہ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے میں ملوث حملہ آور کو دہشت گردی کی تربیت افغانستان میں دی گئی۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں تاکہ ملک میں امن و امان کو یقینی بنایا جاسکے۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تین سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ہوتی تھی جو اب ختم ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والا پیسہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا رہا ہے اور گڈ گورننس ہی دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔
ملاقات کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جس طرح ماضی میں قومی اتحاد کے ذریعے بیرونی خطرات کا مقابلہ کیا گیا، اسی طرح دہشت گردوں کو بھی شکست دی جاسکتی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر یکجہتی اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔















