عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے منظور

سزا معطلی کی درخواستوں پر 11 مارچ کو تفصیلی سماعت ہوگی۔
شائع 26 فروری 2026 01:21pm

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس (القادر ٹرسٹ کیس) میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لیے منظور ہوگئی ہے۔ عدالت نے جلد سماعت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کو 11 مارچ کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

جسٹس خادم سومرو پر مشتمل بینچ نے جمعرات کو درخواستوں پر سماعت کی۔ اس دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے اپیل پر مختلف اعتراضات عائد کیے گئے تھے، لیکن انہیں ان اعتراضات کے بارے میں پہلے سے آگاہی نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی گئیں تو اس وقت انہیں ان اعتراضات کا علم ہوا۔

سلمان صفدر نے کہا کہ ایسے اعتراضات لگائے گئے جو بنتے ہی نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکالت نامہ پرانا ہونے کا اعتراض لگایا گیا، تاہم بعد میں وہی وکالت نامہ تسلیم بھی کر لیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اعتراض کیا گیا کہ صفحات پر فلیگ نہیں لگائے گئے اور ترتیب درست نہیں ہے۔

اس پر جسٹس خادم سومرو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی اپیلوں پر باقی اعتراضات دور کر رہے ہیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ صفحات کو فلیگ کر لیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیس اعتراضات کے ساتھ کیوں مقرر کیا گیا ہے۔

جسٹس خادم سومرو نے وکیل کو ہدایت دی کہ باقی اعتراضات دور کرنے کے لیے انہیں سات دن کا وقت دیا جا رہا ہے۔

سلمان صفدر نے عدالت سے کہا کہ وہ پہلی بار پیش ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں خالی ہاتھ واپس نہ بھیجا جائے۔ اس پر عدالت نے قرار دیا کہ آپ کی دونوں متفرق درخواستیں منظور کر لی گئی ہیں۔

عدالت کے حکم کے مطابق اب سزا معطلی کی درخواستوں پر 11 مارچ کو تفصیلی سماعت ہوگی۔